قوم دھرنوں کو ناپسندیدہ عمل اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے،نواز شریف

قوم دھرنوں کو ناپسندیدہ عمل اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے،نواز شریف

                                         راولاکوٹ(اے این این) وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ قوم دھرنوں کو ناپسندیدہ عمل اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے،دھرنوں نے ملک کی اقتصادی ترقی ڈی ریل کرنے کی کوشش کی ،عوام نے دھرنوں کی سیاست کو مسترد کر دیا،چینی صدر کے دورے سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط ہونا تھے ،بارشوں سے تباہی افسوسناک ہے ،متاثرین سیلاب کی مدد کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،لوگ جہاں بھی مشکل میں ہونگے وہاں ضرور پہنچوں گا،راولپنڈی مظفرآباد ٹرین سروس منصوبہ2سال میں مکمل ہو گا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے آزاد کشمیر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے موقع پر راولاکوٹ میں متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نوازشریف نے کہاہے کہ کشمیر اور پاکستان میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہی افسوسناک ہے ۔تباہی گنجائش سے زیادہ پانی آنے کی وجہ سے ہوئی ۔دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سندھ کو آنے والے سیلاب سے بچائے ۔ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی مکمل بحالی تک امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔میں سیالکوٹ میں نقصانات کا خود مشاہدہ کرکے آیا ہوں اور آج یہاں آزادکشمیر میں بھی نقصانات کا جائزہ لیاہے ۔تمام اداروں کو بروقت امداد کیلئے ہدایات جاری کی جاچکی ہیں ۔متاثرین دکھ کی گھڑی میں اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کا ہر علاقہ مجھے عزیز ہے ۔جہاں بھی کوئی مسئلہ ہوگا،لوگ مشکل میں ہوں گے وہاںضرور جاﺅں گا ۔میرے لیے آزادکشمیر گلگت بلتستان ¾پنجاب ¾سندھ ¾بلوچستان اور خیبر پختونخوا سب برابر ہیں۔ہماری پوری توجہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی پر ہے ۔بارشوں سے ہونے والی تباہی صرف آزادکشمیر تک محدود نہیں بلکہ پنجاب میں بھی تباہی ہوئی ہے ۔تباہی سے جانی و مالی نقصان افسوسناک ہے ۔مالی امداد انسانی زندگی کا نعم البدل نہیں ہوسکتی ۔جو امدادی دی گئی وہ اس سے بھی زیادہ امداد کے مستحق ہیں ۔سیلاب اور بارشوں میں لوگ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔مکانات اور فصلیں تباہ ہوئی ہیں ۔اس حوالے سے ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔جہاں جہاں نقصانات ہوئے ہیں ان کا ازالہ کیا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں ہماری کچھ مصروفیات سرکاری اور کچھ لوگوں نے مصروف کیاہواہے ۔قوموں پرمسائل آتے ہیں گھبرانا نہیں چاہیے ۔پوری قوم دھرنوں کو ناپسند کررہی ہے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے ،عوام نے دھرنوں کی سیاست مسترد کر دی ہے،دھرنوں سے اقتصادی ترقی کا سفر روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔چین کے صدر نے دھرنوں کے باعث دورہ ملتوی کیا۔چین کے صدر نے دورے کے دوران میگاپراجیکٹس کے معاہدوں پر دستخط کرنے تھے ۔دھرنوں نے ہماری آدھی ترقی کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہماری خواہش ہے کہ آزادکشمیر ترقی کرے اور جگہ جگہ ترقیاتی منصوبے شروع ہوں ۔اسلام آباد سے مظفر آباد ریلوے منصوبے کی فزیبلٹی تیار کی جارہی ہے ۔منصوبہ انشاءاللہ دو سال تک مکمل ہوگا۔مظفر آباد سے لے کر میر پور تک ایکسپریس وے بھی بنائی جائے گی ۔راولاکوٹ اور مظفر آباد ایئرپورٹ کو توسیع دیں گے ۔وسائل ہوں تو آزادکشمیرمیں بڑی ترقی ہوسکتی ہے ۔کشمیر کو سیاحت کا مرکز بنائیں گے ۔دنیا بھر سے یہاں لوگ سیاحت کیلئے آتے ہیں ۔آزادکشمیر کے لوگ کسی سے کم نہیں ہیں۔آزادکشمیر میں صنعتوں کے قیام کیلئے بہترین جگہ ہے ۔آزادکشمیر کی ترقی کیلئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔سیلاب کی صورتحال سے نکل کر آزادکشمیر کے حوالے سے بیٹھ کر منصوبہ بندی کریں گے جس کے باعث آزادکشمیر میں ترقیاتی منصوبے شروع ہوں گے ۔قبل ازیں نواز شریف سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے پر راولاکوٹ پہنچے تو صدر آزاد کشمیر سردار محمد یعقوب،وزیرا عظم آزاد کشمیر،آزاد کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ فاروق حیدر اور کابینہ کے ارکان نے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر چیف سیکرٹری آزاد کشمیر نے وزیر اعظم کو بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک 64 افراد جاں بحق اور109زخمی ہوئے ، 24 ہزار افراد بے گھرہوئے ہیں جبکہ سیکڑوں مکانات، 12 پل اور بجلی کے منصوبوں کو نقصان پہنچا ہے۔1800 گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے ۔ 185 دکانوں کو بھی نقصان ہوااور ٹرانسمشن لائنوں اور بجلی کے 9 منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا ۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی بحال کر دی گئی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو خیمے ، خوراک اور دیگر اشیا فراہم کی جا رہی ہیں ۔ ضلعی انتظامیہ نے پاک فوج کی مدد سے 1122 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ دریائے جہلم ، نیلم اور پونچھ میں اونچے درجے کا سیلاب ہے ۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ موسلادھار بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ سے بنیادی ڈھانچے کو بڑا نقصان پہنچا، بڑی رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں ۔بارشوں سے دریائے جہلم میں اونچے درجے کا سیلاب آ گیا، بارشوں سے دریائے جہلم، پونچھ اور نیلم میں اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ متاثرہ خاندانوں کو خیمے، خوراک اور غیر خوردنی اشیا فراہم کی جا رہی ہیں۔ بارشوں سے متاثرہ تمام علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہیں اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور این جی اوز متاثرین کو امداد فراہم کر رہی ہیں۔اس موقع پر وزیر اعظم نے سیلاب سے متاثرہ افراد میں امدادی چیک بھی تقسیم کئے۔نواز شریف نے میر پور،مظفر آباد اور سیلاب سے متاثرہ دیگر علاقوں کی بھی فضائی دورہ کیا اور نقصانات کا جائزہ لیا۔

مزید : صفحہ اول