بلوچستان میں خفیہ کاروائیاں بند کر کے امن کیلئے مذاکرات کی راہ اپنائی جائے ،سراج الحق

بلوچستان میں خفیہ کاروائیاں بند کر کے امن کیلئے مذاکرات کی راہ اپنائی جائے ...

                                      اسلا م آباد(پ ر)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاہے کہ بلوچستان میں ہر قسم کی خفیہ کاروائیاں بند کر کے امن کے لیے مذاکرت کی راہ اپنائی جائے ۔ جماعت اسلامی 20اکتوبر کو اسلام آباد میں بلوچستان کے مسئلہ پر قومی کانفرنس بلائے گی جس میں بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا جائےگا۔ نواب اکبر بگٹی کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں ۔ بلوچستان کی سیاسی اور غیر سیاسی قیادت کو قومی دھارے میں لانے کے لیے آپریشن روک کر ان کے ساتھ بات چیت کی جائے ۔ جب تک اسٹیبلشمنٹ مذاکرات میں شامل نہیں ہوگی ، بلوچ قیادت کسی قسم کے مذاکرات پر اعتماد نہیں کرے گی ۔ اٹھارویں ترمیم میں صوبوں سے جن حقوق کا وعدہ کیا گیاتھا، اس وعدے پر عملدرآمد کیاجائے۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے اسلام آباد میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ پریس کانفرنس میںسیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان، میاں محمد اسلم ، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد زبیر فاروق ، سجاد عباسی اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم بھی موجود تھے۔سراج الحق نے کہاکہ گزشتہ 68سال سے بلوچستان میں کسی حکومت کو آزادانہ کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا بلکہ اسلام آباد میں بیٹھ کر صوبائی حکومتوں کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلانے کی کوشش کی گئی ۔انہوں نے کہاکہ افغانستان پر روس کے حملے اور امریکی جنگ کے سب سے زیادہ تباہ کن اثرات کا سامنا بلوچستان کو کرنا پڑا ۔ ایک امریکی کال پر ڈھیر ہو نے والے مشرف نے اسلام آباد میں بیٹھ کر بلو چستان کے عوام کو مکے لہرا لہرا کر ڈرانے کی کوشش کی اور بگٹی کی شہادت نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں علیحدگی کی کوئی تحریک نہیں لیکن مسلسل نظر انداز کیے جانے اور عوام کو تعلیم ، صحت اور روزگار کی سہولتیں نہ دینے سے ہزاروں نوجوان پہاڑوں پر چلے گئے اور سماجی زندگی سے الگ ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حالات کا تقاضا ہے کہ بلوچستا ن کے مسئلہ کو سنجیدگی سے لیا جائے اور مروجہ سیاسی نظام کی بجائے عوام کی شرکت سے حقیقی جمہوری نظام اپنایا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ اٹھارویں آئینی ترمیم سے بہت سی توقعات تھیں مگر اس پر صحیح انداز میں عمل نہ ہونے سے صوبوں کو کوئی خاص ریلیف نہیں ملا ۔ ضرورت ہے کہ اٹھارویں ترمیم پر کماحقہ عمل درآمد کیا جائے ۔سراج الحق نے کہاکہ لاپتہ افراد کا مسئلہ انتہائی گھمبیر صورت اختیار کر چکاہے اور لاپتہ افراد کے وارثین جگہ جگہ ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے دھرنے دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ یہ جموری اور مہذب معاشرے کے دامن پر ایک بدنما داغ ہے حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس داغ کو دھونے کی کوشش کرے ۔انہوں نے کہاکہ گیلانی حکومت میں حقوق بلوچستان پیکیج کے نام پر صوبے کو ریلیف دینے کے بلند و بانگ دعوے کیے گئے مگر ان پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوسکااور نہ ہی نوجوانوں کو روزگار دینے کے وعدوں پر عملدرآمد کیا گیا بلکہ جن نوجوانوں کو روزگار دیا گیا، انہیں بھی چار پانچ ماہ کا کوئی معاوضہ نہیں دیاگیا۔انہوں نے کہاکہ سوئی گیس اور بلوچستان سے نکلنے والے معدنی وسائل پر بلوچستان کا حق تسلیم کیا جاناچاہیے اور موجودہ حکومت کو اپنے وعدوں پر عملدرآمد کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں چالیس سے زائد صحافیوں کو مختلف اوقات میں قتل کر دیا گیاہے مگر ان کے قاتلوں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ صحافیوں کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

مزید : صفحہ اول