عمران اور طاہر القادری کے خفیہ مقاصد کچھ اور ہیں

عمران اور طاہر القادری کے خفیہ مقاصد کچھ اور ہیں
عمران اور طاہر القادری کے خفیہ مقاصد کچھ اور ہیں

  

تجزیہ :چودھری خادم حسین

              اسلام آبادمیں دھرنا سیاست میں مزید کوئی تبدیلی نہیں آئی ، ابھی تک حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات کا بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا، پارلیمنٹ کا اجلاس پھر شروع ہوگیا اور درخواست کی سماعت بھی ہوئی ، ان حالات میں تجزیہ کیا اور کن امور کا کس پیرائے میں ہو اس کا کوئی سرپیر بھی نظر نہیں آتا، اس لئے بہتر ہوگا کہ آج تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے مطالبات کے حوالے سے ایک عام سی بات کرلی جائے جو اب پارکوں اور گلی محلوں میں پوچھی جانےض لگی ہے، عمران خان مصر ہیں اور کہتے ہیں۔ مذاکرات ہوتے رہیں دھرنا جاری رہے گا ،میں استعفا لئے بغیر نہیں جاﺅں گا، مراد یہ ہے کہ وزیراعطم استعفا دیں ، اس کے ساتھ ہی وہ یہ کہتے ہیں کہ دھاندلی کی تحقیقات کرائی جائے اور کرپشن کے کیس بنائے جائیں ، تحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیم نے جو دستاویزی مطالبات دیئے ان پر عمل کے لئے آئین میں ترامیم اور قوانین کے نفاذ کی ضرورت ہے جو پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے۔ دوسری طرف ڈاکٹر طاہرالقادری انقلاب کی بات کرتے ہیںوہ کہتے ہیں اس پارلیمنٹ سے کوئی توقع نہیں اور موجودہ نظام میں کچھ نہیں ہوسکتا، اس کے لئے انہوں نے اپنا تفصیلی پروگرام مرتب کیا ہوا ہے، ان کا مرکزی مطالبہ بھی یہی ہے کہ استعفا دو، وہ میاں نواز شریف کے ساتھ میاں شہباز شریف کا استعفا مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دونوں بھائی عہدے چھوڑیں اور ان کو قتل کے الزام میں جیل بھیجا جائے کہ 17جون کے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی ایف آئی آر درج ہوچکی ہے۔

اب دونوں حضرات نے جو تقاریر کی ہیں ان سے ان کے عزم اور ارادے کا اظہار ہوتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ ان کی زبان سے نکلے ہوئے مطالبات کی روشنی میں یہ ممکن ہے کہ ایسا ہوجائے، اگر وزیراعظم مستعفی بھی ہوں، یا چھٹی پرجائیں تو کیا ایوان میں عمران خان کو اتنی اکثریت حاصل ہے کہ وہ وزیراعظم بن سکیں اس صورت میں تو نواز شریف سامنے سے ہٹ بھی جائیں تو انہی کی جماعت کا ہی وزیراعظم ہوگا جو اسحٰق ڈار اور چودھری نثار بھی ہوسکتا ہے، اس سے ان کا مقصد تو پورا نہیں ہوگا چنانچہ اس کے بعد بھی دھرنا نہیں چھوڑیں گے، جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری تو اسمبلیوں میں ہیں ہی نہیں ، اس لئے وہ توکہیں بھی نہیں جائیں گے اس لئے ایک عام آدمی یہی کہتا ہے کہ یہ سب کیمو فلاج ہے، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں، ورنہ جو مذاکرات ہورہے ہیں ان کے ذریعے انتخابی اصلاحات 2013ءکے انتخابات کی تحقیقات ، کرپشن کی گرفت کے لئے نیا احتساب بیورو، یہ سب پارلیمنٹ ہی کے ذریعے ہونا ہے تو پھر مذاکرات میں طے کیوں نہیں کرلیاجاتا؟ روزانہ مرنے مارنے کی دھمکی کیوںدی جاتی ہے؟ اب تو عام آدمی دکھی اور پریشان ہے کہ ایم کیوایم کے قائدالطاف حسین کی اچھی تجویز پر بھی غور نہیں کیا جارہا، ملک سیلاب کی لپیٹ میں ہے، لوگ بے گھر ہوگئے، سینکڑوں لقمہ اجل بنے، کروڑوں کا نقصان ہوگیا، تونگر پل بھر میں فقیر ہوگئے اور یہ دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کسی ماورائے آئین اقدام کی توقع لئے بیٹھے ہیں، اور جب آنیاں جانیاں والے شیخ رشید کہتے ہیں کہ اسی ماہ کے اندر کچھ ہوجائے گا تو ان کے مطابق لوگ بے وقوف ہیں کہ ان کا مطلب نہیں سمجھتے، اب تو یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ شیخ رشید خصوصی کھیل کھیل رہے ہیں، اور دھرنا والے اب زبردستی یا تشدد چاہتے ہیں کہ ان کی حکمت عملی ناکام ہونے سے پہلے فساد کی شکل ہوجائے۔ یہ حضرات ایسے خود سے نہیں جانا چاہتے اب دیکھنا یہ ہے کہ پارلیمنٹ اور عدالت عظمیٰ حتمی طورپر کیا فیصلہ کرتی ہے، اس کے بعد ہی صورت حال واضح ہوگی۔ ابھی تک تو ڈی چوک اور اس کے اردگرد ایک بستی بس گئی ہے ، اس کی تصاویر اور ویڈیوز دنیا بھر میں چھپ رہی اور دیکھی جارہی ہیں اس سے پاکستان کے بارے میں کیا تاثربنتا ہے؟

ویسے ڈاکٹرطاہر القادری سے یہ تو پوچھا جاسکتا ہے کہ دنیا میں،ماضی قریب کا انقلاب تو ایرانی انقلاب ہے، جب امام خمینی تہران اترے تو ان کے لئے پوری قوم تو اپنی جگہ پولیس اور فوج بھی چشم براہ تھی، کیا ڈاکٹر صاحب یہاں تک پہنچ چکے ہیں؟

مزید : تجزیہ