فلڈ کمیشن 2010کی رپورٹ پر 3سال بعد بھی عمل نہ ہو سکا

فلڈ کمیشن 2010کی رپورٹ پر 3سال بعد بھی عمل نہ ہو سکا
فلڈ کمیشن 2010کی رپورٹ پر 3سال بعد بھی عمل نہ ہو سکا

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک میں ہونے والی طوفانی بارشوں کے نتیجے میں جہاں ایک بار پھر سیلاب کی صورتحال کا سامنا ہے تو دوسری جانب یہ انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے قائم شدہ فلڈ کمیشن 2010کی رپورٹ پر آج تین سال بعد بھی عمل نہیں کیا گیا۔ یہ کمیشن وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی ہدایت پر جسٹس منصور شاہ کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا جس نے اپنی رپورٹ ۲۰۱۱ میں صوبائی حکومت کو ارسال کر دی تھی جس پر عمل درآمد کا ابھی تک آغاز نہیں ہوا بلکہ رپورٹ میں ذمہ دار قرار دئے جانے والے افسران آج بھی وفاقی اور صوبائی حکومت میں اعلی عہدوں پر تعینات ہیں۔ اس کمیشن نے سیلاب سے آنے والی تباہی کا اصل ذمہ دار مختلف جگہوں سے پانی روکنے کے لئے بنائے گئے بندوں کا توڑا جانا بتا کر مختلف سرکاری افسران اور سیاسی شخصیات کی نشاندہی بھی کی تھی۔ دوسری جانب سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی جانب سے جاری کی جانے والی رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں تھی اور حکومت کی جانب سے قائم کردہ ایک کمیٹی نے اس کا جائزہ لے کر اس کو غلط قرار دے دیا تھا اسی لئے اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس ضمن میں جوڈیشل کمیشن کی غلط تحقیقات یا سیلاب کی ذمہ داری کسی پر ڈالنے سے متعلق بھی آج تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ یاد رہے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی جانب سے کمیشن کے قیام کے وقت یہ اعلان کیا گیا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ جو بھی ہو گی اس پر من و عن عمل جائے گا۔

مزید : قومی /اہم خبریں