کے پی کے میں تبدیلی کا آغاز کر دیا، مولانا صاحب! اگر کل کے انتخاب میں دھاندلی کا شک ہے تو آئیں تحقیقات کروا دیتے ہیں:عمران خان

کے پی کے میں تبدیلی کا آغاز کر دیا، مولانا صاحب! اگر کل کے انتخاب میں دھاندلی ...
 کے پی کے میں تبدیلی کا آغاز کر دیا، مولانا صاحب! اگر کل کے انتخاب میں دھاندلی کا شک ہے تو آئیں تحقیقات کروا دیتے ہیں:عمران خان

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت ظلم کا نظام ہے، عوام اس کے خاتمے کے لئے نکل آئیں اور جعلی وزیر اعظم کو نکال باہر کر دیں۔عام انتخابات میںشدید دھاندلی ہوئی تھی، کل ڈی آئی خان میں تحریک انصاف نے تمام پارٹیوں کے خلاف کامیابی حاصل کی، کسی کو دھاندلی کا شک ہے تو آئیں تحقیقات کروا لیتے ہیں، خیبر پختونخواہ میں نظام تبدیل کرنے کا آغازکر دیااور 50 ہزار لوگوں کو10 روپے فی کلو پر آٹا ،40 روپے فی کلو گھی اور اسپتالوں کی ایمر جنسی میں مفت دوئیاں اور علاج کر رہے ہیں۔

آزادی مارچ کے شرکاءسے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ عام انتخابات میں بد ترین دھاندلی ہو ئی، بھکر میںمجید اللہ خان کو 98ہزار اور آزاد امیدوار 92 ہزار ووٹ ملا، 40گھنٹوں تک نتیجہ روکا گیا، اس دوران 23پریذائیڈنگ افسران غائب کر دیئے گئے، جب نتیجہ سامنے آیا تو 13ہزارووٹ مسترد کر دئیے گئے۔ اسفند یار خان کہتے ہیں کہ کے پی کے میں دھاندلی ہوئی تھی تو ان کا شاید یاد نہیں کہ پی کے 10میں ہمارا امیدوار شاہ فرمان جیتاتو اس پردھاندلی کا لزام اے این پی کی جانب لگایا گیا ،اسی وقت دوبارہ گنتی ہوئی اور تحریک انصاف ہی دوبارہ جیت گئی، اگر ہماری جگہ ن لیگ ہوتی تو عدالت سے اسٹے آڈر لے لیتی۔ کل ہونے والے ضمنی انتخاب میں ڈی آئی خان میں پانچ جماعتوں نے مل کر تحریک انصاف کا مقابلہ کیا مگر تحریک انصاف پھر بھی جیت گئی، میں مولانا فضل الرحمن سے کہتا ہوں اگر دھاندلی کا شک ہے تو بتائیں ابھی تحقیقات کروا دیتے ہیں۔ انہوں نے ایاز صادق خان کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے الیکشن ٹھیک جیتا ہے تو عدالت سے اسٹے آرڈر لے کرکیوں بیٹھے ہیں؟ قائد تحریک انصاف نے کہا کہ میاں نواز شریف نے حکومت میں آتے ہی 500ارب روپے پاور پروڈیوسرز کو دے دیئے گئے، جس کا کوئی آڈٹ نہیں کیا گیا اور آڈیٹر جنرل آف پاکستا ن کو اس سے لاعلم رکھا گیا۔ سرکلر ڈیٹ واپس آ گیا اور بجلی بھی مہنگی ہو گئی۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مطابق سستی روٹی اسکیم میں ۲۵ ارب جھونکے گئے، ایک لاکھ دس ہزار لیپ ٹاپس دیئے گئے، وہ لیپ ٹاپ 20ہزار کا تھا جو 308ہزار میں خریدا گیا اور۱۰۰ کروڑ تو صرف اشتہار بازی میں ضائع کر دیا گیا۔

 انہوں نے خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی کارکردگی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں کرپشن پر قابو پالیا ہے، 300سے زائد افسران کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کر کے30 کروڑ روپے برآمد بھی کئے۔ ہم نے28 فیصد بجٹ تعلیم پر لگایا، 15ہزار اساتذہ کو این ٹی ایس کے ذریعے شفاف طریقے سے تعینات کیا۔ لڑکیوں کے لئے ایک ہزار کمیونٹی اسکول کھولے ہیں، اورنئے بننے والے اسکولوں میں ۷۰ فیصد لڑکیوں کے اسکول ہوں گے۔ خیبر پختونخواہ میں50 ہزار لوگوں کو10 روپے فی کلو پر آٹا ،40 روپے فی کلو گھی اور اسپتالوں کی ایمر جنسی میں مفت دوئیاں اور علاج کر رہے ہیں۔دوسری جانب اسلام آباد میں نواز شریف اور نثار علی خان کے خلاف مظاہرین پر تشدد کی ایف آئی آر درج نہیں کی جا رہی، مگر ہم بھی یہ ایف آئی درج کروا کر ہی رہیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ جب ہم بڑے ہو رہے تھے تو ایک وقت آیا کہ ہم نے وہ پاکستان دیکھا ہے جہاں پڑھنے کے لئے لوگ ملائیشیا اور کوریا سے یہاں آتے تھے، ہر میدان میں یہاں ترقی ہو رہی تھی۔ اس دور میں کرکٹ، اسکوائش اور ہاکی کی کھیلوں میں ہم چیمپئین ہوا کرتے تھے اور اس سال ہاکی ورلڈ کپ میں ہماری ٹیم کوالیفائی ہی نہیں کر سکی۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوںآج پھر عوام جاگ گئی ہے اور سب متحد ہو گئے ہیں لہذاٰاب کوئی طاقت ان کو نہیں روک سکتی اور یہ قوم تبدیلی لا کر ہی رہے گی۔کپتان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا واحد سیاست دان ہوں جس کی پرورش فوج نے نہیں کی، میں نے زندگی میں بہت کچھ دیکھا، بلوچستان کے ان علاقوں میں گیا جہاں بلوچ بھی نہیں گئے، سارے قبائلی علاقوں میں گیا اور عجیب و غریب چیزیں دیکھیں۔زندگی کے ہر میدان میں مجھے کہا کیا کہ تم یہ نہیں کر سکتے لیکن میں نے کر دکھایا،میں زندگی میں دوسروں سے آگے اس لئے نکل گیا کہ میں ہار نہیں مانتا تھا اور ہار نہ ماننے والے کو کوئی ہرا نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں دھرنے کے شرکاءکو مبارکباد پیش کرتا ہوںآج دھرنے کو ۲۷ دن مکمل ہو گئے ہیں، جہاد سے بہتر کو ئی جدوجہد نہیں اس لئے ساری قوم باہر نکل آئے اور اس جعلی وزیر اعظم کو اقتدار سے نکال باہر کریں۔کوئی قوم جو سوچ کے بغیر ہوتی ہے وہ ختم ہو جاتی ہے، اس لئے پاکستانیو دیر مت کرو، اپنے حقوق کے لئے باہر نکلو۔ اسلامی فلاحی ریاست کا قیام قائد اعظم اور علامہ اقبال کا خواب تھا، مدینہ میں بھی فلاحی ریاست قائم ہوئی تھی جس میں تمام انسان برابر تھے، جہاں انصاف کا بول بالا تھا، ایساہی نظام قائم کرنا ہماری منزل ہے۔

شرکاءسے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ معاشروں میں انسانوں کی عزت ہوتی ہے، عراق کی جنگ کے خلاف برطانیہ میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے،یورپ میں جانوروں کو بھی پاکستان میں شہری حقوق سے بہتر حقوق حاصل ہیں، اس وقت تک ہمارے ملک میں اللہ کی رحمت نہیں آئے گی جب تک ہم انسانوں کی قدر نہیں کریں، ظلم کا نظام ایسے ہی چلتا رہے گا جب تک آپ ان قبضہ گروپوں کے خلاف اٹھ نہیں کھڑے ہوں گے۔

مزید : قومی /اہم خبریں