عوام دوست منصف کی ریٹائرمنٹ

عوام دوست منصف کی ریٹائرمنٹ

  



90ء کی دہائی کے آخر سے میں پیشہء وکالت سے منسلک ہوں اور اس وقت جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب ایک نامور قانون دان اور پیشہ وارانہ اعتبار سے اوج کوثر پر تھے۔ وہ ایک مخلص اور ایماندار وکیل کی شہرت کے حامل تھے۔ اس لئے کچھ ہی عرصے بعد انہیں لاہور کی عدالت عالیہ میں منصف کے عہدے پر فائز کردیا گیا۔ وقت نے ثابت کیا کہ نہ صرف خواجہ صاحب اس عہدے کے لائق تھے بلکہ وہ اس عہدے کے وقار کا باعث بھی بنے۔

جج کی حیثیت سے فرائض سنبھالنے کے چند دنوں میں ہی ان کی شہرت ایک قابل مضبوط، غیر جانبدار اور غیر چہرہ شناس جج کے طور پر ہوگئی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب جس فرم میں بطور وکیل پارٹنر رہے، غیر معمولی بات تھی کہ اس کے سینئر پارٹنر جناب حامد خان صاحب ان کے سامنے کسی مقدمہ میں معاونت کیلئے پیش ہوں۔ عموماً جج صاحبان ایسی صورت میں اپنی شہرت کو تنقید سے بالا رکھنے کیلئے اپنے رشتہ داروں، دوست احباب، رفقاء اور سابق پارٹنرز کے مقدمات سے غیر منسلک کرلیتے ہیں لیکن خواجہ صاحب نے حامد خاں صاحب کے مقدمات سنے بھی اور قانون کے مطابق نمٹائے بھی جن میں سے کئی مقدمات پہلی پیشی پر مسترد بھی کئے۔ اسی طرح جناب طارق کمال قاضی صاحب بینکنگ اور کاروباری قوانین میں اچھی شہرت کے حامل وکیل ہیں، جسٹس خواجہ صاحب کے قریبی ترین دوستوں میں سے ایک ہیں خواجہ صاحب کی عدالت میں پیش ہونے سے قبل میں نے انہیں عموماً زیادہ تیاری کرتے پایا اور ان کے مقدمات خارج ہونے کا بھی میں عینی شاہد ہوں۔

جسٹس خواجہ صاحب کی عدالت عالیہ میں تقرری ابھی بطور مستقل نہ ہوئی تھی کہ وہ ایک ایسے ڈویژن بنچ کا حصہ بنائے گئے جس کی سربراہی جناب جسٹس قیوم صاحب کررہے تھے۔ جسٹس قیوم صاحب کا شمار اس وقت لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج صاحبان میں ہوتا تھا اور وہ قانونی مہارت کے علاوہ ایک رعب دار شخصیت کے مالک تھے۔ عام مشاہدے کی بات ہے کہ ڈویژن بنچ میں عموماً جونیئر جج صاحبان اور خصوصاً ایسے جونیئر جج جن کی تقرری ابھی مستقل نہ ہوئی ہو سینئر جج صاحبان سے فیصلوں میں اختلاف رائے کے اظہار سے گریز کرتے ہیں۔ لیکن جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب نے منصفی کے آغاز ہی سے جسٹس قیوم صاحب کے ڈویژن بنچ میں اختلاف رائے کا اظہار کرکے اپنی آزادی اور خود مختاری کی شہرت کے جھنڈے گاڑ دئیے۔

جسٹس جواد خواجہ صاحب سے زیادہ کسی جج کو میں نے لغو اور بے بنیاد مقدمات کو پہلی پیشی پر خارج کرتے نہیں دیکھا وہ برملا وکلاء سے کہتے کہ اگر میں مطمئن ہوں کہ آپ کا مقدمہ بے بنیاد ہے تو میں دوسرے فریق کو طلب نہیں کروں گا کیونکہ یہ صریحاً ناانصافی ہوگی۔ ایسے مقدمات میں طلبی پر فریق مخالف پریشان ہوگا۔ رقم خرچ کرکے وکیل پیش کرکے عدالت کو آکر بتائے گا کہ یہ مقدمہ بے بنیاد اور لائق اخراج ہے، میں پہلے سے جانتا ہوں۔ آپ اگر میرے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں تو جاکر اپیل کردیں۔ عموماً وکلاء ایسے رویے کو ہرگز قبول نہیں کرتے لیکن چونکہ خواجہ صاحب کی روش بڑے بڑے نامور اور شہرت یافتہ وکلاء کے مقدمات پر بھی یکساں اثر انداز ہوتی تھی اس لئے وہ بے جا تنقید سے بچ جاتے تھے۔

خواجہ صاحب بطور جج وقت کے پابند اور بے جا التوا کے خلاف تھے۔ یقیناً مقدمات کا بے جا التوا نظام عدل کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک ہے اس لئے انہوں نے اس سے ہمیشہ ترجیحی بنیادوں پر نمٹنے کی کوشش کی۔ عدالت عالیہ میں ان کے جو مقدمات سماعت کے لئے پیش ہوتے تھے وکلاء کو عموماً یقین ہوتا تھا کہ جج صاحب سماعت کرکے فیصلے کی پوری کوشش کریں گے اور التوا صرف انتہائی ضرورت کے تحت ہوگا انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے پیشی ہوگی۔

جسٹس جواد صاحب کے فیصلوں کا مرکز عموماً سائیلان کے اصل قانونی حقوق (Substantive right) ہوتے نہ کہ ایسے قواعد و ضوابط جنہیں وکلاء اکثر تاخیری حربوں کے طورپر بروئے کار لاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ایسے قواعد و ضوابط کی بے قاعدگیوں کو اصل حقوق کے تعین اور اطلاق میں رکاوٹ کا باعث نہ بننے دیتے۔

ایک مضبوط کردار غیر جانبدار، بلا خوف و خطر فیصلہ صادر فرمانے والے منصف کے علاوہ جسٹس جواد خواجہ صاحب کی غیر معمولی قابلیت اور قانونی مہارت بھی ان کی وجہ شہرت رہی۔ اس ضمن میں ان کی گراں قدر خدمات کا احاطہ کرنا اس کالم میں ممکن نہیں اس موضوع کو ایک نئے کالم کے لئے موخر کررہا ہوں۔

سال 2007ء میں جب افتخار چودھری صاحب کو بطور چیف جسٹس پاکستان ہٹائے جانے کے خلاف وکلاء تحریک کو مسخ کرنے کی غرض سے اس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ افتخار حسین چودھری صاحب نے عدالت عالیہ کے احاطہ میں وکلاء پر پنجاب پولیس کو شیلنگ اور تشدد کی اجازت دی تو یہ معاملہ کچھ جج صاحبان کی نظر میں انتہائی غیر مناسب اقدام تھا جس کے تناظر میں جسٹس جواد صاحب نے بارش کا پہلا قطرہ بن کر منصف کے عہدے سے علیحدگی اختیار کرلی اور اپنا استعفیٰ پیش کردیا اور بعد ازاں خاموشی سے یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم و تدریس سے وابستہ ہوگئے۔

جسٹس جواد خواجہ صاحب کا دوسرا دور منصفی بطور جج سپریم کورٹ رہا۔ 2007ء سے 2009ء تک کے واقعات اور درس و تدریس سے دوبارہ منسلک ہونے کے تجربات نے خواجہ صاحب کے نظریات اور عدالت عظمیٰ میں بطور منصف کے کردار میں عوامی مفاد کے زاویے کو مزید اجاگر کردیا۔ اپنے فرائض منصفی کے دوران خواجہ صاحب نے ریاستی طاقت کے بے دریغ استعمال پر پابندی، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی، تمام شہریوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق سے متعلق فریقین مقدمہ کے مابین بلا امتیاز و تفریق فیصلے صادر فرمائے اور خود کو قانون کا پابند کرنے اور عدالت کا تحکم قائم کرنے کے حوالے سے سنجیدہ کاوش کا حصہ بنے۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سرزمین پاکستان طبقاتی تقسیم میں بٹی ہوئی ہے۔ یہاں کمزور، غریب، مفلس، کسان، مزدور اور نوکری پیشہ افراد کی اکثریت ہے۔ ان محروم و لاغر طبقات کے لئے ہمارا مروجہ نظام عدل نہ صرف غیر متعلقہ ہے بلکہ رسائی سے بھی قاصر ہے۔ غیر متعلقہ اس لئے کہ نوآبادیاتی جابرانہ نظام کی باقیات ہے جس کا حاصل مقصد برصغیر پر برطانوی حکمرانی کو موثر رکھنا تھا۔ صدافسوس کہ نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے نصف صدی بعد بھی ہم دور غلامی سے رائج شدہ جابرانہ قوانین اور نظام عدل میں اپنے عوامی اور ملکی حالات کے پیش نظر بہتری کے لئے موثر تبدیلی متعارف اور رائج نہ کرسکے۔ دوسری طرف یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اس نظام میں انصاف تک رسائی مناسب قانونی معاونت کے بغیر ممکن ہی نہیں جس کے لئے تیشہ زرہاتھ میں ہونا لازم ہے۔ غریب اور کمزور عوام کے اس ملک میں سرکاری خرچ پر مناسب قانونی معاونت کی عدم دستیابی نظام عدل تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ان حالات میں مجموعی طور پر یہ جابرانہ نظام عدل سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور طاقتور طبقات کے ہاتھوں میں کمزور طبقات کے خلاف موثر آلہ کار بن کررہ گیا ہے۔ جس نظام عدل کی عوام سے وابستگی قائم نہ ہوسکے تو پھر اسے گزند کوئی طائع آزما پہنچائے یا طالبان، کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ عوام ایسے نظام کے دفاع کے لئے نہ تو ڈھال بنیں گے اور نہ ہی قربانی دیں گے۔ جسٹس جواد خواجہ صاحب کا امتیاز یہی ہے کہ انہیں اس صورتحال کا نہ صرف ادراک ہے بلکہ وہ وقتاً فوقتاً اس کا برملا اظہار کرتے رہے اور اس صورتحال کو بہتر کرنے کے لئے انہیں جب بھی موقع ملا اپنے دائرہ اختیار کا بھرپور استعمال کرتے رہے جس کی چند مثالیں ان کے حالیہ فیصلوں کی شکل میں واضح ہیں۔ جن میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے والی آئینی شقوں کے اطلاق، مزدوروں کی کم از کم تنخواہ کے قانون، کچی آبادیوں کے مقیموں کے حقوق، بے گھر افراد کے لئے چھت، جیلوں میں قوانین کے موثر اطلاق اور تمام قوانین کا اردو زبان میں ترجمے کو لازم قرار دینا جیسے معاملات پر فیصلے شامل ہیں۔ ذاتی طور پر میں انہیں خراجِ تحسین پیش کرسکتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اعلیٰ عدلیہ کے دوسرے جج صاحبان بھی اپنے حصے کی شمع جلانے میں پیچھے نہیں رہیں گے۔ کوئی ایک شخص یا کوئی ایک ادارہ قانون کی عوام تک رسائی کا باعث نہیں بن سکتا مگر اسے مروجہ بے حسی کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ کم از کم مخلصانہ کوشش تو فرض ہے۔

مزید : کالم