ٹیکس اصلاحات کیلئے چین کا ماڈل استعمال کیا جائے: شاہ فیصل آفریدی

ٹیکس اصلاحات کیلئے چین کا ماڈل استعمال کیا جائے: شاہ فیصل آفریدی

لاہور(کامرس رپورٹر) پاکستان کے ٹیکس سسٹم میں چین کے ٹیکسیشن ماڈل کے مطابق اصلاحات کر کے حکومت اور عوام دونوں کو یکساں طور پر فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار پاک چین جوائینٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے ایک میٹنگ کی صدارت کے دوران کیا ۔میٹنگ کا انعقاد چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی ممبران کے ساتھ موجودہ ٹیکس نظام کو درپیش مسائل اور بہتری کے امکانات پر غور کرنے کیلئے کیا گیا تھا ۔فیصل آفریدی نے کہا کہ موجودہ ٹیکسیشن نظام، بالخصوص ٹیکسوں کی وصولی کے نظام میں انتظامی اصلاحات نہائت ضروری ہیں ۔اُنہوں نے میٹنگ کے دوران مجوزہ ٹیکس ریفارمز پر بریفنگ بھی دی ۔میٹنگ میں میں چیمبر کے سینئیر ایڈوائزر مسٹر وانگ زہائی اور مسٹر شیاؤ نے بھی شرکت کی۔فیصل آفریدی نے بتایا کہ چین نے اپنے ٹیکسیشن نظام میں زبر دست اصلاحات متعارف کرائی ہیں جن سے پاکستان بخوبی مستفید ہو سکتا ہے ۔فیصل آفریدی نے بتایا کہ چین نے اپنے ترقیاتی ایجنڈے میں موثر ٹیکسیشن نظام کو مرکزی اہمیت دی اور وسائل کی عوام تک منتقلی کو ایک زبردست ٹیکس نظام کے تحت یقینی بنایا۔اُنہوں نے بتا یا کہ پاکستان کی کل آبادی میں 70 لاکھ افراد انکم ٹیکس ادا کرنے کے اہل ہیں جبکہ محض 0.3فیصد عوام ٹیکس ادا کر رہی ہے جو کہ دنیا میں اس وقت سب سے کم شرح ہے۔

فیصل آفریدی نے اس امر پر اظہار افسوس کیا کہ موجودہ ٹیکس نظام کاروباری برادری کو ہراساں کرنے کا ایک ذریعہ اور کرپشن سے پیسہ کمانے کا ایک طریقہ بن چکا ہے۔ چینی ٹیکسیشن ماڈل کا ذکرتے ہوے فیصل آفریدی نے بتایا کہ چین بہترین ٹیکسیشن نظام کے زریعے اپنی عوام کی تمام معاشرتی ضروریات کو بخوبی پورا کر رہا ہے جن میں صحت و تعلیم، بچوں اور بوڑھوں کی دیکھ بھال سے لے کر نوجوانوں کے روزگار سمیت تمام تر سہولیات حکومت کی جانب سے فراہم کی جارہی ہیں ۔فیصل آفریدی نے بتایا کہ ٹیکس بنیادی طور پر ترقی کے نتیجے میں بننے والی پراڈکٹ ہے لہٰذا حکومت کو اپنی ترقیاتی سرگرمیاں مزید تیز کرنی چاہئیں جس سے کہ خود بخود ٹیکس نظام مستحکم ہو گا ۔اُنہوں نے کہا کہ چین کی طرح پاکستان کو بھی حقیقت پر مبنی ترقیاتی اہداف مقرر کرنے کی ضرورت ہے جن کا نحصار بین الاقوامی امداد پر کم اور ٹیکس ریونیو پر زیادہ ہو ۔میٹنگ کے اراکین کا نقطہ نظر بھی یہی تھا کہ کہ جو لوگ ٹیکس ادا کرنے کے اہل ہیں وہ باقائدگی سے ٹیکس ادا کریں تا کہ غریب عوام کو بے جا ٹیکسوں کے بوجھ سے نکالا جا سکے ۔

مزید : کامرس