شہیدِ وفا میر قاسم علیؒ ! (31دسمبر1952۔3ستمبر2016ء)

شہیدِ وفا میر قاسم علیؒ ! (31دسمبر1952۔3ستمبر2016ء)
 شہیدِ وفا میر قاسم علیؒ ! (31دسمبر1952۔3ستمبر2016ء)

  


میر قاسم علی کو 3ستمبر 2016ء کو رات کے وقت غازی پور کی سنٹرل جیل میں تختۂ دار پر لٹکانے والے سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے کسی امر کا کوئی حساب نہیں دینا پڑے گا۔ جہاں کہیں سے کوئی احتجاج ہوا تو حسینہ واجد نے اسے پرکاہ کے برابر اہمیت نہ دی۔ جب انسان ظلم اور بے ضمیری کی وادی میں اتر جائے اور یہ اس کی پہچان بن جائے تو اس سے کسی قسم کی انسانی اقدار کی توقع عبث ہوتی ہے۔ میر قاسم علی جیسے سپوت جس قوم کو نصیب ہوں اور وہ ان کی قدر نہ کرے، قانونِ فطرت ایسے لوگوں کو ڈھیل تو دیتا ہے، مگر خدائے دیر گیر آخر اپنا فیصلہ بھی صادر کر دیتا ہے۔ جب ربِ عرش کی طرف سے ظالموں کی پکڑ ہوتی ہے تو کسی کے ٹالے، ٹل نہیں سکتی۔ ظالم بھی موت کی وادی میں اترتا ہے اور مظلوم بھی، مگر دونوں میں بڑا فرق ہے۔

ظالم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ دوسروں پر ظلم کرکے حقیقت میں اپنے آپ پر ظلم کر رہا ہوتا ہے۔ دُنیا میں اگر اپنی کسی خاص حکمت اور مصلحت کے تحت اللہ رب العالمین کسی ظالم کو دیئے رکھتا ہے تو موت کے بعد کی زندگی میں اس پر عقوبت و لعنت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔اللہ کا ارشاد ہے: ’’ہاں، اِن ہی لوگوں کے لئے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں تو (سرکشی چھوڑ کر) فوراً ڈَگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں ’’ہم تو کوئی قصور نہیں کر رہے تھے‘‘ ملائکہ جواب دیتے ہیں ۔ کیسے نہیں کر رہے تھے! اللہ تمھارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے۔ اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں گھس جاؤ۔ وہیں تم کو ہمیشہ رہنا ہے۔ پس حقیقت یہ ہے کہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے متکبروں کے لئے۔‘‘(النحل16:28،29)

میر قاسم علی کا آبائی علاقہ ڈھاکہ کے قریب مانک گنج تھا۔ وہ اپنے والد صاحب کے ساتھ چٹا گانگ اس لئے چلے گئے تھے، کیونکہ والد وہاں ملازمت کرتے تھے۔ چٹاگانگ سے گریجوایشن کرنے کے بعد میر قاسم علی نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ اسی دور میں بنگلہ دیش میں حالات قدرے پرسکون ہوئے اور مجیب الرحمن کا تختہ الٹے جانے کے بعد 1976ء میں سیاسی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں پر سے پابندیاں ختم ہوئیں تو اسلامی جمعیت طلبہ (اسلامی چھاترو شنگھو) سے وابستہ طلبہ نے جمعیت کی تنظیم نو کا فیصلہ کیا۔ میر قاسم علی اس وقت طلبہ میں بہت مقبول اور متحرک شخصیت کے طور پر معروف تھے۔ انہوں نے اپنے دوستوں کا کنونشن بلایا اور مُلک گیر سطح پر اس نمائندہ کنونشن میں یہ رائے ساتھیوں کے سامنے پیش کی کہ ہمیں اب نئے نام سے مگر اُن ہی مقاصد کے ساتھ جو اسلامی چھاترو شنگھو کے سامنے رہے، میدان میں اترنا چاہئے۔ باہمی تبادل�ۂ خیال کے نتیجے میں نئی تنظیم کی بنیاد رکھی گئی، جس کا نام اتفاق رائے سے اسلامی چھاترو شبر تجویز ہوا۔ اس تنظیم کے پہلے ناظم اعلیٰ میر قاسم علی منتخب ہوئے۔ یہ 1976-77ء کی بات ہے۔ میر قاسم علی کا سابقین جمعیت کے ساتھ بہت قریبی رابطہ اور تعلق تھا۔ ان کی قیادت میں چھاترو شبر پورے مُلک کے اندر منظم ہو گئی۔کوئی تعلیمی ادارہ ایسا نہیں تھا، جس میں اس کی شاخ موجود نہ ہو۔

میر قاسم علی کی حیثیت ایک کامیاب قائد، مدبر منصوبہ ساز اور منظم شخصیت کے طور پر پورے مُلک میں نہ صرف اسلامی حلقوں بلکہ سیکولر اور قومیت پرست طلبہ تنظیموں اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں مسلّم ہوگئی۔ انھوں نے اسلامی چھاترو شبر کو مضبوط بنیادوں پر اٹھایا۔ تربیت و تزکیہ کا ایسا نظام قائم کیا کہ نوجوان طلبہ اللہ کے دین سے یوں وابستہ ہوگئے کہ ان کی زندگیوں میں انقلاب برپا ہوگیا۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد میر قاسم علی اپنی خداداد ذہانت و صلاحیت اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت سے جس میدان میں بھی قدم رکھا، کامیابی نے ان کے قدم چومے۔بنگلہ دیش میں جتنے فلاحی ادارے میر قاسم علی نے قائم کئے،اتنے ساری این جی اوز مل کر بھی قائم نہ کر سکیں۔انہوں نے اپنا بزنس شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں بے پناہ برکت دی۔ وہ رزقِ حلال کماتے اور پھر مستحقین پر بے دریغ خرچ کرتے۔ انہوں نے اسلامی بینک بنگلہ دیش کے قیام اور پھر اس کی ترقی و وسعت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ اسلامی بینک کے ڈائریکٹر تھے۔

میر قاسم علی نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرکی ڈگری حاصل کی۔ اس زمانے میں ڈھاکہ میں سعودی عرب کے سفیر مشہور شخصیت جناب فواد عبدالحمید الخطیب تھے۔ وہ بڑی خوبیوں کے مالک تھے اور امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کے لئے ہر وقت سوچ بچار کرتے رہتے تھے۔ انہوں نے اس زمانے میں پروفیسر غلام اعظم صاحب سے کہا کہ انھیں ایسے دو نوجوان دے دیں۔ جن کے اندر صلاحیت و قابلیت بھی ہو اور جذبہ و ایثار بھی۔ پروفیسر غلام اعظم صاحب نے ان کے اس مطالبے پر میر قاسم علی اور ابوناصر محمدعبدالظاہر دو نوجوان ان کے پاس بھیجے۔ ابو ناصر کو سفیر صاحب نے اپنا پرسنل سیکرٹری بنا لیا۔ میر قاسم علی کو بنگلہ دیش میں رابطہ عالم اسلامی کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ میر قاسم علی نے رابطہ کے تحت برما سے ہجرت کرکے آنے والی مہاجرین کی بڑی خدمت کی۔ان کے لئے کاکس بازار میں ہسپتال ، مساجد ، تعلیمی ادارے سکول اور مدارس قائم کیے۔ ان کو ماہانہ وظیفہ کے علاوہ لباس اور راشن بھی مہیا کیا جاتا تھا اور سر چھپانے کے لئے انہیں گھر بھی تعمیر کرکے دیے۔ فواد الخطیب چیریٹی فاؤنڈیشن بھی اِن ہی کی کاوشوں سے قائم ہوئی، جو خدمت انسانیت میں مصروف عمل ہے۔ یہ سب شہید کے لئے صدقاتِ جاریہ ہیں۔ پاکستانی شہری،یعنی بہاری آبادی جو محمد پور کے کیمپوں میں مقید ہیں۔ ان کے لئے ایک فری ہسپتال قائم کیا۔ ’’رابطہ‘‘ ہی کے تحت ان کے بچوں کے لئے ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ قائم کیا۔ ان مظلومین کو جتنی بھی سہولیات فراہم کی جاسکتی تھیں، ان کا اہتمام کیا۔

میر قاسم علی اپنے دور طالب علمی سے اس بات پر بالکل یکسو تھے کہ عہدِ جدید میں میڈیا کی بڑی اہمیت ہے۔ میڈیا سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر لوگوں کی ذہن سازی جس طرح چاہے کرسکتا ہے۔ ذرائع ابلاغ بذاتِ خود نہ خیر ہیں، نہ شر بلکہ یہ بات پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے، اگر اس کی وساطت سے اچھی بات پہنچائی جائے تو منبع خیر بن جاتا ہے اور اگر بُری بات کی تشہیر کی جائے تو شر کا ناسور بن جاتاہے۔ میر قاسم علی نے محسوس کیا کہ بے چارے میڈیا کو کوسنے کے بجائے اس کا قبلہ درست کرنے کے لئے تجربات کرنے چاہئیں۔ ان کا فلسفہ یہ تھا کہ میڈیا شیطان کے ہاتھ میں استعمال ہو رہا ہے۔ ہمیں اسے رحمان کی راہ میں استعمال کرنا چاہئے۔ اپنے دوستوں سے مشورے اور پلاننگ کے بعد انہوں نے ڈیگانٹا (Dignata)میڈیا ٹرسٹ کے نام سے ایک ٹرسٹ رجسٹرڈ کروایا، وہ اس کے بانی چیئرمین تھے اور تاوقتِ شہادت ان کی یہ حیثیت برقرار رہی۔ ڈیگانٹا کا اردو میں ترجمہ اُفق اور انگریزی میں (Horizon)ہے۔ اس ٹرسٹ کے تحت ڈیگانٹا ٹیلی ویژن بہت مقبول ہوا۔ حسینہ واجد نے جہاں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو ناحق پھانسیاں دے کر ظلم کا ریکارڈ قائم کیا ہے، وہیں حق کی اس آواز کو دبانے کے لئے اس ٹیلی ویژن چینل پر پابندی لگا دی ہے۔ البتہ روزنامہ اخبار ’’نیا ڈیگانٹا‘‘ کے نام سے ابھی تک چھپ رہا ہے۔ دیکھئے کب اس کے خلاف ظلم کی دیوی اپنی انتقامی خباثت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ (جاری ہے)

مزید : کالم