کشمیری ہر صورت میں آزادی چاہتے ہیں

کشمیری ہر صورت میں آزادی چاہتے ہیں
کشمیری ہر صورت میں آزادی چاہتے ہیں

  


وزیراعظم نوازشریف نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ معصوم کشمیریوں کی آنکھوں میں چھرے مارے جا رہے ہیں۔ چھرے لگنے سے مظلوم کشمیری نوجوانوں،بچوں اور خواتین کی بینائی ضائع ہو گئی۔ آنکھوں میں چھرے مارنے والوں کے دل انسانیت کے درد سے خالی ہیں۔ یہ صریحاً ظلم اور ظلم کا آخری درجہ ہے۔ بین الاقوامی برادری کشمیر میں مظالم کا سختی سے نوٹس لے۔ اس ظلم پر خاموش رہنا بھی ایک ظلم ہے۔وزیراعظم نے دوٹوک انداز میں کہا کشمیر کے حوالہ سے ہمارا مؤقف واضح ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہو گا۔ دوسری طرف بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی قیادت میں آنے والا بھارتی وفد لیپاپوتی کے بعد مقبوضہ کشمیر سے نامراد و ناکام واپس لوٹ گیا۔ وفد کی سری نگر میں مصروفیات کے دوران کرفیو، محاصروں، کریک ڈاؤن کے دوران بھارتی فوج کے تشدد سے مزید 200 کشمیری زخمی ہو گئے۔

اس طرح دو روز کے دوران زخمیوں کی تعداد 600 سے تجاوز کرگئی۔ اکثر کی حالت نازک ہے۔ کولگام، سوپور، سرینگر، پلوامہ اور اننت ناگ سمیت بڈگام میں بھارتی وفد کے خلاف بڑی بڑی مزاحمتی ریلیاں نکالی گئیں، جبکہ سرینگر کے دانہ مزار نور کالونی میں احتجاجی جلسہ منعقد ہوا، جس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کی۔ اس ریلی سے حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے بھی ٹیلی فونک خطاب کیا۔

بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کو کچلنے اور قابو میں رکھنے کے لئے پیلٹ گنوں کی جگہ مرچوں والے پاوا گن شیل استعمال کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ فیصلہ پیلٹ گن کے چھروں سے ہلاکتوں اور 600 سے زائد کشمیریوں کی بصارت کو نقصان پہنچنے پر کڑی عوامی تنقید کے بعد کیا گیا۔ اس حوالے سے سری نگر میں مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے بتایا کہ پاوا شیل مرچوں والے اور کم نقصان دہ ہیں، ان سے انسانی جان کو سنگین خطرہ نہیں ہوتا، ہم نے ایک ہزار پاوا شیل منگوا لئے ہیں جو کشمیر پہنچ چکے ہیں۔ راجناتھ سنگھ جو حریت رہنماؤں کے بھارتی پارلیمانی وفد سے ملاقات سے انکار پر بھڑکے ہوئے تھے، پرانی گردان کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ بھارتی وفد کے ارکان جب عام کشمیریوں سے بات چیت کے لئے مختلف جگہوں پر سخت سیکیورٹی میں گئے تو انہیں زبردست عوامی حقارت کا سامنا کرنا پڑا۔ کشمیریوں نے کہا بھارتی سیاستدانو !دفعہ ہو جاؤ ہمیں صرف آزادی چاہئے۔ برہان وانی کی شہادت نے مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی میں نئی روح پھونک دی ہے۔ پوری کشمیری قوم اور قیادت کو یکجا کردیا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے اگر مجرمانہ خاموشی ترک نہ کی اور کشمیریوں کو جائز اور قانونی حق نہ دلایا تو کشمیری عوام خونی لکیر عبور کرلیں گے، اور سیز فائر لائن کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی اور اس کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہوگی۔عالمی طاقتیں اور اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل پر توجہ دیں، کیونکہ خطے میں اس وجہ سے بڑے انسانی المیے کا خدشہ ہے۔

کشمیر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آج عوام بھارت کی مودی سرکار کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔یہ بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں کشمیری عوام کا ریفرنڈم اور رائے شماری ہے، اسے عالمی سطح پر تسلیم اور قبول کیا جائے اور بھارت کو انسانی حقوق کی پامالی سے روکا جائے۔ حق خود ارادیت کشمیری عوام کا قانونی اور جائز حق ہے، خود اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیرمیں استصواب رائے کرایا جا نا ہے، لیکن افسوس کہ ان قراردادوں پر اب تک عملدرآمد نہیں ہوا۔اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور کی طرح کشمیر میں بھی اپنا کردار ادا کرے اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوائے۔کرفیو میں محصور زخمیوں، بھوک اور پیاس میں مبتلا شہریوں تک عالمی اداروں کی رسائی ممکن بناتے ہوئے زخمیوں کے علاج کا بندوبست کیاجائے اور اشیائے ضروریہ فوری طور پر فراہم کی جائیں۔ حکومت پاکستان اس سلسلے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے اور غفلت سے بیدار ہوکر کشمیری مسلمانوں کی ٹھو س، سیاسی، سفارتی اور اخلاقی و مادی مدد کرے۔

پاکستان کے تمام سفارت خانے اس سلسلے میں اپنا فعال کردار ادا کریں اور دنیا کے سامنے بھارت کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کریں۔پاکستانی حکومت کشمیری عوام کی اس تاریخی بیداری سے فیصلہ کن فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی اختیار کرے اور کشمیری عوام کو اس نازک موقع پر اعتماد فراہم کرے اور امید اور حوصلہ دے۔حالیہ دنوں میں بھارتی افواج نے اسرائیل کے بنے ہو ئے ہتھیاربھی استعمال کئے ہیں،جن میں پیلٹ گن بھی شامل ہیں۔ ان ہتھیاروں کے باعث 125افراد بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔ربڑ کوٹیڈ گولیوں کے استعمال سے لوگ زندگی بھر کے لئے معذور ہورہے ہیں،اس کے باوجود کشمیری عوام بھارت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر تیار نہیں ہیں۔ کشمیریو ں نے بھارت کی غلامی ایک دن کے لئے بھی قبول نہیں کی۔ہر کشمیری بھارت سے آزادی چاہتا ہے۔ پوری وادی میں آزادی کے ترانے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج رہے ہیں اور پاکستان کے قومی پرچم لہرائے جارہے ہیں۔

مزید : کالم


loading...