اپوزیشن کا سپیکر قومی اسمبلی کیخلاف تحریک عدم ارتماد لانے کا فیصلہ ، ریفرنسز کا معاملہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے پر غور

اپوزیشن کا سپیکر قومی اسمبلی کیخلاف تحریک عدم ارتماد لانے کا فیصلہ ، ...

اسلام آباد(آئی این پی) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں اسپیکرقومی اسمبلی کیخلاف عدم اعتمادکی تحریک لانے اور ریفرنسز کے معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا،خورشید شاہ نے کہا کہ حکمران گھبرائے ہوئے ہیں کہ ریفرنسز پر نااہل ہی نہ ہو جائیں،سپیکر کے فیصلے سے واضح ہو گیا کہ کون کہاں کھڑا ہے،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لگتا ہے سپیکر پر یہ فیصلہ تھوپا گیا کیونکہ ایاز صادق نے اپنے فیصلے سے حکومت کی خدمت نہیں کی بلکہ متنازع بنایا ہے۔وہ گزشتہ روز اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کے مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔مشاورتی اجلاس میں اجلاس میں مسلم لیگ ق کے رہنماء طارق بشیرچیمہ،جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ بھی موجود،عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی غلام احمدبلور،تحریک انصاف کے شاہ محمودقریشی اور شیخ رشید احمد شریک ہوئے جبکہ قومی وطن پارٹی اور ایم کیو ایم کا کوئی رکن شریک نہیں ہوا۔ اجلاس میں سپیکر کی طرف سے مسترد کیے گئے ریفرنس اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی ۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ سپیکرقومی اسمبلی کیخلاف عدم اعتمادکی تحریک لائی جائے اور ریفرنسز کے معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر بھی بحث ہوئی ہے،سپریم کورٹ جانے سے متعلق فیصلہ پی ٹی آئی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران گھبرائے ہوئے ہیں کہ ریفرنسز پر نااہل ہی نہ ہو جائیں،سپیکر کے فیصلے سے واضح ہو گیا کہ کون کہاں کھڑا ہے،ہم دلبرداشتہ نہیں ہوئے،یہ بہتر ہوا ہے،نظرآتا ہے سپیکر کا فیصلہ نہیں بڑے لوگوں کا فیصلہ ہے،سپیکرکے رویے پر جمعہ کو بھی اسمبلی سے واک آؤٹ کریں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما ء شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لگتا ہے سپیکر پر یہ فیصلہ تھوپا گیا،سپیکر نے فیصلے سے حکومت کی خدمت نہیں کی،متنازع بنایا ہے،سپیکر کے رویئے سے واضح ہو گیا کہ وہ متنازع ہو گئے ہیں،سپیکر کے رویئے کی مذمت کرتے ہیں،فیصلے پر سپیکرکی رولنگ حاصل کریں گے اورقانونی پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ اگریہ دونوں ریفرنسز آگے بھیج دیتے یا ردکردیتے تو پارلیمنٹ کاقد اونچا ہوتا۔

مزید : صفحہ اول