ایاز صادق کو سپیکر تسلیم نہیں کرتا ، رائیونڈ مارچ کا مقام اور تاریخ تبدیل ہو سکتی ہے ، عمران خان

ایاز صادق کو سپیکر تسلیم نہیں کرتا ، رائیونڈ مارچ کا مقام اور تاریخ تبدیل ہو ...

 اسلام آباد(آئی این پی)تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت نے انصاف کے تمام دروازے بند کردئیے،سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا،پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ سے لے کر سپیکر آفس تک کسی ادارے سے انصاف نہیں ملا،جمہوریت میں انصاف کے در بند کیے جائیں تو انتشار جنم لیتا ہے،سپیکر نے میرے خلاف ریفرنس ای سی پی کو بھجوادیئے جبکہ نوازشریف کے خلاف ریفرنس مسترد کردیئے جو شخص اپنی ساری آمدن ملک واپس لے کر آیا اسے گناہ گار قراردیدیا اور جو ملکی دولت لوٹ کر ملک سے باہر لے گیا اور آف شور کمپنی بنائی اسے بے گناہ قرار دیا گیا آج سے سپیکر کو تسلیم نہیں کرتا،سپیکر صاحب کی جگہ ایازصادق کہہ کر پکاروں گا،ن لیگ ارکان خداراہ کرپشن کی تحقیقات کیلئے نوازشریف کو دباؤ میں لائیں نوازشریف کونہیں اللہ کو جان دینی ہے۔وہ گزشتہ روز ایوان میں نکتہ اعتراض پر اظہارخیال کر رہے تھے۔عمران خان نے کہا ہے کہ میرے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جن قوموں نے ترقی کی ہے ان کی 2وجوہات ہیں ایک انہوں نے ہیومین ڈویلپمنٹ اور دوسری جمہوری نظام پر سرمایہ کاری کی،سوئٹرز لینڈ کے پاس پہاڑوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا مگر انہوں نے ہیومین ڈیلپمنٹ اور جمہوری اداروں پر سرمایہ کاری کی اور آج وہ ترقی یافتہ ملک ہے۔انہوں نے کہا کہ برصغیر میں غریب ممالک کی نسبت پاکستان میں ہیویمن ڈویلپمنٹ انویسمنٹ کم ہے۔انہوں نے کہا کہ 2013میں 22جماعتوں نے کہا کہ دھاندلی ہوئی،جس کے بعد جوڈیشل کمیشن بنا،جوڈیشل کمیشن نے جو فیصلے دیئے اور جن غلطیوں کی نشاندہی کی ابھی تک ان کیخلاف ایکشن نہیں لیا گیا،صرف الیکشن کروانے پر ڈیمو کرسی نہیں آتی۔جب تک قانون کی بالادستی قائم نہیں کریں گے قانون ٹوٹتا رہے گا،احتساب کے حوالے سے نیب کا کردار سب سے اہم ہے،نیب کے ادارے کو غیر جانبدار ہونا چاہیے،کرپشن کی وجہ سے انسانی وسائل کی ترقی کی بجائے میگا پراجیکٹس پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے کیونکہ ان منصوبوں سے کرپشن کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں،جمہوری اداروں کا اصل کردار حکومت کی کرپشن پر نظر رکھنی ہوتی ہے،جمہوری حکومت میں پولیس کی مداخلت نہیں ہوتی ہے،کے پی کے میں آج پولیس کا کوئی سیاسی کردار نہیں رہا اور اس کی کوئی مداخلت نہیں،پارلیمنٹ حکومت اور اپوزیشن پر مشتمل ہوتی ہے،اپوزیشن کا کام حکومت کی کرپشن بے نقاب کرنا ہوتا ہے،برطانوی وزیراعظم کا کرپشن میں نام آیا تو اس نے پارلیمنٹ کے سامنے وضاحت پیش کی،ہم احتساب کی بات کریں تو الزام لگایا جاتا ہے کہ جمہوریت ڈی ریل کر رہے ہیں،مارشل لاء لگانا چاہتے ہیں،اپوزیشن کی جماعتوں نے پانامہ پر تحقیقات کا مطالبہ کیا تو تمام اپوزیشن جماعتوں نے مل کر ٹی او آرز بنائے،حکومت ٹی او آرز کو عدالت نے مسترد کردیا ۔میں نے آفر کی کہ میرا اور میاں نوازشریف کا احتساب ایک ساتھ کردیں،پھر6ماہ تک کوئی جواب نہیں آیا اور پھر میرے خلاف نااہلی کا ریفرنس دائر کردیا گیا،اسپیکر ایازصادق آج ہوتے تو میں کچھ سوال کرتا انہوں نے میرے خلاف ریفرنس کمیشن کو بھیج دیا،میرے تو تمام اثاثے ظاہر تھے کہا گیا کہ نیازی لمٹیڈ کو ظاہر نہیں کیا گیا تھا،2012میں تمام اثاثے ظاہر کردیئے تھے،لندن والا فلیٹ تو اثاثوں میں ظاہر تھا پھر کمپنی تو غیر اہم ہوگئی ۔فلیٹ1983میں خریدا تھا اس وقت میرے پاس کوئی وزرات نہیں تھی،شوکت خانم فلیٹ خریدے جانے کے بعد دو سال زندہ رہیں،ٹرسٹ 6سال بعد بنایا،میں تمام آمدن پاکستان لایا ہوں۔ اس لئے ٹی او آرز سے بھاگا نہیں،نوازشریف نے کرپشن نہیں کی تو بھاگتے کیوں ہیں،اسپیکر نے کہا کہ نوازشریف کی کوئی چیز انہیں پانامہ سے لنک نہیں کرتی،2012تک مریم نوازشریف کے زیر کفالت تھی،2012میں ایک پروگرام میں کہا کہ ان کی باہر کوئی جائیداد نہیں تھی،اگر مریم زیر کفالت تھی تو پھر نوازشریف سے متعلق تو بنتا ہے ان کا ریفرنس کیوں نہیں بھیجا گیا،میرے خلاف ریفرنس بھیجنے سے پارلیمنٹ کمزور ہوئی اور اسپیکر متنازع بن گئے،اسپیکر غیر جانبدار نہیں،مجھے چوروں کے خلاف آواز بلند کرنے پر انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،میرا منہ بند کرنے کی کوشش کرکے کرپشن کو فروغ دیا جارہا ہے،جو اپنے پیسے ملک میں لائے اس کے خلاف ایکشن اور جو اپنے پیسے باہر لے جائے اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں یہ کون سی کس رنگ کی جمہوریت ہے،وزیراعظم کرپشن میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں،وزیراعظم جواب نہیں دے رہے کہہ دیں کہ یہ جمہوریت نہیں بادشاہت ہے،احتساب کے دروازے بندہوں تو انتشار کے دروازے بند ہوجاتے ہیں،یوسف رضاگیلانی کو فارغ کیا گیا لیکن نوازشریف کا کیس نہیں سن رہا،اب بتائیں کہ ہمارے پاس کون سا طریقہ رہ گیا،ہم وزیراعظم سے جواب مانگ رہے ہیں ۔وہ سن نہیں رہے اسپیکر اگر ریفرنس بھیجنا چاہتے تھے کہ ہم دونوں کا بھیج دیں،نوازشریف کرپشن کا جواب دینے کے بجائے فیتے کاٹ رہے ہیں،ایک ایک سڑک کے دوبارہ فیتے کاٹ رہے ہیں کہ شاید ہم پانامہ لیکس کو بھول جائیں،وزیراعظم کرپشن کیلئے جمہوریت کو تباہ کرتے ہیں اور پھر کرپشن بچانے کیلئے جمہوریت کو تباہ کرتے ہیں،پاکستان کا مستقبل داؤ پر ہے،مسلم لیگ والوں کو درخواست کرتاہوں کہ خدا کے واسطے ملک کو بچاؤ ساری زندگی زندہ نہیں رہنا ۔آخر میں اللہ کو جواب دینا ہے،آپ نوازشریف سے پوچھیں ہمارے لیے احتجاج کے سوا سارے راستے بند کردئیے گئے ہیں،ایازصادق کو میں سپیکر نہیں مانتا۔ آج سے میں اسے ایازصادق کہوں گا۔قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئیتحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن ساتھ چلے تو فیصلے مشاورت سے کریں گے،رائے ونڈ مارچ کی جگہ اور تاریخ تبدیل ہوسکتی ہے،انوازشریف مجھے خرید نہ سکا تو ایاز صادق کے ذریعے دبانے کی کوشش کی،کوئی غلط فہمی میں نہ رہے،پانامہ کے معاملے پر آخری حد تک جائیں گے،نوازشریف کے رائے ونڈ کے گھر کی بم پروف دیوار عوام کے 60کروڑ روپے سے بنی ہے،ٹین ڈاوئنگ اسٹریٹ پر احتجاج ہوسکتا ہے تو نوازشریف کے گھر کے باہر کیوں نہیں ہوسکتا،ٹانگیں توڑنے والے گلو(ن) لیگ میں ہیں،پی ٹی آئی میں نہیں،وزیراعظم،اسپیکر اور حکومت اخلاقی قوت کھوبیٹھی ہے،(ن) لیگ کے اراکین پارلیمنٹ نوازشریف سے کرپشن پر سوال و جواب کریں۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت حکومت کی اخلاقی قوت سے چلتی ہے ،وزیراعظم،سپیکر اور حکومت اخلاقی قوت کھو بیٹھی ہے،نوازشریف بجائے اپنی کرپشن اور الزامات کا جواب دینے کی بجائے اپوزیشن پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ سوال نہ کرے۔انہوں نے کہاکہ ہماری ریلی میں بچے بچے کی زبان پر یہی نعرہ تھا کہ ’’ گلی گلی میں شور،نوازشریف چور،نوازشریف چور ‘‘ نوازشریف مجھ پر دباؤ ڈالنے کیلئے سپیکر کا استعمال کر رہا ہے ۔میں نے کون سے چیز 2013میں ڈکلیئر نہیں کی،تب ان کو کیوں نظر نہیں آیا ۔میرے خلاف کارروائی کرنی تھی تو 2013میں کیوں نہیں کی گئی،اصل ریفرنس نوازشریف کے خلاف بنتا تھا،میرا تو پانامہ میں نام تک نہیں،میرے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایاگیا،عمران خان نے کہا کہ نوازشریف اور ان کے سارے بچوں کے جھوٹ پکڑے گا،کلثوم نواز کا بیان سب کے سامنے ہے،میرا تو سارا پیسہ حلال کا ہے،مجھے کیا ڈر جن ٹی او آرز پر نوازشریف کا احتساب ہونا ہے،انہیں پر میرا کرلیا جائے۔عمران خان نے کہا کہ سپیکر نے فیصلے سے اپنی اخلاقی قو ت ختم کردی،آج موجود ہوتا تو زیادہ سخت الفاظ استعمال کرتا،آج سے ایازصادق کو سپیکر نہیں کہوں گا،سپیکر نے ریفرنس کے معاملے پر نوازشریف کے دباؤ میں فیصلہ کیا،نوازشریف خریدنے اور کچلنے کا فلسفہ رکھتا ہے،مجھے خریدنہیں سکتے تو دبانے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ رائے ونڈ نوازشریف کی جاگیر نہیں،وہ بڑا علاقہ ہے،ہم نے رائے ونڈ جانے کا اعلان کیا ہے،نوازشریف کے گھر جانے کا نہیں،ِ رائے ونڈ عوام کے پیسے سے چلتا ہے،نوازشریف کے گھر کی بم پروف دیوار عوام کے 60کروڑ روپے سے بنی ہے،اگرٹین ڈاوئنگ سٹریٹ پر برطانوی وزیراعظم کے گھر کے باہر احتجاج ہوسکتا ہے تو نوازشریف کے گھر کے باہر کیوں نہیں ہوسکتا،یہ وزیراعظم ہیں یا بادشاہ۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن سے مشاور ت کریں گے،اپوزیشن ساتھ چلے تو رائے ونڈ کی جگہ اور تاریخ تبدیل ہوسکتی ہے،(ن) لیگ کے اراکین کو کہا ہے کہ نوازشریف سے کرپشن اور پانامہ پر سوال کریں۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو نہیں اللہ کو جواب دیناہے،ٹانگیں توڑنے والے گلو ن لیگ میں ہیں ،پی ٹی آئی میں نہیں،کوئی خوش فہمی میں نہ رہے،پانامہ کے معاملے پر آخری حد تک جائیں گے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمو د قریشی نے کہا کہ سپیکر کے رویے کے خلاف واک آؤٹ پر اپوزیشن جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں،ہم جمہوریت اقدار میں رہ کر احتجاج ریکارڈ کرواتے رہیں گے،اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں تمام جماعتوں کے ہمارے موقف کی تائید کی ہے کہ سپیکر یا تو دونوں ریفرنسز آگے بھیج دیتے یا دونوں مسترد کردیتے۔

عمران خان

مزید : صفحہ اول