فیصل آباد سیکیوٹی فورسز کا رانا ثناء اللہ کے قریبی تعلق دار کے ڈیرے پر چھاپہ ، گرفتایاں اسلحہ برآمد

فیصل آباد سیکیوٹی فورسز کا رانا ثناء اللہ کے قریبی تعلق دار کے ڈیرے پر چھاپہ ...

 فیصل آباد(بیورورپورٹ)فیصل آباد میں دہشت گردی اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف حساس اداروں اور ایلیٹ فورس کا کومبنگ اپریشن شروع ہو گیا ہے اس دوران گزشتہ دوپہر ایک چھاپہ کے دوران فیصل آباد کے معروف صنعتکار اور صوبائی وزیر قانون پنجاب کے قریبی تعلق دار شیخ دانش کے ڈیرہ سے ایک ہی نمبر والی دو انتہائی قیمتی گاڑیاں اور مبینہ ناجائز اسلحہ برآمد کر لیا گیا ‘ اس کے ڈیرہ کی تلاشی کا عمل تقریبا دو گھنٹے تک جاری رہا‘ اس دوران دو افراد کو حراست میں لیا گیا جن کے چہرے کپڑوں سے ڈھانپے ہوئے تھے جن کے بارے میں فیصل آباد بھر میں یہ افواہیں پھیل گئیں کہ شیخ دانش اور رانا ثناء اللہ کے ایک اور قریبی ساتھی رانا اشفا ق عرف چاچو کو حراست میں لے لیا گیا ہے تاہم بعدازاں بعض باخبر ذرائع نے بتایا کہ ڈھانپے ہوئے چہروں والے شیخ دانش اور اشفاق چاچو نہیں بلکہ ان کے سیکورٹی گارڈ تھے جن کے بارے میں پتہ چلا کہ ان کو چھوڑ دیا گیا بعض اطلاعات کے مطابق حساس اداروں کو اطلاع ملی کہ شیخ دانش اور اشفاق چاچو کے پاس بعض مشکوک افراد کا آنا جانا ہے جس پر وہاں تلاشی لی گئی ان معاملات کے تانے بانے آج سے کچھ عرصہ قبل قتل ہونے والے رانا ثناء اللہ خاں کے انتہائی قریبی ساتھی اصغر بھولا گوجر کے کیس سے بھی ملتے دکھائی دے رہے ہیں جس کا ایک مرکزی ملزم سابق ایس ایچ او رانا فرخ وحید آج کل فرار ہو کر بیرون ملک مقیم ہے اور اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے سروس کے دوران ہی ٹارگٹ کلر ہائر کر رکھے تھے اس گروہ کے ’’معاملات‘‘ نہ صرف اصغر بھولا گوجر بلکہ بعض دیگر قتلوں تک بھی ملے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جس میں ایک کردار بدنام زمانہ سماج دشمن عنصر خرم باجوہ بھی شامل ہے. بلکہ جس گھر میں خرمی باجوہ کو قتل کیا گیا اس گھر کا مالک بھی بعدازاں قتل کر دیا گیا تھا علاوہ ازیں دو دیگر نام رانا پرویز اور رانا بابر بھی سامنے آئے ہیں جن کو حراست میں لئے جانے کی افواہیں شہر بھر میں پھیلی ہوئی ہیں مگر کوئی سرکاری ذریعہ اس کی تصدیق نہیں کر رہا‘ابھی کچھ عرصہ قبل اصغر بھولا گجر کے قتل کی تفتیش کے دوران بھی رانا ثناء اللہ کے جانثار کے طور پر مشہور اشفاق چاچو کو ایک خصوصی ادارے نے حراست میں لیا مگر ضروری پوچھ گچھ کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا تھا اشفاق چاچو پیپلزپارٹی کے سابقہ دور حکومت میں پی پی کے تین اہم ایم پی ایز کا کار خاص بھی تھا بعدازاں وہ موجودہ صوبائی وزیر قانون کے ’’حلقہ‘‘ میں شامل ہو گیا اور ایک موقع پراشفاق چاچو کی ’’قربانی‘‘ کو بہت سراہا گیا جب وزیر موصوف کے ایک برادر نسبتی کو ایک سنگین مقدمہ میں پیشی کے سلسلے میں پولیس کی زیر حراست سے چھڑا لیا گیا تھا اس ’’کارکردگی‘‘ نے اسے وزیر موصوف کے حلقہ خاص میں شامل کرنے کا موقع فراہم کیا تھا بعدازاں وہ ن لیگ میں باقاعدہ شامل ہو گئے. آخری اطلاعات کے مطابق اس معاملہ کی کسی کی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

مزید : صفحہ اول