مانچسٹر میں بہت بہتر اورشاندار اختتام آئندہ کی کرکٹ میں کامیابی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے

مانچسٹر میں بہت بہتر اورشاندار اختتام آئندہ کی کرکٹ میں کامیابی کا پیش خیمہ ...
مانچسٹر میں بہت بہتر اورشاندار اختتام آئندہ کی کرکٹ میں کامیابی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے

  


انگلینڈ کرکٹ ٹیم کی مینجمنٹ اور کوچ میچ سے پہلے ماہرین کرکٹ کو ٹیم کی سلیکشن کے حوالے سے وضاحتیں پیش کر رہے تھے کہ گیارہ کھلاڑیوں کا انتخاب درست ہے ٹیم کے باقی مستحق رکن آئندہ میچوں میں مواقع حاصل کریں گے یعنی ایک سے بڑھ کر ایک نگینہ ٹیم میں موجود تھا ان حالات میں جمعرات کو کھیلے گئے پاکستان کے دورہ کے آخری اور واحد ٹی ٹونٹی میچ میں میزان کے لئے یہ ا یک ذلت امیز اور غیر متو قع شکست تھی۔

پاکستان کے نو جوان کرکٹرز نے اولڈ ٹریفلڈ میں یادگار کھیل پیش کیا،اور ایک بڑے مارجن سے اس میدان میں انگلینڈکو ھرایا ۔ جہاں ما ضی میں ان کی جیت کا تناسب سو فیصد تھا نو وارد عماد وسیم ، حسن علی، شرجیل اور خالد لطیف نے شاندار کھیل پیس کیا جبکہ مین آف دی میچ وہاب ریاض اپنے عروج پر تھے ۔ پاکستان نے موزوں ٹی ٹونٹی کرکٹ کھیلی بلکہ کہنا ہو گا کہ آئیڈیل ٹی ٹونٹی کرکٹ کھیلی اور یوں انگلینڈ کے بیٹنگ اور باؤلنگ اٹیک کو مفلوج کر کے رکھا بلاشبہ نو وکٹوں سے کامیابی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

مانچسٹر میں کامیابی کا اثر یقیناًپاکستان کی آنے والی اہم کرکٹ پر پڑے گا جس میں اسی ماہ ویسٹ انڈیز اور بعد میں نیو زی لینڈ اور آسٹریلیا کے دورے شامل ہیں ۔پاکستان کو آئندہ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے حوالے سے بھی شدید چیلنج کا سامنا ہے۔ پاکستان اور پی سی بی کے لیے یہ دورہ اس لحاظ سے اہم رہا کہ اس دوران پاکستان نے اوول ٹیسٹ میں انگلینڈ کو شکست دینے کے بعد دنیا کی نمبر ایک بہت بڑی ٹیم کا اعزاز حاصل کیا۔ جو حالات کے پیش نظر ایک معجزہ ہے۔ ون ڈے کرکٹ میں پاکستان کی کارکردگی خراب رہی تاہم ٹی ٹونٹی میں شاندار جیت کے بعد اس دورے کو ن کرکٹ کے نقطہ نگاہ سے مکمل ناکام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس دورے میں پاکستان کو عماد وسیم اور حسن علی جیسا ہونہار کرکٹردستیاب ہوئے۔ اس دورے کے دوران کوئی ناخوشگوار سکینڈل یا تنازعہ کی خبریں سامنے نہیں آئیں۔ سلیکشن کے نقطہ نگاہ سے تبدیلیوں کا دور ابھی ختم نہیں ہوا۔ سلیکشن کمیٹی کو اس وقت کوئی مشورہ دینے کا وقت نہیں۔ تاہم بیٹنگ اور فاسٹ باؤلنگ کے شعبہ میں پرانے کھلاڑیوں کو آرام دینے کا وقت آن پہنچا ہے۔

پاکستان محدود اوورز کے کھیل میں کافی کمزور ہے۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ موجودہ ٹیم میں شامل کھلاڑیوں اور بعض مختلف وجوہ کی منیاد پر باہر بیٹھے منجھے ہوئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے۔ جن میں عمر اکمل ممکنہ انتخاب ہوسکتے ہیں۔مانچسٹراولڈٹریفرڈ کی جیت سے پہلے پاکستان کا انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹونٹی میں کر کٹ کا ریکارڈ بہت خراب تھا پاکستان انگلینڈ سے تیرہ(13)میچزمیں سے دس (10)میچ میز بان ٹیم سے ہار چکا ہے لیکن ٹی ٹونٹی طرز کرکٹ میں پاکستان (2009ء)میں ورلڈ کپ جیت کر عالمی چیمپئن بن چکا ہے اور متعدد بار اس کپ کو جیتنے کی پوزیشن میں بھی رہ چکا ہے۔ ہماری کرکٹ میں کھیل کے سماجی و ثقافتی تناظر اور تعلق کو کم اہمیت نہیں دی گئی۔ سرکردہ کرکٹرز کو عام زندگی میں منتخب مگر وسیع حلقہ کا حامل ہونا چاہیے۔ کھلاڑی ملک کے سفیر ہوتے ہیں ملک سے باہر ٹیم کے کھلاڑیوں کو اہم شخصیات سے ملاقات اور تقریبات میں شرکت کی افادیت اور آداب کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا تو بورڈ کی ذمہ داری ہے۔

انگلینڈ میں ھمارے کھلاڑیوں کی یہ کمزوری ابھر کر سامنے نظر آ یٰ دورہ انگلینڈ خصوصا مانچسٹراورکارڈف کی کامیابی کو اب ریکارڈ سمجھ کر کپتان اور سلیکشن کمیٹی کو آنے والی کرکٹ کے حوالے سے سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔ جو انتہائی مشکل اور مختلف حالات میں کھیلی جائے گی۔

مزید : کالم