بھارتی دہشتگردی کا تعلق ہماری سلامتی سے ہے ، کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے بلو چستان میں مداخلت کی جارہی ہے ، پاکستان

بھارتی دہشتگردی کا تعلق ہماری سلامتی سے ہے ، کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے بلو ...

اسلام آباد( اے این این ) دفترخارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے کہاہے کہ بھارت نہ صرف پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت کررہاہے بلکہ اس کی ہمیشہ کو شش رہی ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کرے مگردہشت گردی کیخلاف پاکستان کے اقدامات اورقربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، جنوبی ایشیا ء میں کون ساملک دہشت گردی پھیلا رہا ہے؟،پاکستان میں گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے سب کچھ اگل دیا، دنیاکومقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم سے شواہد کے ساتھ آگاہ کررہے ہیں ، شملہ معاہدہ کسی صورت کشمیر پراقوام متحدہ کی قراردادوں کو نعم البدل نہیں ہو سکتا ، مودی سرکارنے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کی جانب سے کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کی درخواست کا مثبت جواب نہیں دیا، افغانستان کے غیرذمہ دارانہ بیانات سے امن دشمنوں کوہی فائدہ ہو گا۔جمعرات کویہاں ہفتہ وارپریس بریفنگ میں ترجمان نے کہاکہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جبکہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے ،دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے باعث گزشتہ چند برسوں میں ملک میں دہشت گردی کا گراف 40 فیصد سے کم ہوا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا ہمسایہ ملک دہشت گردوں کی مالی امداد کررہا ہے بھارتی دہشت گردی کا تعلق براہ راست پاکستان کی سلامتی سے ہے،جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کون ساملک پھیلارہاہے ،بلوچستان سے گرفتارہونے والا ’’را‘‘ کا حاضر سروس افسرکل بھوشن یادیو اس سلسلے میں تمام باتیں واضح طورپربتاچکا ہے۔ بلوچستان سے متعلق بھارتی بیانات کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ہم سب کو سمجھنا ہو گا کہ بھارت بلوچستان کے حوالے سے ایسا کیوں کر رہا ہے؟ اس طرح ایک طرف تو وہ کشمیر سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے اور دوسری طرف وہ پاکستان کی توجہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے ہٹانا چاہتا ہے دراصل بھارت کی ہمیشہ کو شش رہی ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کرے اور کلبھوشن یادیو کا بیان اس ملک کی پالیسیوں کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اورامریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں،امریکی وزیر خارجہ نے دورہ بھارت میں بھی پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اوربھارت کے درمیان فوجی تعاون کے معاہدے کو پاکستان دوممالک کا معاملہ سمجھتا ہے لیکن اس قسم کے معاہدوں سے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن متاثر نہیں ہونا چاہیے، ایٹمی سلامتی ایک ایسی شاہراہ ہے جس پر پاک بھارت اعتماد سازی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی افواج کے مظالم کو 62 روزہوگئے ہیں اس دوران 90 سے زائد کشمیری شہید اور10 ہزارکے قریب زخمی ہوئے جبکہ چھر وں ولی بندوقوں کے استعمال سے 700 کشمیریوں کی بینائی متاثر ہوئی جو افسوس ناک ہے گزشتہ دوماہ سے مقبوضہ کشمیر میں مکمل میڈیا بلیک آؤٹ ہے۔ ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ شملہ معاہدہ کسی بھی صورت کشمیر پراقوام متحدہ کی قراردادوں کو نعم البدل نہیں ہو سکتا ہے جبکہ مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں غیرموثر ہونے کا بھارتی دعوی تو 1994 میں ہی مسترد ہوگیا تھا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک ایسا فورم ہے جہاں ہم ہرمرتبہ مسئلہ کشمیراٹھاتے ہیں، مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پرارکان پارلیمنٹ وزیراعظم کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے اہم ممالک کے دورے کررہے ہیں اوران کے سامنے مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کی تفصیل اور شواہد رکھ رہے ہیں۔ ترجمان نے کہاکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی پاکستان کی این ایس جی کی رکنیت کے لیے دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کر رہے ہیں اوروہ کشمیر میں مظالم کو بھی اجاگرکررہے ہیں جبکہ وزیر اعظم اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر بھرپور انداز میں اٹھائیں گے ۔ انہو ں نے کہاکہ بھارت اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کی درخواست کا مثبت جواب نہیں دیا۔

پاکستان

مزید : علاقائی