عالمی یوم خواندگی ،اپوزیشن نے شعبہ تعلیم پنجاب سے متعلق وائٹ پیپر جاری کر دیا

عالمی یوم خواندگی ،اپوزیشن نے شعبہ تعلیم پنجاب سے متعلق وائٹ پیپر جاری کر دیا

لاہور(نمائندہ خصوصی)پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الر شید نے ’’ عالمی یوم خواندگی‘‘ کے موقع پر شعبہ تعلیم پر وائٹ پیپر جاری کر دیا، انہوں نے ا کیڈمی آف ایجوکیشن پلاننگ مینجمنٹ (AEPAM) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ایک کروڑ20لاکھ بچے out of school ہیں جبکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل25-Aکے مطابق ریاست 5تا 15سال کی عمر کے ہر بچے کو مفت اور لازم تعلیم فراہم کریگی لیکن بدقسمتی سے پنجاب کے حکمران آئین پاکستان میں درج بنیادی انسانی حقوق عوام تک پہنچانے سے قاصر ہیں۔ا اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ا ٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے کو تعلیم کے معاملات میں خود مختاری مل گئی لیکن اسکے باوجود صوبے نے تعلیمی شعبے میں ترقی نہیں کی ۔حکومت کی عدم توجہی کے باعث پنجاب میں مجموعی طور پر تعلیمی گراف3.38فیصد نیچے آیا۔ پنجاب میں قوم کے معماروں کو تجارت کے نام پر قائم پرائیویٹ سکولوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا۔ یہاں سرکاری سکولوں کی حالت ابتر ہے، اس وقت پنجاب کے کل سرکاری سکول57998 ہیں جس میں سے 15000ہزار گھوسٹ، نا مکمل عمارت والے11123، چار دیواری کے بغیر8060، صاف پانی سے محروم6220اور ایک کمرے پر مشتمل4000سکول ہیں،پورے پنجاب بالخصوص جنوبی پنجاب ( راجن پور، لیہ، بہاولپور، بہاولنگر)میں سیکڑوں سکول ایسے بھی ہیں جہاں پر وڈیرے قابض ہیں یا سکول کی عمارتوں میں گھوڑے اور مویشی بندھے ہیں۔ متعدد سکولوں میں تدریسی عملہ کی کمی ہے۔

مزید : صفحہ آخر