دشمن ہمارے خاندانی نظام کو توڑنا اور معاشرے میں بے حیائی اور عریانی پھیلانا چاہتے ہیں: سراج الحق

دشمن ہمارے خاندانی نظام کو توڑنا اور معاشرے میں بے حیائی اور عریانی پھیلانا ...

لاہور(خبر نگار خصوصی)امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ حجاب کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمارا دشمن ہمارے خاندانی نظام کو توڑنا اور ہمارے معاشرے میں بے حیائی اور عریانی پھیلانا چاہتا ہے ،ہمارے مضبوط خاندانی نظام نے امت کو اباحیت اور انتشار سے بچایا ہے ،ہم خاندانی نظام کا تحفظ چاہتے ہیں ۔حکمران مغربی دباؤ پر ملک کو لبرل اور سیکولر بنانے اور معاشرتی اقتدار سے گھناؤنا کھیل کھیلنا چھوڑ دیں ۔قومی میڈیا معاشرے میں حیا ء کے کلچر کو عام کرنے اور اسلامی تہذیب و تمدن کو فروغ دینے کیلئے اپنا کردار ادا کرے ۔کانفرنس سے جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل حمیرہ طارق ،رکن اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹرسمیحہ راحیل قاضی ،ربیعہ طارق ،بشریٰ رحمان اور رکن سپریم کورٹ بار تابندہ اسلام نے بھی خطاب کیا۔کانفرنس میں سیاسی ،سماجی اور فلاحی اداروں سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت میں کی ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کی اسلامی شناخت کو ختم کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی ،پاکستان کے عوام کی اکثریت ملک میں شریعت کا نفاذ چاہتی ہے اور اسلامی نظام زندگی میں ہی ہمارے تمام مسائل کا حل ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام کا خاندانی نظام اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جس نے امت کو متحد اور یکجا رکھا ہوا ہے ، قوم اسلام کا عطا کردہ نظام زندگی چھوڑ کر اباحیت اور بے ہودگی و بے شرمی کی زندگی گزارنے پر آمادہ نہیں ہوسکتی ۔انہوں نے کہا کہ اسلام نے عورت کو ماں بہن بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے نہایت اعلیٰ و ارفع مقام دیا ہے اور انبیاء کرام کے دعوت و جہاد کے امور میں ان کے گھروں کی خواتین ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مکہ کی بجائے امریکہ کی طرف دیکھنے والے نام نہا د سیاسی لیڈروں اور وزیر و ں مشیروں سے معاشرتی فلاح کے کسی کام کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔انہی لیڈروں کی وجہ سے آج قوم کے بچے تعلیم اور صحت سے محروم ہیں اور ورکشاپوں ،پنکچر کی دکانوں میں مزدوری کرنے اور ہوٹلوں میں گندے برتن دھونے پر مجبور ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان میں احکام الہیٰ اور آئین و دستور کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی کسی تبدیلی کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی ۔ عدم مساوات ،معاشی استحصال اور طبقاتی نظام تعلیم نے امیر اور غریب کے درمیان دوریاں پیدا کردی ہیں جس سے معاشرہ تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے ۔حکمرانوں نے تعلیم ،صحت اور معیشت کے شعبوں کو تباہ کردیا ہے ،عام آدمی کو تعلیم ،صحت اور انصاف میسر نہیں ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...