محکمہ قانون کامسودے پر اعتراض،ریسکیو 1122 کے سروس سٹرکچر کی منظوری لٹک گئی

محکمہ قانون کامسودے پر اعتراض،ریسکیو 1122 کے سروس سٹرکچر کی منظوری لٹک گئی

لاہور(وقائع نگار) ریسکیو 1122 کے سروس سٹرکچر کی منظوری لٹک گئی، محکمہ قانون نے سروس سٹرکچر ڈرافٹ پر اعتراض لگا کر واپس وزیر اعلیٰ کو بھجوا دیا۔ذرائع کے مطابق ریسکیو1122 نے سروس سٹرکچر کا ڈرافٹ حتمی منظوری کیلئے وزیر اعلی کو ارسال کیا تھا۔ جنہوں نے ڈرافٹ نظر ثانی کیلئے محکمہ قانون کو بھجوایا جس نے اعتراض لگا کر ڈرافٹ واپس وزیر اعلی کا بھجوا دیا۔محکمہ قانون کی طرف سے لگائے جانے والے اعتراض کے مطابق تیارہ کردہ ڈرافٹ سول سرونٹ ایکٹ کے مطابق ہے مگر ریسکیو سول سرونٹ ایکٹ کے زمرے میں نہیں آتی، ریسکیو1122 ایمرجنسی سروسز ایکٹ کے تحت بنائی گئی تھی جسکی کی اپنی ایمرجنسی سروسز کونسل ہے، ایمرجنسی سروسز کونسل کے سربراہ وزیر اعلیٰ ہیں، کونسل سروس سٹرکچر منظور کرسکتی ہے۔محکمہ قانون کا کہنا ہے کہ ریسکیو افسران اور ہوم ڈیپارٹمنٹ نے محکمہ قانون کو بتائے بغیر سروس سٹرکچر کا ڈرافٹ وزیر اعلیٰ کو منظوری کیلئے بھجوایا، 2006 کے ایمرجنسی سروس ایکٹ کے تحت بنائی جانے والی ریسکیو اب تک سروس سٹرکچر کے بغیر چل رہی ہے۔سروس سٹرکچر نہ ہونے سے ریسکیو کے ملازمین میں مایوسی اور بد دلی پھیل رہی ہے، قائم مقام ڈی جی ریسکیو ارشد ضیاء نے گزشتہ سال تعیناتی کے بعد ایک ہفتے میں سروس سٹرکچر منظور کرانے کا دعوی کیا تھا،ڈی جی ریسکیو ارشد ضیاء کا کہنا ہے کہ سروس سٹرکچر پر اعتراض جلد ختم کراکے منظور کرا لیں گے۔

مزید : علاقائی