پاک بھارت تناؤ سے جنوبی ایشیا کی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں: سیکرٹری خارجہ

پاک بھارت تناؤ سے جنوبی ایشیا کی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں: سیکرٹری ...

اسلام آباد(آن لائن)سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں بھارت کو اہمیت دی گئی تو خطے کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کا خواب ادھورا رہ جائیگا،بھارت اور پاکستان کے درمیان تناؤ سے جنوبی ایشیا کی صورتحال پرمنفی اثرات مرتب ہوئے ہیں،پاکستان امن پسند ملک ہے اورایٹمی جنوبی ایشیا ء میں اعتدال کا مظاہرہ کر رہا ہے،کم سے کم ڈیٹرنس رکھنا ہمارا اصولی موقف ہے تاہم نیوکلیئر سیکیورٹی پاکستان اور بھارت کی مشترکہ ذمہ داری ہے،چین کے پاکستان سے اچھے تعلقات ہیں جبکہ روسی فیڈریشن پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنا رہی ہے۔جنوبی ایشیاء میں نیوکلیئر سیکیورٹی سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان این ایس جی کی رکنیت کا اہل ہے اور اس حوالے سے امتیازی سلوک خطے میں عدم توازن کا باعث بنے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی سیاسی اور تجارتی مقاصد کی خاطر ہندوستان کو استثنیٰ دیا جاتا رہا، امریکا نے 2008 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امتیازی سلوک روا رکھا اور ہندوستان نے 2008 کے بعد کئی ممالک سے ایسا مواد حاصل کیا ہے جو جوہری سیف گارڈ کے زمرے میں نہیں آتا۔سیکریٹری خارجہ نے مزید کہا کہ ہم نے امریکا کو باور کرایا ہے کہ وہ پاکستان اور ہندوستان کے حوالے سے منصفانہ رویہ اختیار کرے۔اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں اسلحہ کی دوڑ کے حوالے سے کئی تجاویز دیں، لیکن ہماری تجاویز کا کبھی مثبت جواب نہیں آیا۔ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں نیوکلیئر سیکیورٹی نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز ہے اور یہ پاکستان اور ہندوستان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔سیکریٹری خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، ہمارا جوہری پروگرام اور ہتھیار استعمال کے لیے نہیں ہیں، بلکہ ہم اپنے دفاع کے لیے کم از کم دفاعی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام انتہائی محفوظ ہے اور ہم نے تمام عالمی معیارات کو یقینی بنایا یے۔ہندوستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ پڑوسی ملک کے جارحانہ عزائم خطے کے مفاد میں نہیں اور حال ہی میں ہندوستان نے نیوکلیئر آبدوز متعارف کرائی۔سیکریٹری خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں ہندوستان کو ایٹمی تجربات نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط کی پیشکش کی ہے، کیونکہ پاکستان عالمی سطح پر ایٹمی عدم پھیلاؤ کا بہت بڑا حامی ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ درخواست ویانا میں موجود پاکستان کے سفیر کی جانب سے جوہری توانائی کے عالمی ادارے کو دی گئی۔واضح رہے کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) 48 ممالک کا ایک گروپ ہے، جو نیوکلیئر ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے کام کرتا ہے۔پاکستان نے رواں سال مئی میں این ایس جی میں شمولیت کے لیے باضابطہ درخواست دی تھی۔اس حوالے سے وزارت خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے پاس گروپ میں شمولیت کے حوالے سے مہارت، افرادی قوت اور بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔گروپ نے گزشتہ سال ہندوستان کو این ایس جی میں شامل کرنے کے لیے اقدامات شروع کردیئے تھے جس کے بعد پاکستان نے اس کی رکنیت میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔تاہم امریکا کی حمایت کے باوجود ہندوستان کی این ایس جی میں شمولیت کی، چین سمیت متعدد ممالک نے سخت مخالفت کی تھی۔چین کے علاوہ نیوزی لینڈ، آئرلینڈ، ترکی، جنوبی افریقہ اور آسٹریا ان ممالک میں شامل تھے، جنہوں نے ہندوستان کو این ایس جی کی رکنیت دینے کی سخت مخالفت کی تھی ۔

مزید : صفحہ آخر