کھانا دیر سے لانے پر ٹیچروں کے تشدد سے طالب علم بے ہوش

کھانا دیر سے لانے پر ٹیچروں کے تشدد سے طالب علم بے ہوش

گڑھا موڑ(سپیشل رپورٹر،نامہ نگار)مار نہیں پیار ،ٹیچر کے گھر سے کھانا نہ لانے کی سزا،ٹیچر نے کلاس چہارم کے طالب علم پر تشدد کر کے بے ہوش کر دیا تفصیل کے مطابق گڑھا موڑ کے نواحی چک 106 ڈبلیو بی کے نجی سکول سمارٹ ایجوکیشن اکیڈمی میں زیر تعلیم کلاس چہارم کے طالب علم عمر زمان ولد یٰسین قوم بھٹہ کو ٹیچر محمد توقیر ولد محمد یوسف سکنہ106 ڈبلیو بی اور ٹیچر محمد ابراولد عبدالغفار نے کہا کہ ہمارے(بقیہ نمبر35صفحہ12پر )

گھر سے کھانا لے کر آؤ طالب علم کھانا لینے کے لئے ٹیچروں کے گھر پر گیا کھاناتاخیر سے ملنے کی وجہ سے طالب علم سکول میں لیٹ پہنچا جس پر دونوں ٹیچر سیخ پا ہو گئے اور ڈنڈے اور تھپڑوں سے طالب علم پر تشدد کرنا شروع کر دیا ٹیچروں کا تشدد برداشت نہ کرتے ہوئے طالب علم نیم بے ہوش ہو گیا جس پر ٹیچروں نے طالب علم کے والدین کو مطلع کیا کہ گرمی کی شدت کی وجہ سے آپ کا بیٹا نیم بے ہوش ہو گیا ہے سکول پر آکر لے جائیں والد یٰسین بھٹہ بیٹے کو لینے کے لئے سکول پہنچا تو طالب علم ٹیچروں کے تشدد کی وجہ سے نیم بے ہوشی کی حلات میں فرش پر پڑا تھا وجہ پوچھنے پر طالب علم نے اپنے جسم پر تشدد کے نشانات دکھائے اور کہا کہ ان دو ٹیچروں ابرار اور توقیر نے گھر سے کھانا تاخیر سے لانے پر تشدد کا نشانہ بنایا ہے جس پر طالب علم عمر زمان کے والد نے اپنے بیٹے کو آر ایچ سی گڑھا موڑ لا یا ابتدائی طبی امداد کے بعد پولیس ڈاکٹ کے ذریعے میڈیکل رپورٹ بنوا کر پولیس چوکی گڑھا موڑ تھانہ مترو کاروائی کے لئے درخواست دائر کر دی ہے والدین نے احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سیکرٹری ایجوکیشن اور وزیر تعلیم سے واقعہ کا فوری نوٹس لے کر کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

ٹیچر تشدد

مزید : ملتان صفحہ آخر