آسٹریلیا میں مچھلیاں کناروں پر آ کرچوہوں کا شکار کرنے لگیں

آسٹریلیا میں مچھلیاں کناروں پر آ کرچوہوں کا شکار کرنے لگیں
آسٹریلیا میں مچھلیاں کناروں پر آ کرچوہوں کا شکار کرنے لگیں

  


سڈنی(مانیٹرنگ ڈیسک)آسٹریلوی ماہرینِ ماحولیات نے دریافت کیا ہے کہ مغربی آسٹریلیا کے دریاؤں میں پائی جانے والی کیٹ فش نے دریا کے کنارے آنے والے چوہوں کا شکار کرنا شروع کردیا ہے لیکن اس کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔کیٹ فش کے چوہوں پر حملہ کرنے کی خبروں پر انہوں نے مغربی آسٹریلیا کے دریا ایش برٹن سے چھوٹی جسامت والی اٹھارہ سامن کیٹ فش پکڑیں اور ان کی غذا کا جائزہ لیا۔ معلوم ہوا کہ ان میں سے 44 فیصد کے پیٹ میں دریائے ایش برٹن کے کنارے پائے جانے والے چوہوں کی باقیات موجود تھیں۔ البتہ یہ واضح نہیں ہوپایا ہے کہ وہ دریا میں پائی جانے والی دوسری چھوٹی مچھلیوں کو چھوڑ کر چوہوں پر کیوں حملے کررہی ہیں۔کچھ مچھلیاں ایسی بھی تھیں جنہوں نے ایک ہی وقت میں 2 یا 3 چوہے تک کھائے ہوئے تھے اور ان کی غذا کا 95 فیصد حصہ شکار کیے گئے چوہوں پر مشتمل تھا۔اس سے پہلے یورپ میں پائی جانے والی کیٹ فش کے بارے میں پتا چلا تھا کہ وہ پانی کے قریب آنے والے کبوتروں کو شکار کرنے لگی ہیں لیکن آسٹریلوی کیٹ فش ان کے مقابلے میں بھی زیادہ خطرناک اور خونخوار ثابت ہورہی ہیں۔چوہوں کا شکار کرنے والی کیٹ فش کی جسامت بھی بتدریج بڑھ رہی ہے کیونکہ سامن کیٹ فش کی اوسط لمبائی 50 سینٹی میٹر ہوتی ہے جب کہ چوہا خور سامن کیٹ فش کی لمبائی 75 سینٹی میٹر تک پہنچ چکی ہے۔

مزید : کراچی صفحہ آخر