چارسدہ ،قانون کے پاسداروں کی رکشہ ڈرائیور پر بے جا تشدد

چارسدہ ،قانون کے پاسداروں کی رکشہ ڈرائیور پر بے جا تشدد

چارسدہ (بیورورپورٹ)ٹریفک پولیس جلاد بن گئی ۔ غریب رکشہ ڈرائیور کو بھرے بازار میں تشدد کا نشانہ بنا نے کے بعد ٹریفک چوکی لے گئے جہاں ٹریفک پولیس کے ایک درجن شیر دل جوانوں نے غریب رکشہ ڈرائیور کو مار مار کر آدھ موا کر دیا۔ بے رحم پولیس جوانوں نے غریب رکشہ ڈرائیور کے خون آلود کپڑے بھی پھاڑ دئیے ۔ ہسپتال لے جانے کی بجائے رکشہ ڈرائیور کو سٹی تھانہ میں پابند سلاسل کر دیاگیا ۔ عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا جس کے بعد غریب رکشہ ڈرائیور فریاد لے کر سیدھے ڈی آئی جی کے پاس پہنچ گئے مگر شیر دل جوانوں نے وہاں سے بھگا دیا ۔ تفصیلات کے ٹریفک پولیس کے شیر دل جوانوں نے تنگی روڈ پر غریب رکشہ ڈرائیور ثنا ء اللہ ولد شاد محمد سکنہ اتمانزئی کو ناکردہ جرم کے پاداش میں سرعام تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں رکشہ سمیت ٹریفک چوکی منتقل کر دیا جہاں پر درجن بھر ٹریفک پولیس کے شیر دل جوانوں نے ان پر بد ترین تشدد کرکے آد ھ موا کر دیا اور غریب ڈرائیور کے خون آلود کپڑے بھی پھاڑ دئیے ۔ ا س حوالے سے میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے متاثرہ ڈرائیور نے کہا کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں کی اپنی چنگ چی رکشے بغیر پر مٹ کے سارا دن شہر کے اندر گھومتے ہیں جن کیلئے قانون اور ضابطہ نہیں ہوتا مگر غریبوں کیلئے نا کردہ جرم پر بھی قانون کی کتاب کھلتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کل بھی 400روپے کا جرمانہ دیا ہے اور آج دوبارہ ناکردہ جرم پر پرچہ دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس نے سر عام تشدد کا نشانہ بنا کر ننگی گالیاں دی جس کا ان کو کوئی حق نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس نے ظلم اور بر بریت کی انتہا کر کے جانوروں سے بد تر سلوک کیا ہے جس پر وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت سے ضمانت پر رہا ہو کر وہ ڈی آئی جی سمیت پولیس آفسران کو فریا د کیلئے گئے مگر شیر جوانوں نے نہ چھوڑا جبکہ ٹریفک پولیس کے خلاف ان کی ایف آئی آر بھی درج نہ کی گئی ۔ انہوں نے آئی جی ناصر درانی اور ڈی آئی جی مردان اعجاز خان سے فوری طور پر انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر