زمین پرزندگی کی ابتداء ایک سیارے سے تصادم کا نتیجہ ہے، تحقیق

زمین پرزندگی کی ابتداء ایک سیارے سے تصادم کا نتیجہ ہے، تحقیق
زمین پرزندگی کی ابتداء ایک سیارے سے تصادم کا نتیجہ ہے، تحقیق

  


ہیوسٹن، ٹیکساس(مانیٹرنگ ڈیسک) آج سے 4 ارب اور 40 کروڑ سال پہلے زہرہ (وینس) جتنا ایک سیارہ نوزائیدہ زمین سے ٹکرایا تھا جس کے نتیجے میں زمین پر زندگی کی ابتداء ہوئی۔زندگی جسے ہم زندگی کی حیثیت سے جانتے ہیں اپنے وجود کے لیے کاربن کی محتاج ہوتی ہے۔ زمین پر کاربن کی وافر مقدار تب سے موجود ہے کہ جب اس سیارے پر زندگی کا وجود نہیں تھا لیکن اس بارے میں کوئی مناسب وضاحت موجود نہیں کہ زمین پر اتنی مقدار میں کاربن کہاں سے آیا کیونکہ نظامِ شمسی کی تشکیل سے متعلق نظریات اس سے کہیں کم مقدار کی پیش گوئی کرتے ہیں۔’’نیچر جیو سائنس‘‘ نامی ریسرچ جرنل کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں اس سوال کا ایک ممکنہ جواب دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کاربن اور سلفر سے بھرپور ایک سیارہ جس کی جسامت سیارہ زہرہ جتنی تھی، آج سے تقریباً 4.4 ارب سال پہلے زمین سے ٹکرایا تھا اور یہاں موجود کاربن اور سلفر کا بڑا حصہ اسی سے زمین میں منتقل ہوا تھا۔زمین کی تشکیل آج سے تقریباً ساڑھے 4 ارب سال پہلے شروع ہوئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اْس وقت درجہ حرارت اتنا زیادہ تھا کہ کاربن کو بخارات میں تبدیل ہوکر خلاء میں فرار ہوجانا چاہیے تھا لیکن زمین کے بیرونی اور اندرونی حصوں (کرسٹ اور مینٹل) میں کاربن کی موجودہ مقدار اس خیال کی مکمل نفی کرتی دکھائی دیتی ہے۔البتہ آج سے 4 ارب 40 کروڑ سال پہلے تک زمین کا درجہ حرارت اس حد تک کم ہوچکا تھا کہ کاربن یہاں سے تبخیر ہوکر خلاء میں فرار نہ ہوسکے تاہم وہ تب بھی ایک پگھلے ہوئے گولے کی شکل ہی میں تھی جس نے نیا نیا ٹھوس بننا شروع کیا تھا۔یہ معمہ حل کرنے کے لیے رائس یونیورسٹی، ہیوسٹن، ٹیکساس کے ماہرین نے حساب لگایا ہے کہ لگ بھگ 4 ارب 40 کروڑ سال پہلے زمین سے کوئی ایسا سیارہ ٹکرایا ہوگا جس کی جسامت زہرہ جتنی رہی ہوگی اور اس میں کاربن اور سلفر کی وافر مقدار بھی ہوگی۔ اس تصادم کے نتیجے میں زمین کی بالائی پرتوں میں کاربن کی اضافی مقدار منتقل ہوگئی لیکن چونکہ زمین مسلسل ٹھنڈی ہورہی تھی اس لیے یہ قشرِ ارض (کرسٹ) اور مینٹل سے زیادہ گہرائی میں نہیں اْتر پائی۔

مزید : کراچی صفحہ آخر