عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی جامعات میں اضافہ ہوا ہے،وزیرتعلیم کا دعویٰ

عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی جامعات میں اضافہ ہوا ہے،وزیرتعلیم کا دعویٰ
عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی جامعات میں اضافہ ہوا ہے،وزیرتعلیم کا دعویٰ

  


اسلام آباد(اے پی پی) وزیر مملکت برائے تعلیم و تربیت انجینئر بلیغ الرحمان نے دعویٰ کیاہے کہ موجودہ دور حکومت میں عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی جامعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے‘ اس وقت ایشیا کی 300 بڑی جامعات میں 10 جبکہ دنیا کی 750 میں 6 پاکستانی یونیورسٹیاں شامل ہیں‘ حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے لئے بھرپور فنڈنگ کی جارہی ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

جمعہ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ساجدہ بیگم کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے بتایا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں بہت بہتری آئی ہے‘ پاکستان میں تعلیم کے شعبہ میں مسائل تھے تاہم بتدریج بہتری آرہی ہے۔ ایشیا کی 300 بڑی جامعات میں 2011ءمیں چار پاکستانی‘ 2012ءمیں 6‘ 2013ءمیں 7 اور 2014 ءمیں دس جامعات شامل تھیں۔ عالمی سطح پر 750 جامعات میں 2011ءمیں 3 پاکستانی یونیورسٹیاں شامل تھیں جبکہ اب 2015ءمیں یہ تعداد بڑھ کر 6 ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایازیادہ تر 2014ءمیں شروع ہوئی ہے،سفارشوں پر پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے ذیلی کیمپس قائم کئے گئے‘ ہم نے بچوں کے مستقبل کو مقدم رکھا ہے۔ ایچ ای سی کا سب کیمپسز کیلئے طے شدہ معیار ہے ان کیخلاف قائم کیمپس پر سوال اٹھائے گئے،اب اس سے بہتری آئی ہے۔ادارے بھی اپنے آپ کو بہتر بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہاگزشتہ سال سرکاری جامعات کی فنڈنگ 82 ارب روپے اوررواں سال 91 ارب روپے تک کردی گئی ہے۔انہوں نے بتایاسکولوں میں بچوں کے اندراج میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان کے طالب علم دنیا کی بہترین جامعات میں اپنا لوہا منواتے ہیں۔ نصاب کا ایک منظم نظام ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن میں مسلسل اس پر نظرثانی کی جاتی ہے۔

مزید : اسلام آباد