9/11 سے ایک روز قبل امریکہ سے غائب ہونے والے 2300 ارب ڈالر کدھر گئے اور 9/11 حملوں سے اس رقم کا کیا تعلق تھا؟ تاریخ کے سب سے بڑے راز سے پردہ اُٹھ گیا، 9/11 حملوں کا پول کھل گیا

9/11 سے ایک روز قبل امریکہ سے غائب ہونے والے 2300 ارب ڈالر کدھر گئے اور 9/11 حملوں ...
9/11 سے ایک روز قبل امریکہ سے غائب ہونے والے 2300 ارب ڈالر کدھر گئے اور 9/11 حملوں سے اس رقم کا کیا تعلق تھا؟ تاریخ کے سب سے بڑے راز سے پردہ اُٹھ گیا، 9/11 حملوں کا پول کھل گیا

  


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ میں ہونے والے نائن الیون حملوں سے ایک دن قبل 10ستمبرکو سابق امریکی سیکرٹری دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے انکشاف کیا تھا کہ پینٹاگون کے بجٹ میں سے 2300ارب ڈالر(تقریباً 2300کھرب روپے) غائب ہو چکے ہیں۔ اس چشم کشا انکشاف کے 48گھنٹے بعد ہائی جیک کیے گئے طیارے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کی عمارتوں سے ٹکرا دیئے گئے۔ اس حادثے کی وجہ سے دنیا اتنی خطیر رقم کی پراسرار گمشدگی کو بھول گئی۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے حملوں کی 15ویں برسی سے چند ہفتے قبل ایک بار پھر دعویٰ سامنے آیا کہ پینٹا گون کے اسی ڈیپارٹمنٹ سے مزید 6ہزار ارب ڈالر غائب ہو چکے ہیں۔ اس دعوے پر مبنی خبروں کے بعد امریکہ حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ بتائے یہ رقم کہاں گئی؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پینٹاگون اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے جان بوجھ کر جہاز ٹکرائے گئے تاکہ غائب ہونے والی بجٹ کی رقم کے قضیے سے توجہ ہٹائی جائے اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی آڑ میں مزید رقم حاصل کی جا سکے اور اسے عراق میں تباہ کن ہتھیاروں کی تلاش میں صرف کیا جا سکے۔سب جانتے ہیں کہ نائن الیون کے اس واقعے کے بعد امریکی صدرجارج بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عراق پر چڑھائی کے لیے مزید 48ارب ڈالر مختص کر دیئے تھے۔

امریکہ کی دھمکیاں یکسر نظر انداز، چین نے فوج کو حکم جاری کردیا، حرکت میں آگئی

مزید برآں ان غائب ہونے والے 2300ارب ڈالرز کے متعلق بھی کبھی کوئی بات دوبارہ سننے میں نہیں آئی۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پینٹاگون اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے جہاز ٹکرا کر جو مقاصد امریکی حکومت حاصل کرنا چاہتی تھی وہ اس نے کر لیے۔ وہ گمشدہ رقم پر پردہ ڈالنا چاہتی تھی اور مزید رقم دہشت گردی کی جنگ کے لیے جاری کرنا چاہتی تھی۔ یہ دونوں مقصد نائن الیون کے واقعے کے بعد پورے ہو گئے تھے۔ پینٹا گون سے ٹکرائے گئے جہاز سے 125افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت اکاﺅنٹنٹس کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں کہ غائب ہونے والی رقم ”ڈیپ سپیس پروگرام“ کے لیے تھی۔ امریکہ محکمہ دفاع نے اپنی حالیہ مالی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2015ءمیں خرچ ہونے والے 6ہزار ارب ڈالرز کا بھی کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں۔

مزیدپڑھیں:’تیسری جنگ عظیم اس جگہ سے شروع ہوگی‘ بڑی پیشنگوئی منظرعام پر، جان کر پاکستانیوں کی پریشانی کی حد نہ رہے گی

رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ صرف 2015کے تیسری سہ ماہی میں1ارب 30کروڑ ڈالر کا ریکارڈ غائب کرنے کے شواہد بھی ملے ہیں۔معروف امریکی صحافی رابرٹ کروفرڈ کا کہنا ہے کہ ”ان تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سے لوگ یہ یقین کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ امریکی حکومت نے بعض عوامل کی پردہ پوشی کے لیے نائن الیون کا ڈرامہ خود رچایا تھا۔ گم ہونے والی رقم دراصل گم نہیں ہوئی بلکہ اس کا ریکارڈ غائب کیا گیا ہے اور نائن الیون کا واقعہ برپا کرنے کا مقصد اسی چیز کی پردہ پوشی کرنا تھا۔“

مزید : بین الاقوامی