سعودی اوجر کمپنی ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر لیکن کیا آپ کو معلوم ہے سعودی حکومت نے اس کمپنی کے کتنے پیسے دینے ہیں؟ جواب جان کر واقعی آپ کے ہوش اُڑجائیں گے

سعودی اوجر کمپنی ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر لیکن کیا آپ کو معلوم ہے ...
سعودی اوجر کمپنی ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر لیکن کیا آپ کو معلوم ہے سعودی حکومت نے اس کمپنی کے کتنے پیسے دینے ہیں؟ جواب جان کر واقعی آپ کے ہوش اُڑجائیں گے

  


ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں پھنسے غیر ملکیوں میں ایک بڑی تعداد سعودی اوجر کمپنی کے ملازمین کی بھی ہے، جنہیں کئی ماہ سے تنخواہ کی ادائیگی نہیں کی گئی کیونکہ کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے حکومت کی جانب سے ادائیگیاں نہیں کی جا رہیں۔ حکومت کی جانب سے اس تعمیراتی کمپنی کو ادائیگیوں کے لئے مذاکرات کا آغاز کیا گیا تو امید کی ایک کرن پیدا ہوئی لیکن اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ سعودی اوجر کمپنی کو واجب الادا رقم اتنی بڑی ہے کہ فی الحال ادائیگی کے معاملے پر بات چیت ہی بند کردی گئی ہے۔ یہ کمپنی سابق لبنانی وزیراعظم سعد حریری کے خاندان کی ملکیت ہے اور ان دو بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے کہ جنہوں نے سعودی عرب میں دفاعی تنصیبات سے لے کر سکولوں اور ہسپتالوں تک ہر شے تعمیر کی ہے۔ 2014ءمیں تیل کی قیمت میں غیر معمولی کمی آنے کے بعد حکومتی پراجیکٹس پر کئے گئے کام کی ادائیگیاں بہت کم ہو گئیں، جس کے نتیجے میں اس کی مالی حالت دگرگوں ہوگئی۔

سعودی اوجر کمپنی نے مدینہ ائیر پورٹ کا آدھا حصہ فروخت کرنے کیلئے بات چیت شروع کردی

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق اب صورتحال یہ ہے کہ سعودی حکومت اوجر کمپنی کی 30ارب ریال (تقریباً 8کھرب پاکستانی روپے) کی مقروض ہوچکی ہے۔ یہ بھاری قرضہ ان پراجیکٹس کے عوض واجب الادا ہے جو سعودی اوجر کمپنی مکمل کرچکی ہے لیکن حکومت کی جانب سے ان کی ادائیگی نہیں کی گئی۔

سعودی اوجر کمپنی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے عدم ادائیگیوں کے باعث یہ اپنے 15 ارب ریال کے قرضہ جات، کنٹریکٹرز اور سپلائرز کو اربوں ریال کی ادائیگی اور ملازمین کو اڑھائی ارب ریال تنخواہوں کی مد میں ادا کرنے سے قاصر ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ حکومت کی جانب سے ایک ایسی کمپنی کو بچانے کے لئے جاری مذاکرات کیوں بند کردئیے گئے ہیں جس کے دیوالیہ ہونے کی صورت میں سعودی بینکنگ سسٹم اور معیشت میں بھونچال آجائے گا۔ اس کمپنی کے دیوالیہ ہونے کی صورت میں اس پر انحصار کرنے والے کنٹریکٹرز اور سپلائرز کے وسیع نیٹ ورک کے دیوالیہ ہونے کا سلسلہ بھی شروع ہوجائے گا، جس کے نتیجے میں غیر ملکی ملازمین کی پہلے سے جاری مصیبتوں میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔

مزید : عرب دنیا