”میرے گھر کے وہ جنات جن میں ایک میرے ابو اور دوبھائی ہیں“گھر گھر کی لرزہ خیز کہانی

”میرے گھر کے وہ جنات جن میں ایک میرے ابو اور دوبھائی ہیں“گھر گھر کی لرزہ خیز ...
 ”میرے گھر کے وہ جنات جن میں ایک میرے ابو اور دوبھائی ہیں“گھر گھر کی لرزہ خیز کہانی

  



نظام الدولہ

نظام بھیا آپ چونکہ مافوق الفطرت کہانیوں میں کئی ایسے مسائل کو موضوع بناتے ہیں جو انسانی عقل سے ماورا ہوتے ہیں اس لئے میں بھی اس موضوع پر ایک اہم کہانی لیکر آئی ہوں۔ لیکن یہ عقل سے ماورا ہرگز نہیں۔میں کسی مافوق الفطرت واقعہ کو نہیں جھٹلاتی لیکن میں یہ بھی تسلیم نہیں کرسکتی کہ ہرواقعہ پراسرار مخلوق کا مرہون منت ہوتا ہے۔بہت سے انسانی جسمانی مسائل اتنے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ انسان ان کا علاج کرانے کی بجائے پیروں عاملوں کے پاس لے جاتا ہے تو اپنے بچے بچی کی زندگی غارت کردیتا ہے۔

میری آپی کے سائے دو کیوں تھے،یہ راز تب کھلاجب....

میری یہ کہانی ہر ایک کے لئے شاید اتنی دلچسپی کا باعث نہ ہوگی البتہ ہر وہ عورت میرے درد کو آسانی سے سمجھ لے گی جو میں بیان کرنا چاہتی ہوں ۔کیونکہ یہ خالصتاً عورتوں کا مسئلہ ہے۔عورتیں تو اس کو اچھی طرح سمجھ سکتی ہیں لیکن یہ مسئلہ اگر مرد بھی جان لیں تو میں سمجھتی ہوں کہ ایسی بہت سی عورتوں یا کنواری لڑکیوں کی زندگی آسان ہوجائے گی کیونکہ انکے گھر کے مردوں کی جہالت کی وجہ سے جو قباحتیں پیدا ہوتی ہیں ،ان کی نوبت نہیں آپائے گی ۔

میں اپنے بارے میں بتادوں کہ میں گرلز سکولوں میں وزٹ کرکے بچیوں کے جنسی مسائل پر انہیں ایک مشن کے تحت لیکچر اور تربیت دیتی ہوں۔اس پر بہت سے لوگوں کو پرابلم ہے لیکن مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں۔میں مستقبل کی ماوں کا بچپن اور لڑکپن محفوظ بنانے اور انہیں شعور دینے کے لئے جہاد کررہی ہوں۔

میں اپنی کہانی کا آغاز اس دور سے کرنا چاہتی ہوں جب مجھے پہلی بار بلوغت کا سامنا کرنا پڑا ۔گھر میں صرف امی تھیں اور دو بڑے بھائی اور والد۔ان دنوں میں ساتویں جماعت میں تھیں کہ اچانک سکول میں ہی میرے پیٹ میں درد شروع ہوگیا اور میں نیم بے ہوش ہوگئی تو ٹیچرز نے فوری میرے گھر فون کیا،بھائی گھر میں تھا وہ سکول آیا اور مجھے گھر لے گیا لیکن راستے بھر وہ یہی پوچھتا رہا کہ ہوا کیا ہے،تم فضول چیزیں بہت کھاتی ہو اس لئے فوڈ پوائزنگ ہوگئی ہوگی تمہیں۔میں بھی یہی سمجھی کہ شاید الم غلم کھانے سے پیٹ خراب ہوا اور چکر آگئے ہیں۔ امی کو بھی فوری طور پر سمجھ نہیں آسکی تھی لیکن میری کیفیت دیکھ کر جب وہ قریبی ڈاکٹر کے پاس لے گئیں تو ڈاکٹر کے چند سوالوں کے بعد انہیں سمجھ آگئی اور پھر گھر آکر کمرہ بند کرکے انہوں نے مجھے سمجایا کہ لڑکیاں جب جوان ہوتی ہیں توہر مہینے ان کے ساتھ یہ مسئلہ ہوجاتا ہے۔

حیض ایک قدرتی امر ہے لیکن کئی بچیوں کو اس میں بے حد تکلیف ہوتی ہے ۔میں قدرتی طور پر اس پیچیدگی کا ایسا شکار ہوئی کہ میرے بھائی اور ابو کو بالکل سمجھ نہ آسکی کہ ہر ماہ زوبی کے پیٹ میں درد،اسکا رنگ پیلا اور نیم بے ہوش کیوں ہوجاتی ہے۔اگلے تین ماہ تک مجھے ایسی تکلیف سے گزرنا پڑا۔یہ دور میرے لئے قیامت سے کم نہیں تھا ۔مجھے جب بھی اس حالت سے دوچار ہونا پڑتا،بھائی اور ابو سخت جملے کہتے کہ یہ مکر کرتی ہے۔

اس پراسرار غار میں کون تھا؟ یونیورسٹی ٹرپ میں جانے والی لڑکی کے ساتھ پیش آنے والا ایک ایسا واقعہ کہ جس نے اسکی زندگی کی قیمتی ترین متاع چھین لی اور پھر ۔۔۔۔۔۔

ابو ایک پیر صاحب کے مرید تھے ۔ایک دن انہیں خیال آیاکہ کہیں مجھ پر کوئی سایہ تونہیں ہوگیا ،یا نظر بد کا شکار تو نہیں ہوگئی ۔لہذا وہ مجھے اپنے پیر صاحب کے پاس لے گئے ۔امی کو بھی یہی وہم ہوگیاتھا ۔وہ ابو کے کہنے پر کہ داکٹروں کے پاس ایسا کوئی علاج نہیں کیونکہ نیم بے ہوشی کی حالت میں میں اول فول بک جاتی تھی جو ہذیان کی ایک علامت تھی۔

پیر صاحب نے مجھے دم کیا اور کہا کہ اس پر جنّ عاشق ہوگیا ہے اس لئے جن دنوں اٹیک ہو اسکو گھر سے باہر نہ جانے دیا کریں ۔ڈاکٹر سے علاج کرایا تو جنّ اسکو تنگ کرے گا۔اس لئے ہر ہفتہ دم کراتے رہو۔ امی ابو اس پر کاربند ہوگئے اور جونہی اگلے مہینے میرے مخصوص ایام کےآثار پیداہوئے مجھے بے چینی ،گھبراہٹ اور تکلیف شروع ہوگئی۔ ان دنوں میرے سالانہ پیپر بھی تھے ،کچھ اس وجہ سے بھی میں پڑھنے میں زیادہ وقت دینے لگی جس سے کھانے پینے کا ہوش بھی نہ رہا ،اوپر سے ایام کا شروع ہونا میرے لئے عذاب ناک امتحان سے کم نہیں تھا۔جس دن میرا پیپر تھا اس سے ایک رات پہلے میں نے امی سے کہا کہ وہ مجھے کسی گائنی ڈاکٹر کو دیکھا دیں کیوں کہ میری ٹیچر نے مجھے یہ مشورہ دیا تھا ۔امی نے ابو سے کہا کہ زوبی کو گائنی والی ڈاکٹر کے پاس لیکر جانا ہے تو وہ بھڑک اٹھے کہ گائنی ڈاکٹر کے پاس کیوں لے جاو¿ں ۔ان کے ذہن میں ہزاروں زہریلے ناگ پھن پھیلانے لگے کہ نہ جانے انکی بیٹی کون سا ایسا گناہ کربیٹھی ہے کہ اسکو گائنی ڈاکٹر کے پاس لیجانا ضروری ہے۔وہ بہت طیش میں آئے ۔بھائی بھی ان سے دس گنا زیادہ جاہل ثابت ہوئے۔نتیجہ یہ نکلا کہ گھر میں ہنگامہ برپا ہوگیا ،میں بے ہوش ہوچکی تھی۔بھائی اور ابو مجھے اس شک کی بنا پر مارنے پر تل گئےکہ میں کسی کے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔

اے کاش کہ میری امی کے اندر سمجھداری اور ہمت ہوتی تو وہ انہیں سمجھا پاتیں کہ بعض لڑکیوں کے مخصوص ایام میں انہیں بہت زیادہ تکلیف اٹھانا پڑتی ہے،ان کی صحت گر جاتی اور وہ مریل ہوجاتی ہیں۔اس پر مستزاد کہ وہ گھریلو دباوکی وجہ سے ڈپریشن کے مرض میں گرفتار ہوکر ہسٹیریا کا شکار ہوجاتی ہیں۔

ابو اور بھائیوں کی تو عقل مرگئی اور جھوٹی غیر جاگ اٹھی تھی۔انہوں نے امی کی ایک نہ سنی اور مجھے جان سے مارنے کی پوری کوشش کی ۔یہ تو شکر ہوا کہ ہمسائیوں نے شورشرابہ سن کر ون فائیو پر کال چلا دی کہ اس گھر میں کئی ہنگامہ ہو رہا ہے ۔اتفاق سے پولیس جلد پہنچ گئی ۔پولیس کو دیکھ کر ابو اور بھائیوں کی جان نکل گئی ،میں تو پہلے ہی بے ہوش تھی ،پورا جسم زخموں سے چور ہوگیا تھا اور مجھے اس بات کا کوئی احساس نہیں تھا ۔جب آنکھ کھلی تو سارے واقعات کا علم ہوا اور سنتے ہی میں زارو قطار رونے لگی کہ میں کتنی بد نصیب ہوں کہ جس نے آج تک اپنے بھائی اور والد کے سوا کسی انجان مرد سے کوئی بات بھی نہیں کی تھی لیکن اپنوں نے مجھ پر انتہائی گندہ الزام لگا دیا۔

اس دن لیڈی ڈاکٹر نے امی کو سمجھایا کہ اس لڑکی کا اصل مسئلہ کیا ہے۔ڈاکٹر بہت ہمدرد عورت تھی ،اس نے گائنی ڈاکٹر سے معائنہ کرایا اور کچھ ٹیسٹ کرانے کے بعد مجھے ادویات دیں جو تین ماہ کھائیں تو مجھے حیض کی تکلیف سے نجات مل گئی لیکن ان تین ماہ میں میں اندر سے ٹوٹ پھوٹ گئی۔رشتوں سے میرا اعتبار اٹھ گیا ۔میں نے والد اور بھائیوں کو معاف کردیا اور ایم ایس سی سائیکالوجی کرنے تک میں نے سر گرا کر اپنے مستقبل کو سنوارنے پر توجہ دی اور پھر میں نے زندگی کا یہ مشن بنا لیا ۔میں گرلز سکولوں میں جاتی ہوں اور بچیوں کو ان حساس مسائل پر لیکچردیتی ہوں ۔شاید وہ زندگی کے اس کرب سے دوچار ہونے سے پہلے اپنی ذہنی اور جسمانی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مسائل جان کر خود کو سنبھال سکیں اور ان میں سے کوئی زوبی جیسی بدنصیب ثابت نہ ہو۔

مزید : مافوق الفطرت


loading...