فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کیلئے قانون سازی اور انتظامی اقدامات تیز کئے جائیں : وزیر اعظم

فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کیلئے قانون سازی اور انتظامی اقدامات تیز کئے ...

  



اسلام آباد (صباح نیوز) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے وزیر قانون و انصاف کو فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے قانون سازی اور انتظامی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی ہے، یہ ہدایت انہوں نے فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد سے متعلق اعلیسطح قومی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی وزیر اعظم نے کہا کہ اصلاحات کا بنیادی مقصد فاٹا کے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانا ہے وزیر اعظم نے کہا کہ فاٹا کے عوام گزشتہ تین دہائیوں سے شورش اور نقل مکانی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں وزیر اعظم کی زیر صدارت فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد سے متعلق اعلٰی سطح قومی کمیٹی کا اجلاس ہوا اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، گورنراقبال ظفر جگڑا اور وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک ، وزیر سرحدری امور عبدالقاد بلوچ ، وزیر قانون زاہد حامد، ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن سرتاج عزیز اور اعلٰی سول و عسکری حکام نے شرکت کی پارلیمینٹ اور قبائلی علاقوں میں فاٹا اصلاحات پیکج پر کمیٹی نے اطمینان کا اظہار کیا کابینہ نے فاٹا اصلاحات پیکج کی منظوری مارچ 2017میں دی تھی فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کو تیز کرنے کے لیے کمیٹی نے متعدد فیصلے کیے ،کمیٹی نے پولیس کی بھرتی تیز رفتار بنیادوں پر کرنے کی منظوری دے دی ہے کمیٹی نے تربیت کے بعد ایف سی کی تعیناتی کی بھی منظوری دی اجلاس میں اصلاحات کے نفاذ تک مناسب انتظامی طریقہ کار وضع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اصلاحات کے نفاذ تک چیف آپریٹنگ آفیسر کے عہدے کی منظوری بھی دی گئی ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فاٹا میں حکومتی رٹ کی بحالی میں کامیابیوں پر اجلاس کو بریفنگ دی آرمی چیف نے سیکورٹی اور سرحدی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اقدامات اور گزشتہ چند سال میں فاٹا میں ترقیاتی کاموں سے بھی آگاہ کیا۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ فاٹا میں امن اورسرحدی حفاظتی نظام کا استحکام یقینی بنارہے ہیں، فاٹا میں حکومتی رٹ بحال کرنے میں بڑی کامیابی ہوئی ہے۔جبکہ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز نے اجلاس کے شرکا بریفنگ دی،فاٹا اصلاحات کمیٹی کے اجلاس میں فاٹا میں پولیس اور فرنٹیئر کانسٹبلری کی فوری تربیت کرکے تعیناتی سمیت فاٹا میں انتظامی امور چلانے کے لئے جامع ایڈمسنٹریٹو میکنزم بنانے، فاٹا کے معاملات چلانے کیلئے عبوری عرصے کیلئے چیف آپریٹنگ آفیسر مقرر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔دوسری طرف وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چودھری اور بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر سہیل محمود نے الگ الگ ملاقات کی اعزاز چودھری اور وزیر اعظم کی ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات سمیت خطے کی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا جبکہ وزیر اعظم اور بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر کی ملاقات میں پاک بھارت تعلقات سمیت علاقائی امور پر بات چیت ہوئی۔

وزیر اعظم

چشمہ(آن لائن) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چشمہ میں 340میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کے حامل پاکستان کے پانچویں ایٹمی بجلی گھر سی فور کا افتتاح کردیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کے موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 28 دسمبر 2016 کو آغاز کے تقریبا 8 ماہ بعد چشمہ یونٹ سی فور کا افتتاح میرے لیے باعث افتخار ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سی فور سے پہلے شروع ہونے والے تینوں یونٹس بہترین کام کر رہے ہیں اور جوہری توانائی پلانٹس سے سستی بجلی پیدا ہورہی ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چشمہ اور مظفرگڑھ میں جوہری توانائی کے مزید منصوبے لگائے جارہے ہیں، جو مکمل ہوکر ملک کو روشن اور ماحول کو صاف رکھیں گے۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ چینی حکومت اور عوام کی مدد کے بغیر یہ منصوبے مکمل نہیں ہوسکتے تھے۔ چشمہ ایٹمی بجلی منصوبے کے سی ون، سی ٹو اور سی تھری یونٹ بالترتیب 2000، 2011 اور 2013 سے کامیابی سے قومی گرڈ میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔دو بڑے ایٹمی بجلی گھر کے ٹو اور کے تھری کراچی کے قریب زیر تعمیر ہیں جو 2020 اور 2021 میں کام شروع کردیں گے، ان بجلی گھروں سے قومی گرڈ میں 2 ہزار دوسو میگاواٹ بجلی شامل کی جائے گی۔پاکستان کے تمام جوہری بجلی گھروں میں پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹر اتھارٹی کے طے کردہ حفاظتی اصولوں اور دیگر معاملات کا خیال رکھا جاتا ہے، یہ تمام اصول انٹرنیشنل اٹاملک انرجی ایجنسی کے طریقہ کار کے مطابق ہے۔چشمہ نیوکلیئر پاور کمپلیکس میں چشمہ تھری اور چشمہ-فور ری-ایکٹرز کے معاہدے پر 2009 میں چینی کمپنی کے ساتھ دستخط کیے گئے تھے جس کے تحت ان منصوبوں نے بالترتیب 2016 اور 2017 تک کام کا آغاز کرنا تھا۔340 میگا واٹ کے حامل چشمہ-تھری اور چشمہ-فور پانی کے دبا سے چلنے والے ری ایکٹرز ہیں، 300 میگا واٹ کے حامل چشمہ 1 اور 2 بھی چین نے فراہم کیے تھے۔

شاہد خاقان

مزید : صفحہ اول


loading...