شریف خاندان اور اسحٰق ڈار کیخلاف نیب ریفرنس دائر ، پاناما کیس نظرثانی اپیل سماعت کیلئے مقرر

شریف خاندان اور اسحٰق ڈار کیخلاف نیب ریفرنس دائر ، پاناما کیس نظرثانی اپیل ...

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف دائر ریفرنسز میں سے ایک ریفرنس کو نامکمل قرار دے دیا جب کہ ترجمان نیب کا کہنا ہے کہ کسی ریفرنس کو واپس نہیں بھیجا گیا تمام ریفرنسز منظور کرلیے گئے ہیں۔28 جولائی کو سپریم کورٹ کے پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے گزشتہ روز 4 ریفرنسز کی منظوری دی جن میں سے 3 ریفرنسز شریف خاندان اور ایک وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ہے۔نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفرعباسی ٹیم کے ہمراہ رجسٹرارآفس پہنچے اور اسلام آباد کی احتساب عدالت کے رجسٹرار آفس میں ریفرنس دائر کیے۔نیب کی پراسیکیوشن ٹیم نے شریف خاندان کے خلاف تینوں ریفرنس دائر کیے ہیں۔شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ کے 2 ریفرنسز دائر کیے گئے جب کہ ایک ریفرنس عزیزیہ اسٹیل مل کے معاملے پر دائر کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ناجائز اثاثہ جات ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ریفرنسز کے ساتھ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی 9 جلدیں لگائی گئی ہیں جو ہر ریفرنس کے ساتھ منسلک ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے رجسٹرار آفس نے ابتدائی اسکروٹنی کے بعد شریف خاندان کے خلاف ایک ریفرنس کو نامکمل قرار دیا ہے۔ذرائع کے مطابق شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ اپارٹمنٹس سے متعلق ریفرنس کو نامکمل قرار دیا گیا ہے اور اس میں متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹرار احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف 2 اور اسحاق ڈار کے خلاف ایک ریفرنس کو وصول کرلیا ہے جب کہ نامکمل ریفرنس سے متعلق عدالت کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ نیب نے سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کے باعث ا?ج عبوری ریفرنس دائر کیے ہیں تاہم حتمی ریفرنس جے آئی ٹی کی جانب سے لکھے گئے بیرون ممالک کو خطوط کے جواب آنے کے بعد ہی دائر کیے جائیں گے اور ریفرنسز میں مزید شواہد بھی اکٹھا کرکے شامل کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تینوں ریفرنسز میں نیب کی سیکشن 9A لگائی گئی ہے جو غیر قانونی رقوم اور تحائف کی ترسیل سے متعلق ہے جب کہ نیب لاہور اور راولپنڈی نے دفعہ 9A کی تمام 14 ذیلی دفعات کو شامل کیا گیا ہے اور ہردفعہ کی سزا 14 سال قید مقرر ہے۔ذرائع کا کہنا ہیکہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف سیکشن 14C لگائی گئی ہے جو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے سے متعلق ہے۔دوسری جانب ترجمان نیب نوازش علی نے کہاہے کہ ریفرنس کو واپس بھیجے جانے کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے چار ریفرنسز احتساب عدالت میں جمع کرائے ہیں اور تمام ریفرنسز کو قبول کرلیا گیا ہے۔ کسی ریفرنس کو قبول نہ کرنے کی باتیں قیاس آرائیاں ہیں، ترجمان نیب کی وضاحت ترجمان کا کہنا تھا کہ ریفرنسز کا معاملہ ٹرائل کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور کسی بھی ریفرنس کو احتساب عدالت نے واپس نہیں بھیجا۔نوازش علی نے کہا کہ ایون فیلڈ کے کیس میں پانچ ملزمان کی کاپیاں درکار تھیں ، ہم نے تین کی دیں لیکن یہ ریفرنس قبول کرلیاگا۔انہوں نے مزید کہا یہ کہنا کہ کسی ریفرنسز کوقبول نہیں کیا گیا یہ قیاس آرائیاں ہیں، نیب نے شفاف طریقے سے کام کرکے ریفرنس دائر کیے اور اس حوالے سے جو ہم پر ذمہ داریاں تھی وہ مکمل کرلی ہیں۔علاوہ ازیں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج نثار بیگ کا عین وقت پر لاہور ہائیکورٹ تبادلہ کردیا گیا ہے جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالتوں میں 2 ججز میں سے صرف ایک جج دستیاب ہیں جب کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پہلے ہی 40 مقدمات کی سماعت جاری ہے۔

نیب ریفرنسز

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس نے پاناماکیس کے فیصلے کیخلاف نوازشریف،ان کے بچوں اور اسحاق ڈار کی جانب سے دائر کی گئی نظر ثانی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر کردی ہیں جس کی سماعت سپریم کورٹ کا 3رکنی بنچ کرے گا۔ تین رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس اعجاز افضل کریں گے۔تفصیلات کے مطابق پانامہ کیس کے فیصلے کے خلاف سابق وزیر اعظم نوا ز شریف ان کے بچوں اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے نظر ثانی کی اپیلیں دائر کی گئیں تھیں جن کے سماعت کے لئے سپریم کورٹ نے مقرر کردیا ہے۔ سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ 12ستمبر کو نظرثانی اپیلوں کی سماعت کرے گا۔ تین رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس اعجاز افضل کریں گے جبکہ اس پینچ میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن بھی شامل ہیں۔نظر ثانی درخواستوں میں نواز شریف کی تین اور مریم صفدر کی ایک درخواست شامل ہے۔واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف ، ان کے بچوں اور اسحاق ڈار کی جانب سے پاناما کیس کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیلوں میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی نے انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا جبکہ عدالتی فیصلے میں جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات کو زیر غور نہیں لایا گیا۔ پاناما عملدرآمد میں سماعت کرنے والے ان تین ججز کو جے آئی ٹی رپورٹ پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

اپیلیں منظور

مزید : صفحہ اول