افغانستان کا مسئلہ فوج سے حل نہیں کیا جا سکتا : پاکستان اور چین میں اتفاق

افغانستان کا مسئلہ فوج سے حل نہیں کیا جا سکتا : پاکستان اور چین میں اتفاق

  



بیجنگ( مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) امریکہ کی افغانستان ، پاکستان اور جنوبی ایشیاء سے متعلق نئی پالیسی کے اعلان کے بعد خطے میں پید ا ہونیوالی صورتحال اور اس کے سد باب کیلئے دوست ممالک کو اعتماد میں لینے کے حوالے سے گزشتہ روز چین کے دورہ پر گئے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات کی جس میں پاک چین تعلقا ت سمیت خطے کی بدلتی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جبکہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تعاون بڑھانے سمیت مل کر آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے ۔ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے وزراء خارجہ نے مشترکہ پریس کرتے ہوئے کہا چین اور پاکستان متفق ہیں کہ افغان مسئلے کو صرف سیاسی انداز میں حل کیا جاسکتا ہے اور اس کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، چین انسداد دہشت گردی کی پاکستانی کوششوں کی مکمل حمایت کرتاہے ۔خواجہ آصف کا کہنا تھا پاک چین دوستی بے مثال ، تعلقات تاریخی نوعیت کے اور قابل تقلید ہیں،پاکستان ون چائنا پالیسی کی بھرپور حمایت کرتا ہے ۔ چینی ہم منصب سے ملاقات میں تجارت، سی پیک اور دفاع کے شعبوں پر بات ہوئی۔ افغانستان میں امن ہی خطے کے مفاد میں ہے۔ جامع فوجی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے بھرپور کردار ادا کیا ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آئے جبکہ انسداد دہشت گردی کی ان کوششوں پر چینی حمایت کے شکرگزار ہیں۔اس موقع پر چینی وزیرخارجہ نے کہا چین پاکستان کی دہشت گردی کیخلاف جنگ کی مکمل حمایت کرتاہے اور بین الاقوامی برادری کو بھی پاکستان کو ان کوششوں کیلئے مکمل کریڈٹ دینا چاہیے۔ بدلتی ہوئی علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں پاکستان اور چین ساتھ ساتھ کھڑے ہیں اور ہم پاک چین اسٹریٹیجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔سی پیک خطے کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا، چین پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کرتا رہے گا جبکہ افغانستان میں امن چین اور پاکستان دونوں ممالک کے مفاد میں ہے،دہشت گردی ایک مشترکہ مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، افغان قیادت پر مشتمل مصا لحتی عمل ہی افغانستان میں امن کا ضامن ہے جس کیلئے پاکستان اور چین مشترکہ کوششیں کرتے رہیں گے۔ چین نے افغانستان اور جنو بی ا یشیا کیلئے نئی امریکی پالیسی پر غور کیاہے ہمیں امید ہے نئی امریکی پالیسی افغانستان اور علاقائی امن و استحکام کی بحالی کیلئے سود مند ثابت ہو گی ۔انہوں نے امسال کے آخر میں چین، پاکستان اور افغان وزرائے خارجہ کی پہلی ملاقات اور اجلاس کا عندیہ دیتے ہوئے کہا اس اجلاس میں تینوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک کمیونیکشن، سکیورٹی ڈائیلاگ اور مشترکہ تعاون کے فروغ پر غور کیا جائے گا۔ پاکستان اور افغانستان خطے کے اہم ترین ممالک ہیں بیجنگ کی خواہش ہے دونوں ممالک کے عوام امن و خوشحالی کیساتھ آگے بڑھیں ۔چین افغان مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کم کرنے کی بھرپور کوششیں کررہا ہے ، چین پاکستان کے مفادات کا احترام کرتا ہے۔افغان قیادت پر مشتمل مصالحتی عمل ہی افغانستان میں امن کا ضامن ہے۔چینی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا برصغیر میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ خطے کے معاملات میں پاکستان اور چین ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ہم اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ سی پیک کیلئے جو بھی خطرہ ہوگا اس کا بھرپور سد باب کیا جائے گا اور دونوں ملکوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔

مزید : صفحہ اول


loading...