نواز شریف ، انکے بچوں ، اسحاق ڈار کیخلاف ریفرنس ، گرفتار ی لازمی قانونی تقاضا نہیں : قانونی ماہرین

نواز شریف ، انکے بچوں ، اسحاق ڈار کیخلاف ریفرنس ، گرفتار ی لازمی قانونی ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی/نامہٓ نگار)شریف فیملی اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنسز دائر ہونے کے بعد کیا ان کی گرفتاری ضروری ہے ؟اس سوال کے جواب میں روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز قانونی ماہرین کا کہناہے کہ ملزموں کی گرفتاری لازمی قانونی تقاضا ہرگز نہیں ۔پاکستان بار کونسل کے رکن اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ 2014ء میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کا 5رکنی بنچ سرور بنام سرکار کیس میں قرار دے چکا ہے کہ ملزموں کی گرفتاری لازمی قانونی تقاضا نہیں ہے اور یہ کہ ملزم سے ضمانت نامہ لینا بھی ضروری نہیں ۔ یہ تفتیشی ادارے کا صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ ملزموں کو گرفتارکرے یا نہ کرے ،ایسے بہت سے مقدمات ہیں جن میں قرار دیا جاچکا ہے کہ تفتیشی اداروں کو ملزم جسمانی طور پر مطلوب نہ ہو تو عدالتیں ان کی گرفتاری کا حکم نہیں دے سکتیں ۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نیب 70فیصد مقدمات میں صرف ملزموں کو طلبی کے نوٹس بھیجتا ہے ،وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کرتا۔اس سلسلے میں ایل پی جی کیس ،رینٹل پاور کیس ،سکیورٹی ایکسچینج کمشن کیس اور ایل ڈی اے کیس کی مثالیں موجود ہیں ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اگر ملزم عدالت کے طلب کرنے پر بھی پیش نہیں ہوتا تو پھر عدالتیں اس کی حاضری یقینی بنانے کے لئے قانونی راستہ اختیار کرتی ہیں ۔ملک کا کوئی قانون ملزم کی لازمی گرفتاری کی پابندی عائد نہیں کرتا ،قابل دست اندازی پولیس جرائم میں بھی تفتیشی افسر کی صوابدید ہے کہ وہ چاہے تو ملزم کو حراست میں نہ لے ۔اس حوالے سے ماڈل ٹاؤن ایف آئی آر کیس کی مثال موجود ہے جب لاہور ہائی کورٹ نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے یہ واضح کردیا تھا کہ ملزموں کو گرفتارکرنا یا نہ کرنا تفتیشی ادارے کی صوابدید ہے ۔انہوں نے کہا کہ شریف فیملی کے خلاف ریفرنس دائر ہونے کا مطلب ہے کہ ان کے خلاف تفتیش مکمل ہوچکی ہے اور وہ نیب کو مطلوب نہیں ۔سابق ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب فوزی ظفر نے کہا کہ ریفرنس دائر ہونے کے بعد تفتیش کے معاملے پر نیب غیر فعال ہوگیا ہے ،اب نیب کاملزموں کی گرفتاری سے کچھ لینا دینا نہیں ۔ضمانت کا مطلب ہے کہ ملزم عدالت کی تحویل میں چلا گیا ہے جس کے باعث تفتیشی ادارے اسے گرفتار نہیں کرسکتے ،اگر ملزم عدالت میں پیش ہوجائے تو پھر اس کی گرفتاری کا کوئی جواز نہیں رہتا ،سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے تو ایک کیس میں احتساب عدالت سے حاضری کا استثنیٰ بھی حاصل کرلیا تھا جبکہ لاہور کی عدالت میں طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر ان کے وارنٹ جاری کئے گئے تھے ۔فوزی ظفر نے کہا کہ نیب اب شریف برادران یا اسحاق ڈار کو گرفتار نہیں کرسکتا ،اب جو کچھ کرنا ہے عدالت نے کرنا ہے ۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری آفتاب باجوہ نے کہا کہ ریفرنس دائر ہونے کے بعد ملزموں کو تحویل میں لینا یا نہ لینا عدالت کی مرضی پر منحصر ہے ۔ قابل دست اندازی جرم کے مقدمات میں ملزموں کے لئے مچلکہ داخل کرنا ضروری ہوتا ہے تاہم ان کی گرفتاری لازمی قانونی تقاضا نہیں ہے۔

قانونی ماہرین

مزید : صفحہ اول


loading...