ملکی اقتصادی حالت سے متعلق پی ٹی آئی کے الزامات گمراہ کن ہیں :وزارت خزانہ

ملکی اقتصادی حالت سے متعلق پی ٹی آئی کے الزامات گمراہ کن ہیں :وزارت خزانہ

  



اسلام آباد (اے پی پی) وزارت خزانہ نے ملکی اقتصادی حالت کے حوالے سے پی ٹی آئی کے عائد الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے پی ٹی آئی نے ملکی معیشت کے تین شعبوں کی سیاہ تصویر کشی کرکے عوام میں سنسنی پھیلانے کی کوشش کی ہے جس سے انکی منفی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے، حالانکہ موجودہ حکومت نے معیشت کے حوالہ سے جو سنگ میل عبور کئے ہیں انہیں بھی پی ٹی آئی کی طرف سے نظر انداز کیا گیا ہے،جبکہ ملکی معیشت کے حوالہ سے موجودہ حکومت کی گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران کی جانیوالی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے اور عالمی اداروں نے ہماری معیشت کی بہتری اور مثبت اقتصادی اشاریوں کو عملی طور پر سراہا ہے۔ جمعہ کوترجمان وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بات کو ذہن میں لانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کا جی ڈی پی 2008 میں 0.36 فیصد تک پہنچ گیا تھا جس کے بعد 2008ء سے 2013ء تک ملک کی شرح نمو 2.8 فیصد تک رہی۔ مجموعی طور پر 2008ء سے 2013ء تک افراط زر کی اوسط شرح 12 فیصد رہی۔ پالیسی کی شرح 2008-09ء میں 14 فیصد بلند ترین ریکارڈ کی گئی۔ 2008-09ء میں زرعی قرضے 233.1 ارب روپے جاری ہوئے۔ 2008-13ء تک پانچ سال میں مجموعی طور پر 264.3 ارب روپے جاری کئے گئے۔ اس دوران زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی کم ترین سطح پر رہے اور ملک دیوالیہ ہونے کی پیشنگوئیاں کی جا رہی تھیں۔ ملک کو فنڈنگ دینے والے عالمی اداروں نے اپنے دروازے پاکستان پر بند کر لئے تھے۔ ایس اینڈ پی اور موڈیز جیسے اداروں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ انتہائی کم کر دی۔تاہم گزشتہ چار سال کے دوران پاکستان کی معیشت میں واضح بہتری دیکھی گئی ہے جس کی بڑی وجہ موجودہ حکومت کی طرف سے اقتصادی بحالی کے ایجنڈے پر کامیابی سے عملدرآمد ہے اور اس کا مقصد ملک کی اقتصادی شرح نمو اور میکرو اکنامک سٹیبلٹی ہے۔ 2008ء سے 2013ء تک پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ عدم استحکام کا شکار رہی جو اب مستحکم ہو گئی ہے۔ جس کی بڑی وجہ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں کی شاندار کارکردگی ہے۔اسی طرح میکرو اقتصادی استحکام حاصل کرنے کے بعد ہم نے زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنایا اور پاکستان کو ایک دفعہ پھر آئی بی آر ڈی سہولیات حاصل کرنے والے ممالک میں شمار کیا گیا۔ پاکستان اور آئی ایم ایف نے ای ایف ایف پروگرام کو کامیابی سے مکمل کیا جو ہماری ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے شعبے میں کمٹمنٹ کا ثبوت ہے،گزشتہ چار سال کے دوران شارٹ فال میں اضافہ کی بڑی وجہ بجلی کی طلب میں اضافہ تھا، 2013ء میں پیک ڈیمانڈ تقریباً 19 ہزار میگاواٹ تھی جو 2017ء میں 24 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر گئی۔ موجودہ حکومت نے اقتدارمیں آنے کے بعد 3600 میگاواٹ آر ایل این جی پاور پلانٹ، 2640 میگاواٹ کے کول پاور اور دیگر منصوبوں پر کام شروع کیا۔ ان منصوبوں سے مجموعی طور پر 9900 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو گی۔ اس کے علاوہ حکومت نے نیشنل پاور پالیسی 2013ء کے فریم ورک کے تحت وسیع البنیاد اصلاحات کیں جس کے نتیجہ میں بجلی کی دستیابی بہتر ہوئی ہے۔ٹیکس وصولیوں اور ٹیکس محصولات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف نے سنسنی پھیلانے کی کوشش کی ہے،حالانکہ مثبت ترقی کی عالمی سطح پر پاکستان کی ان کاوشوں کو سراہا گیا ہے۔

ترجمان وزارت خارجہ

مزید : صفحہ اول