وزیر خارجہ کا اہم دورۂ چین

وزیر خارجہ کا اہم دورۂ چین

  



پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں چینی ہم منصب سے ملاقات کی، جس میں خطے کی صورتِ حال اور دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے تبادل�ۂ خیال کیا گیا،چین نے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ کے خلاف قابلِ ذکر قربانیاں دیتے ہوئے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے، ملاقات کے بعد چینی وزیر خارجہ نے خواجہ محمد آصف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چین، برصغیر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ یہ کسی ایک مُلک کا نہیں،عالمی مسئلہ بن چکا ہے،جس کے تدارک کے لئے پوری دُنیا کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی، پاکستان اور چین دونوں برادر ہمسایہ مُلک ہیں اور دونوں اِس بات پر متفق ہیں کہ افغان مسئلے کو سیاسی طور پر حل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔افغانستان ہمارا پڑوسی مُلک ہے اور اِس میں قیام امن خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔چینی وزیر خارجہ نے کہا اِس سال افغانستان میں سہ فریقی مذاکرات کئے جائیں گے، جن کا مقصد خطے میں امن و امان کی فضا کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے فوجی آپریشنز کامیاب ہوئے اور اِن کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے۔

قبل ازیں چین جانے سے پہلے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے اسلام آباد میں سفیروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان دُنیا کا واحد مُلک ہے،جو دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت چکا ہے یہ محض دعویٰ نہیں، امرِ واقعہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے اور اِس کے فوجی افسروں اور جوانوں نے جس بے جگری کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے دُنیا کے کسی دوسرے مُلک کو اِس کا عشرِ عشیر بھی نہیں کرنا پڑا،نائن الیون کو ایک واقعہ ہو گیا،جس کے بعد امریکہ نے فوری طور پر ایسے سخت اقدامات کر لئے کہ دوبارہ امریکی سرزمین پر کوئی ایسا بڑا حملہ کرنا تو ممکن ہی نہ ہو سکا، اِکا دُکا معمولی واقعات ہوئے تو اُن کے دہشت گرد یا تو فوری طور پر مار دیئے گئے یا پھر گرفتار ہو گئے، اِسی طرح دُنیا کے جس مُلک میں بھی دہشت گردی کی کوئی ایک واردات یا چند وارداتیں ہوئیں وہاں بھی فوری طور پر موثر جوابی اقدامات کر لئے گئے۔

پاکستان اِس خطے میں واقع ہے جہاں خود امریکی افواج سولہ سال سے افغانستان میں مقیم ہیں اور آج بھی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ نے مطلوبہ مقاصد حاصل کرلئے، کیونکہ کابل اور گردونواح میں اب بھی دہشت گردی معمول کی بات ہے یہی وجہ ہے کہ نئی افغان پالیسی میں مزید چار ہزار فوجی افغانستان میں متعین کرنے کا فیصلہ کیا گیا، پھر امریکہ میں صرف امریکی افواج ہی نہیں ہیں نیٹو کے فوجی بھی ہیں، تین لاکھ کے لگ بھگ افغان نیشنل آرمی بھی موجود ہے، لیکن مُلک کے 40فیصد علاقے تو سرے سے افغان حکومت کے لئے ’’نوگوایریاز‘‘ ہیں وہاں نہ حکومت کی رٹ ہے نہ ریاست کے قوانین چلتے ہیں، افغان طالبان ان علاقوں پر قابض ہیں اُن کے اپنے قوانین ہیں اور اُن کی عدالتیں لگتی ہیں اِن حالات میں پاکستان کی کامیابیاں غیر معمولی ہیں جہاں کوئی غیر ملکی فوج نہیں، پاکستان تنِ تنہا دہشت گردوں کے مقابلے پر ہے اور وزیر داخلہ کے بقول پاکستان یہ جنگ جیت چکا ہے۔

یہ محض دعویٰ نہیں ہے نہ اس میں کوئی تعلّی ہے، یہ زمینی حقائق کا کھرا اظہار ہے، لیکن دُکھ کی بات ہے کہ امریکہ نے جو پاکستان کو نان نیٹو اتحادی کہتا تھا اور دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان سے ہر قسم کا تعاون بھی حاصل کر رہا تھا اب اپنی افغان پالیسی میں حقائق کو تسلیم کرنے کی بجائے پاکستان سے ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کردیا، یہ دراصل اونٹ کی کمر پر تنکا ثابت ہوا ،چنانچہ پاکستان کو جواب میں کہنا پڑا کہ اب دُنیا ’’ڈومور‘‘کرے، پاکستان بہت کچھ کرچکا۔

لیکن ساری دُنیا امریکی خطوط پر نہیں سوچ رہی اِسی دُنیا میں برطانیہ کے قائد حزب اختلاف جیریمی کوربن جیسے حق گو اور حق شناس موجود ہیں، جنہیں ڈنکے کی چوٹ پر کہنا پڑا کہ پاکستان کے ساتھ عزت سے پیش آنا چاہئے اور اس پر تنقید سے گریز کرنا چاہئے،کیونکہ پاکستان ایسا مُلک ہے جو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دُنیا کے ہر مُلک کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ جیریمی کوربن نے صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کو افغانستان کے بارے میں ’’امریکہ کی ناکام پالیسیوں کا تسلسل‘‘ قرار دیا یہی بات پاکستان اور کئی دوسرے مُلک بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر اب تک افغان مسئلہ امریکہ کے حسبِ خواہش حل نہیں ہوسکا، یا اسے ایسی کامیابیاں نہیں مل سکیں جس کی وہ اُمید لگائے بیٹھا تھا تو اِس میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں، پاکستان نے اپنے علاقے میں دہشت گردوں کا صفایا کر دیا، اب اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ پاکستان افغانستان جاکر بھی یہی کام کرے یا افغانوں کی جنگ اپنی سرزمین پر لے آئے تویہ ایک غیر حقیقی توقع ہو گی ۔جیریمی کوربن برطانیہ کے قائدِ حزب اختلاف ہیں، جنہیں ’’پرائم منسٹر اِن ویٹنگ‘‘ بھی کہا اور سمجھا جاتا ہے اس لئے صدر ٹرمپ کو ان کی رائے کو غور سے سننا اور اسے وزن دینا چاہئے وہ اگر یہ کہتے ہیں کہ افغان مسئلے کا حل بھی سیاسی مذاکرات میں پوشیدہ ہے تو غلط نہیں کہتے۔

پاکستان بدلے ہوئے حالات میں اپنی نئی خارجہ پالیسی نئے خطوط پر تشکیل دے رہا ہے، جس کے خدوخال جلد ہی سامنے آ جائیں گے اس نئی پالیسی میں امریکہ پر انحصار ختم کر دیا گیا ہے اور خطے کی بڑی طاقتوں کے ساتھ مل کر افغان مسئلے کے سیاسی حل کی تلاش پر زور دیا گیا ہے جیسا کہ چینی وزیر خارجہ نے بھی کہا کہ افغانستان پر سہ فریقی مذاکرات اِسی سال ہوں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ خطے کے ممالک مل کر افغانستان میں امن لانے کے لئے عملی کوششیں کریں گے، کیونکہ امریکہ کی یہ کوششیں تو ناکام ہو گئیں کہ طاقت کے ذریعے افغانستان پر امن مسلط کر دیا جائے ۔

خواجہ محمد آصف کا چین کا یہ دورہ اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ عشروں کی خارجہ پالیسی کی تبدیلی کے بعد یہ دوست مُلک چین کا ایسا پہلا دورہ ہے جس کے نتیجے میں خطے کی سیاست کو متاثر کرنے والے فیصلے متوقع ہیں۔ابھی حال ہی میں برکس کا نفرنس کے اعلامیے میں بعض تنظیموں کا نام لے کر دہشت گردی کی مذمت کی گئی تھی جس کے بعد پروپیگنڈے کا ایک طوفان بھی اٹھایا گیا اور پاک چین دوستی کے حوالے سے بعض ناگفتنی تبصرے بھی کئے گئے۔اگرچہ چینی رہنماؤں نے اچھی طرح وضاحت کر دی ہے کہ اعلامیے میں ایسا کچھ نہیں جو اس میں ’’ڈالنے‘‘ کی کوشش کی جا رہی ہے جن تنظیموں کا نام لیا گیا ہے وہ پہلے سے کالعدم ہیں اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں سب کو معلوم ہے تاہم اب چین کے وزیر خارجہ نے ایک بار پھر پاکستان کی اُن کوششوں کی تعریف کر دی ہے جو وہ دہشت گردی کے خلاف کر رہا ہے۔خواجہ محمد آصف کے ساتھ چینی وزیر خارجہ نے اپنی پریس کانفرنس میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور اس کے لئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کا جو نیا دور شروع ہو رہا ہے اس پر امریکہ پہلے کی طرح سایہ فگن نہیں ہو گا دُنیا میں پاکستان کے بہت سے دوست ہیں جو نئی پالیسی کے نتیجے میں آنے والے دِنوں میں پاکستان کے اور زیادہ قریب آ سکتے ہیں۔

مزید : اداریہ


loading...