سندھ کا نوے فیصد پانی ناقابلِ استعمال

سندھ کا نوے فیصد پانی ناقابلِ استعمال

  



سپریم کورٹ کے جج مسٹرجسٹس فیصل عرب نے کہا ہے کہ سندھ میں نوے فیصد پانی پینے کے قابل نہیں ، سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں ایڈووکیٹ جنرل (سندھ) نے فاضل عدالت کو بتایا کہ دو زیر تکمیل منصوبوں میں سے ایک 85فیصد اور دوسرا 100 فیصد مکمل ہے،عدالت نے دونوں منصوبوں کے متعلق رپورٹ مسترد کر دی۔ جسٹس مشیر عالم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمیں کاغذی کارروائی نہیں ، نتائج درکار ہیں۔ ایسی آڈٹ رپورٹ کا کیا فائدہ جب ثمرات عوام تک نہ پہنچیں،عوام کا پیسہ عوام پر خرچ ہونا چاہئے۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ صوبے کا 90فیصد پانی قابلِ استعمال نہیں ہے۔ کراچی سمیت 14 اضلاع میں پینے کے پانی میں انسانی فضلے کا انکشاف ہوا ہے۔

یہ بہت ہی افسوس ناک بات ہے کہ ایک صوبائی حکومت اپنے صوبے میں پینے کا صاف پانی بھی فراہم نہیں کر پا رہی،جس جماعت کی صوبے میں حکومت ہے اُس کا دعویٰ ہے کہ اگلے انتخابات میں وہ دوبارہ مرکز میں حکومت بنانے کے قابل ہو جائے گی یہ دعویٰ تو خیر ایک سیاسی بیان بھی ہو سکتا ہے، لیکن 90فیصد پانی کا ناقابلِ استعمال ہونا حکومت کے لئے کوئی اچھا سرٹیفکیٹ نہیں،یہ صورتِ حال عشروں سے موجود ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی مزید عشروں تک یہی صورتِ حال رہے گی۔ صوبے کے جن علاقوں میں زیر زمین پانی کڑوا ہے وہاں پانی صاف کرنے کے لئے جو پلانٹ لگائے گئے تھے ان میں بھی بعض خراب ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ خرابی اِس لئے ہے کہ ناقص مشینری نصب کی گئی ہے۔ یہ کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اِس لئے امید کرنی چاہے کہ فاضل عدالت اِس کا کوئی ایسا فیصلہ کرے گی، جس کے نتیجے میں اگر پورے صوبے نہیں تو مرحلہ وار کچھ علاقوں کو صاف پانی میسر آسکتا ہے،اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ جگر اور معدے کی جو پیچیدہ بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں اس کی وجہ کیا ہے اور جو ہسپتال بیماروں سے بھرے پڑے ہیں اُن میں بھی لوگوں کو مناسب علاج نہیں ملتا کیونکہ دور دراز علاقوں میں تو ڈاکٹر جاتے نہیں اور ہسپتال پیرا میڈیکل سٹاف کے رحم و کرم پر ہیں۔ سندھ کی حکومت کو اِس جانب توجہ دینی چاہے اور اپنی کارکردگی میں اضافہ کرنا چاہئے تاکہ ووٹروں کو پیش کرنے کے لئے اس کے دامن میں کچھ تو ہو۔

مزید : اداریہ


loading...