پرواز

پرواز

بادشاہ کے سامنے افریقہ سے منگوائے گئے بازوں کی سب سے اعلیٰ نسل کے دو سیاہ چشم شاہین پیش کئے گئے۔ بازوں کی دو مشہور اقسا م ہیں۔ سیاہ چشم اور سفید چشم ۔ سیاہ چشم نسل کے بازوں میں شا ہین ،چرخ ، شنقار، قیر، شکرہ، درومتانے بسیرہ،عقاب اور چیل شامل ہیں۔ان سب میں شاہین کو سب سے دلیر اور مضبوط تصور کیا جاتا ہے۔ بادشاہ شکا ر کا بہت شوقین تھا اور اعلیٰ نسل کے باز اس کی شکار گاہ میں موجود ہوتے۔شاہین اس کا سب سے پسندیدہ شکاری تھا۔بادشاہ کو دونوں باز بہت پسند آئے اس نے ان کو سدھانے کے لئے مہتر کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگلے شکار پر جانے سے پہلے یہ دونوں شاہین تیار ہونے چاہئیں۔مہتر بازوں کو سدھانے میں کمال مہارت رکھتا تھا۔مہتر کی بادشاہ کے نزدیک بہت اہمیت ہوتی تھی ۔ریاست میں ان کو وزرأجتنا پروٹوکول دیا جاتا تھا۔یہ استاد لوگ مانے جاتے تھے انہیں بازوں کی اقسام،عادات، رنگ ،نسل،پرواز،شکار اور خصلت سے گہری واقفیت ہوتی تھی ۔یہ باز کے رنگ ،خدوخال اور آنکھیں دیکھ کر ہی اس کی صلاحیتوں کو پہچان لیتے ۔ ان کی نظر میں جو باز ناقابل اعتبار ہوتا اس پر وقت ضائع کرنے کی بجائے اسے فوراً چھوڑ دیا جاتا ۔مہتر کی قدر ایسے کی جاتی جیسے کسی بڑے استاد کی کی جائے۔ان کی رہائش عموماً باز خانوں کے نزدیک بنائی جاتی تھی جو محل کے قریب ہوتی اور بادشاہ اپنے جھروکے میں آکر بازوں کی پرواز شکار اور سدھانے کا منظر دیکھ سکتا تھا۔

مہتر نے افریقہ سے منگوائے دونوں شاہین بادشاہ کے سامنے پیش کئے اور اپنے تجر بے کی روشنی میں ان کی اعلیٰ نسل،عظیم صلاحیتوں اور آنکھوں میں چمک کی بہت تعریف کی تو بادشاہ نے اسے ان کی فورا تربیت کا حکم جاری کردیا۔ مہتر نے تربیت شروع کر دی۔ ایک ماہ گزر گیا بادشاہ جھروکے میں آیا اس نے دیکھا کہ ایک باز اُڑ رہا ہے، جبکہ دوسرا نہیں اُڑ رہا۔بادشاہ کچھ دیر دیکھتا رہا لیکن ایک ہی باز اُڑتا رہا، جبکہ دوسرا اسے نظر نہ آیا۔اگلے دن پھر بادشاہ نے فضا میں نظر دوڑائی تو اسے کل والا شاہین ہی پرواز بھرتا اور شکار کرتا نظر آیا، لیکن دوسرا نظر نہ آیا۔بادشاہ نے مہتر کو طلب کیا اور اس سے وجہ دریافت کی تو مہتر نے بے بسی سے کہا کہ مَیں نے اپنے تجربہ سے بہت کوشش کی ہے، مگر دوسرا شاہین ہاتھ سے چھوڑنے کے فوراً بعد وہاں درخت کی شاخ پر جا بیٹھتا ہے اور پھر اڑنے کا نام ہی نہیں لیتا۔بادشاہ نے اس کو مزید دو ہفتے کا وقت دے دیا لیکن دو ہفتے بعد بھی وہ اس شاہین کو پرواز کے قابل نہ بنا سکا اور بے بسی سے ہاتھ کھڑے کر دئیے۔بادشاہ نے پڑوسی ریاست سے ایک اور مہتر کی خدمات حاصل کیں جو باز پروری کے فن میں کمال مہارت رکھتا تھا اور اس نے، چیلنج قبول کر لیا۔نئے مہتر نے بھی بہت کوشش کی، مگر جونہی وہ شاہین کو فضا میں بلند کرتا وہ جا کر درخت کی شاخ پر بیٹھ جاتا۔دونوں مہتر ناکا م ہو گئے، جبکہ دونوں کا خیال تھا کہ یہ شاہین اعلیٰ و نایاب نسل کا ہے اورا س میں شکار کی تمام خصوصیات اور صلاحتیں بھی پائی جاتی ہیں لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھاکہ یہ فضا میں کیوں پرواز نہیں کر پارہا۔

دونوں مہتروں کی ناکامی کے بعد بادشاہ مایوسی کے عالم میں بیٹھا تھا کہ بادشاہ کے محل میں گھوڑے سدھانے والے استاد نے بادشاہ سے اجازت چاہی کہ اسے ایک موقعہ دیا جائے تو وہ اس شاہین کو اڑانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔بادشاہ نے اسے اجازت دے دی۔گھوڑوں کو سدھانے کے ماہر استاد نے اگلے دو دن میں باز کو فضا میں بلند کر دیا اور وہ دوسرے شاہین کے ساتھ اڑنے لگا اور اسی طرح فضا میں شکار کی تربیت لینے لگا۔بادشاہ کو جب یہ خبر ملی تو بہت خوش ہوا اس نے اسے پوچھا کہ تم نے کیا کمال کیا کہ یہ باز اڑ پڑا؟استاد نے مسکرا کر کہا: ’’ بادشاہ سلامت یہ شاہین اونچی پرواز کرنے سے ایک انجانے نفسیاتی خوف میں مبتلا تھا اسے اپنی صلاحیتوں کا علم نہیں تھا۔اسے یہ خوف تھا کہ وہ اونچا نہیں اڑ سکتا کیونکہ اس نے کبھی اونچی پرواز کرنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔اسے جب بھی ہاتھ سے چھوڑا جاتا وہ سامنے درخت کی شاخ پر بیٹھ جاتا اور سوچتا کہ مجھے محل سے کھانے کو گوشت مل رہا ہے پھر مجھے کس لئے شکار جیسی مشقت کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مشقت سے ڈرتا تھا،اسے پیٹ پالنے کے لئے کسی قسم کی جدوجہد کی ضرورت نہیں تھی اس لئے اسے یہ بھی علم نہیں ہو سکا کہ اس کے اندر شکار کرنے ، اونچی پرواز کی اور پلٹنے جھپٹنے کی کتنی عظیم خصوصیات موجودہیں۔مَیں نے اسے دو دن بھوکا رکھا اور ساتھ ہی وہ درخت کاٹ دیا جس کی شاخ پر یہ جاکر بیٹھتا تھا تیسرے دن جب اسے اڑایا تو اسے سامنے بیٹھنے کے لئے درخت نہ ملا تو اسے اوپر اڑنا پڑا جہاں فضا میں پہلے سے کبوتر چھوڑے ہوئے تھے، جن کو اس کا دوسرا ساتھی شاہین شکار کر رہا تھا۔اسے دیکھ کر یہ بھی اس کی طرح شکار پر جھپٹ پڑا اور اس کے اندر سے اونچی پرواز کا خوف جاتا رہا اور ساتھ ہی اس پر اپنی صلاحتیں کھلنا شروع ہو گئیں جس کے بعد یہ عام پرندے سے شاہین میں بدل گیا۔

پاکستانی اسٹیبشمنٹ،پالیسی سازوں، دانشوروں اور سیاستدانوں کی اجتماعی سوچ کا اگر جائزہ لیں تو ان پر بھی امریکی برتری،بالا دستی اور آقائیت کا نفسیاتی خوف اس قدر غالب ہو چکا ہے کہ اس کو اتارکر یہ اونچی پرواز کا تصور کرنے سے ہی ڈرتے ہیں۔یہ اندر سے اس قدر غیر یقینی اور خودفریبی میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ انہوں نے کبھی جائزہ ہی نہیں لیا کہ یہ جس امداد پر پیٹ بھرنے میں مصروف ہیں،اس کے بدلے انہیں اپنی قومی غیرت کی کتنی قربانی دینا پڑ رہی ہے ۔انہوں آج تک بھوک نہیں چکھی اور جو لوگ بھوک نہیں چکھتے وہ محنت سے رزق کمانے سے قاصر رہتے ہیں ۔اگراس امداد کی بجائے یہ محنت و ایمانداری سے اپنے قدرتی وسائل کو استعمال کریں تو انہیں ایسی حقارت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اقبال کے شاہین اس قدر نفسیاتی خوف میں مبتلا ہیں کہ انہوں نے کبھی ایسی پالیسی بنانے پر غور ہی نہیں کیا کہ بیرونی امداد کے بدلے ڈومور جیسی ذلت سے نکلنے کی پلاننگ کریں۔یہ اونچی پرواز کی بجائے امریکہ کے شجر پربیٹھ کر اس کی تابعداری کوہی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں۔ہمارے پالیسی سازوں کی سوچ اس ہاتھی کی طرح ہو گئی ہے جس کے پاؤں میں زنجیر ڈال دی جائے تو وہ اس جگہ سے ایک قدم آگے نہیں جاتا کہ مَیں کسی کھونٹے سے بندھا ہوا ہوں۔اسلام آباد کے پالیسی سازوں کے ذہنوں میں بھی امریکی زنجیر پڑ چکی ہے، جس سے آگے جانے کا یہ سوچ ہی نہیں سکتے۔

ہم نے پچھلی کئی دہائیوں سے اپنی صلاحیتوں پر یقین کرنا چھوڑ دیا ہے۔ہر آنے والی حکومت پیٹ بھر نے کے لئے امریکی امداد اور آئی ایم ایف کے قرضوں سے جینا ہی کامیابی تصور کرتی ہے۔ہم اپنے آپ کو امریکی شاخ پر بیٹھنے کے قابل ہی سمجھنے لگے ہیں، اس سے آگے سوچ ختم ہو جاتی ہے۔ہم نے خو د کو ایک نفسیاتی خوف میں مبتلا کرکے آگے بڑھنے کی تمام منصوبہ بندی پر غور کرنا چھوڑ دیا ہے۔ہمارے پالیسی سازوں کے ذہنوں میں امریکی طفیلیہ بنے رہنے کا غلبہ نظر آتا ہے۔ہم جب تک امریکی طفلیئے بنے رہنے کا خوف ختم نہیں کرتے اور آئی ایم ایف و امریکی امداد کی شاخیں نہیں کاٹتے، ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ہماری صلاحیتوں، کامیابیوں اور منزل کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ امداد ہے، جس کے سہارے ہم جی رہے ہیں ۔وقت آگیا ہے کہ اب ہم ایسی پالیسیاں بنائیں ، جو کفایت شعاری کا باعث بنیں، اپنی فضول خرچیوں اور عیاشیوں کوکم کریں،قومی وسائل کو استعمال کریں اور اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کی جد وجہد کریں بیرونی امدادکی حوصلہ شکنی کریں اور کشکول کی جگہ ہاتھوں میں کدال،بیلچہ اور ہل اٹھائیں۔ ہم رینچ،پلائیر اور سکریو ڈرائیور پکڑیں۔ ہمارے نرم ہاتھوں میں محنت کے پھول (چھالے )کھلیں گے تو غیرت کی خوشبو آئے گی۔اقبال کے شاہین کی زندگی بھیک،بخشش اور قرضوں پر نہیں چل سکتی اس کی منزل اونچی پرواز ہے جو جد وجہد،محنت اور اپنے آپ پر بھروسہ کرنے سے آگے بڑھ سکتی ہے۔پلٹ اور جھپٹ کر اپنا شکار کرنے والا شاہین اگر ہاتھ پھیلا کر پیٹ بھرے گاتو شاہین نہیں کرگس نظر آئے گا، جسے ہر کوئی حقارت سے دھتکارے گا۔خدارا ہر دور میں امریکی درخت پر بیٹھنے کی بجائے اسے کاٹ پھینکیں اور فضا میں پرواز بلند کریں، جہاں کامیابی کے راستے ہیں ،خودداری کی زندگی ہے، ایک آزاد ریاست کا وجود ہے۔

مزید : کالم