این اے120کا معرکہ:ووٹر کیا سوچ رہا ہے؟

این اے120کا معرکہ:ووٹر کیا سوچ رہا ہے؟

  



پانامہ کیس کے فیصلے کے باعث خالی ہونے والی نشست این اے120 کا ضمنی انتخاب اب دُنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔یہاں سے محمد نواز شریف یہ نشست جیت کر وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔میاں صاحب نے90ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے، جبکہ ان کی فریق پی ٹی آئی کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد نے50ہزار کے لگ بھگ ووٹ لئے تھے۔اب ضمنی الیکشن میں یہاں سے مسلم لیگ(ن) کی امیدوار بیگم کلثوم نواز ہیں جو اپنے علاج کے سلسلے میں لندن میں قیام پذیر ہیں۔ اللہ پاک انہیں صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے۔پہلے اس نشست کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کا نام آیا،لیکن بعد میں یہ فیصلہ تبدیل ہو گیا۔اب بیگم کلثوم نواز اس حلقے سے امیدوار ہیں۔ بیگم کلثوم نواز کو عملی سیاست کا تجربہ نہیں، لیکن 1999ء میں جب پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا تو بیگم کلثوم نواز نے بڑی جرأت کے ساتھ میاں نواز شریف کی رہائی کے لئے مہم چلائی۔ایک روز تو ایسا بھی ہوا کہ انہیں روکنے کے لئے گاڑی سمیت لفٹر کے ذریعے اُٹھا لیا گیا، گاڑی میں جاوید ہاشمی اور بیگم تہمینہ دولتانہ بھی ان کے ساتھ تھیں، لیکن اس سارے عرصے میں انہوں نے بہت ہمت اور حوصلے کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا۔ این اے 120 میں اب اصل مقابلہ مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے درمیان ہے۔ڈاکٹر یاسمین راشد نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی ڈور ٹو ڈور مہم شروع کر دی۔وہ ووٹروں کو متاثر کرنے کے لئے دن رات کارنر میٹنگز کر رہی ہیں۔ حلقے میں صاف پانی کا فقدان اور گندے پانی کے نکاس کا ناقص انتظام ان کی مہم کے بنیادی نکات ہیں۔کرپشن کا نعرہ سننے میں نہیں آ رہا۔

دوسری طرف مسلم لیگ(ن) کی انتخابی مہم سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز چلا رہی ہیں۔اس موقع پر حمزہ شہباز کا نہ ہونا بھی ایک اہم بات ہے۔عام انتخابات کے بعد پنجاب میں جتنے بھی ضمنی الیکشن ہوئے حمزہ شہباز نے ان میں 90فیصد کامیاب نتیجہ دیا۔ حمزہ شہباز اپنے حلقے کے علاوہ لاہور اور پنجاب میں گراس روٹ لیول پر سیاست کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں اور سیاسی دنگل کے تجربہ کار ہیں۔ اب ان کی عدم موجودگی کو بعض لوگ شریف خاندان میں اختلاف کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں،جس میں کوئی حقیقت نہیں۔2013ء کی طرح مریم نواز ایک بار پھر یہاں بھرپور طریقے سے مہم چلا رہی ہیں۔ اپنی ریلیوں اور انتخابی دفاتر کے افتتاح کے موقعوں پر وہ ’’پانامہ‘‘ ’’اقامہ‘‘، ’’نااہلی‘‘ کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے اصل نشانہ محمد نواز شریف کو قرار دے رہی ہیں۔مریم نواز جہاں بھی جا رہی ہیں، کارکنوں کی جانب سے پُرتپاک استقبال ان کا منتظر ہوتا ہے۔اس انتخابی دنگل کے حوالے سے انسٹیٹیوٹ فار پبلک روٹین ریسرچ کی جانب سے ایک سروے کیا گیا،جس کے مطابق حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کی مقبولیت تحریک انصاف سے15 فیصد زیادہ ہے جس کی اہم وجہ دونوں جماعتوں کی الیکشن مہم ہے۔یہاں یہ بات اہم ہے کہ یہ سروے مسلم لیگ(ن) کی درخواست پر کیا گیا۔

اس سروے میں2198 لوگوں سے رائے لی گئی، جن میں سے49فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ وہ مسلم لیگ(ن)، جبکہ34فیصد نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے۔این اے120 میں دو صوبائی حلقے پی پی 139، پی پی140 شامل ہیں۔سروے کے دوران پی پی 139 میں55فیصد ووٹروں نے مسلم لیگ(ن)، جبکہ 29فیصد ووٹروں نے پی ٹی آئی کے ساتھ وابستگی کا اظہار کیا۔اِسی طرح پی پی140 میں54فیصد نے مسلم لیگ (ن)، جبکہ26فیصد نے پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کا اظہار کیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سروے کے مطابق 71فیصد ووٹروں کی رائے وہی ہے جو2013ء کے الیکشن میں تھی کہ وہ اپنی رائے تبدیل نہیں کریں گے، جسے پہلے ووٹ دیا تھا اُسی پارٹی کو ووٹ دیں گے، جبکہ 27فیصد نے کہا کہ وہ ووٹ دینے سے پہلے پارٹی پر از سر نو غور کریں گے۔ یہ حلقہ 1985ء سے مسلم لیگ(ن) کا گڑھ ہے۔ ویسے تو پورا لاہور ہی شریف برادران کا گڑھ ہے۔ حکومتی کارکردگی کے حوالے سے76فیصد ووٹروں نے اطمینان، جبکہ 24فیصد نے مایوسی کا اظہار کیا۔لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے حوالے سے حکمران جماعت کے انتخابی وعدوں کے متعلق سوال پر68فیصد ووٹروں نے اپنے اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ32فیصد نے اختلاف کیا۔

سروے میں36فیصد مردوں اور 18فیصد خواتین نے مسلم لیگ(ن)، جبکہ 19فیصد مردوں اور 8فیصد خواتین نے پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کا اعلان کیا۔ اگر 2013ء کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس بار مقابلہ قدرے مختلف ہو گا،کیونکہ اس بار پیپلز پارٹی بھی پوری طرح متحرک ہو چکی ہے۔ اس کے امیدوار فیصل میر بھی انتخابی مہم بڑے بھرپور انداز سے چلا رہے ہیں۔گزشتہ الیکشن میں جو ووٹ تحریک انصاف کو پڑے،اس میں ایک بڑا حصہ پی پی پی کا تھا،اب آصف علی زرداری کے مقدمات سے بَری ہونے اور بلاول بھٹو زرداری کے متحرک ہونے میں نیا جوش آیا ہے،لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ پنجاب میں اصل مقابلہ مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف میں ہی ہے،لیکن پیپلزپارٹی بھی اپنے وجود کا احساس دلانے لگی ہے۔جماعت اسلامی اور ملی مسلم لیگ کا آزاد امیدوار بھی بھرپور مہم چلا رہے ہیں۔ جوں جوں الیکشن قریب آئے گا، مہم زور پکڑتی جائے گی۔ حکمران جماعت کے لئے اس کی کارکردگی بہت بڑا فیکٹر ہے۔ مسلم لیگ(ن) نے لاہور کو ’’پیرس آف ایسٹ‘‘ بنا دیا ہے۔عیدِ قربان کے موقع پر لاہور شہر میں کسی جگہ آلائشوں کو نہیں دیکھا گیا، کیونکہ اس سلسلے میں بہترین اقدامات کئے گئے تھے۔ میٹرو بس کے بعد اورنج لائن نے لاہور کو ’’الٹرا ماڈرن سٹی‘‘ کی صف میں کھڑا کر دیا ہے،لیکن این اے 120 میں مسائل اب بھی موجود ہیں، یہاں خاطر خواہ ترقیاتی کام نہیں ہوئے،گلیاں اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، مخالف امیدوار جنہیں اپنی انتخابی مہم میں مسلم لیگ (ن) کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، اس کے باوجود یہاں کا ووٹر محمد نواز شریف سے کسی طور بھی بے وفائی کرنے پر آمادہ نہیں۔

مزید : کالم