روہنگیاپر ہونے والے مظالم

روہنگیاپر ہونے والے مظالم

  



ابراہم لنکن کا ایک بہت مشہور قول ہے کہ ’’ناخوشگوار حالات یا مشکلات کے سامنے تقریباً تمام انسان کھڑے ہوسکتے ہیں، مگر کسی انسان کا حقیقی کردار اس وقت سامنے آتا ہے جب اس کو اقتدار حاصل ہوتا ہے‘‘۔۔۔میا نمار(برما)کے شمال مغربی علاقے راکھین میں روہنگیا کے مظلوم طبقے پر میانمار کی فوج اور کئی گروہوں کی جانب سے برپا کئے گئے ظلم وتشدد نے اس وقت دنیا کے ہر حساس انسان کو بے چین کر رکھا ہے،مگر اس معاملے میں سٹیٹ کونسلر آف میانمار (وزیراعظم) آن سانگ سوچی کا کردار باعث حیرت ہے۔ اپنے ملک میں فوجی حکمرانوں کے خلاف طویل جدوجہد اور قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے باعث دنیا بھر میں آنگ سان سوچی کو عزت کا مقام حاصل تھا، مگرابرا ہم لنکن کے قول کے مطابق آنگ سان سوچی کا حقیقی کردار اس وقت سامنے آیا، جب ان کو اقتدار ملا۔ آنگ سان سوچی کے کردار سے مایوسی کے باعث دنیا بھر کے 365,000 سے زائد افراد نے ایک آن لائن پٹیشن پر دستخط کرکے مطالبہ کیا ہے کہ روہنگیا کے خلاف مظالم پر آنگ سان سوچی کے مجرمانہ کردار کے باعث ان سے نوبل انعام واپس لیا جائے۔ میانمار کی سیاست کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ میانمار میں آج بھی فوج کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے اور آنگ سان سوچی کے پاس نام کا اقتدار ہی ہے، مگر اس کے باوجود آنگ سان سوچی اگر روہنگیا کے خلاف فوج کے ظلم کو روک نہیں سکتی تھیں، تو ان کو اس ظلم کی حمایت ہرگز نہیں کر نی چاہیے تھی۔

ایسی حقیقت کا تصور کرنا بھی کتنا بھیانک ہے کہ اگر کسی ملک کی حکومت شعوری طور پر اپنے ملک میں بسنے والی اقلیت کو مکمل طور پر تنہا کردے، اس اقلیت سے شہریت کے بنیادی حقوق چھین لئے جائیں، ان کو کیمپوں میں بھیج دیا جائے، اس اقلیت کو نسلی بنیادوں پر کچلنے کے لئے چلائی جانے والی تحریک پر حکومت نہ صرف خاموش رہے، بلکہ درپردہ ایسی تحریک کی حمایت کی جائے اور اعلانیہ ایسے وعدے کئے جائیں کہ اس اقلیت کو ملک سے باہر نکال دیا جائے گا۔ ایسی مظلوم اقلیت کو مظالم سے بچنے کے لئے نہ صرف دوسرے ممالک میں بھی داخل نہ ہونے دیا جائے، بلکہ ان کو بے یارومددگار سمندر میں مرنے کے لئے چھوڑ دیا جائے۔ یقیناًاس بارے میں سوچ کر ہی لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔۔۔اقلیتوں پر ریاستی مظالم یقیناًکوئی نیا مظہر نہیں، اقلیتوں پر ریاستی جبر کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود ریاست کی تاریخ۔ آج کے ’’مہذب‘‘کہلائے جانے والے دور میں بھی مشرق اور مغرب سمیت ہر جگہ پر اقلیتوں کو کسی نہ کسی سطح پر محرومیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔

مگر برما میں روہنگیوں پر ہونے والے مظالم دو اعتبار سے دنیا کے لئے حیرت کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ایک، روہنگیوں پر ہونے والے مظالم بھیانک ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی نمایاں ہیں، کیونکہ برما کی حکومت اور فوج بھی ان مظالم کو بڑھا وادے رہی ہیں۔ دوسرے روہنگیا پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والے اپنے آپ کو مہاتمابدھ کا پیروکار کہتے ہیں۔ مہاتما بدھ کی تعلیمات میں عدم تشدد ایک بنیادی وصف رہا ہے۔ بدھ مت کی تاریخ میں اس کے پیروکاروں، بدھ بھکشوؤں نے اپنے کردار سے دنیا کے سامنے یہ ثابت بھی کیا ہے کہ بدھ مت کے پیروکار سراسر عدم تشدد، برداشت، رواداری اور امن کے داعی رہے ہیں۔ خود برصغیر کی تاریخ کے ایک بہت بڑے بادشاہ اشوکا کو آج بھی دنیا بھر کے مورخین اس بنا پر سرا ہتے ہیں کہ اس نے مہاتما بدھ کی تعلیمات کو اپنانے کے بعد اتنی بڑی سلطنت کو تشدد کا سہارا لئے بغیر کامیابی سے چلایا، مگر دوسری طرف برما میں ہونے والے ظلم و تشدد کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وراتھو نام کا ایک بدھ بھکشو، 969 نام کی تحریک چلاکر اعلانیہ روہنگیا (مسلمانوں) پر تشدد کرنے اور ان پر حملے کرنے کے لئے بدھ مت کے پیروکاروں کو اکساتا ہے۔ وراتھوکے ا نہی پر تشدد عزائم کی بنا پر ٹائم میگزین جون 2013ء کے شمارے کی کور سٹوری پر اسے۔۔۔The Face of Buddhist Terror ۔۔۔بھی قرار دے چکا ہے۔

اب یہاں بنیادی سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے ایسے عوامل ہیں، جن کے باعث میانمار کی فوج اور اس کے ساتھ امن کے داعی مہاتما بدھ کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرنے والے روہنگیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ برما کے مغربی صوبے راکھین میں، جہاں ایک اندازے کے مطابق 13لاکھ روہنگیا افراد رہتے ہیں، یہاں پر روہنگیوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے درمیان تناؤ کی جڑیں 17ویں صدی سے موجود ہیں۔ اگر ذرا غور سے مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ روہنگیا(مسلمانوں) اور بدھسٹوں کے مابین تناؤ مذہبی سے زیادہ سیاسی نوعیت کا ہے۔ برما میں برطانوی سامراج نے اپنے دور میں اس تناؤ کو مزید بڑھاوا دیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک محقق میتھیو جے والٹن کے مطابق برطانوی دور سے پہلے راکھین شناخت کی تشکیل میں، اس کے مغرب میں مسلمان شاہی حکومتوں اور مشرق میں برمی (بدھسٹ، مگر نسلی اعتبار سے الگ)شاہی حکومتوں کے وجود نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ برطانوی قبضے کے دوران برما میں قوم پرستی اور آزادی کی تحریک کے دوران تحریک کے رہنماؤں نے بدھ مت کو بھی قومی شناخت کا ایک عامل بناکر اسے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ (شاہد اسی کے ردعمل میں روہنگیوں کی جانب سے بنگلہ دیش، اس وقت کے مشرقی پاکستان میں شامل ہونے کی تحریک بھی چلی)۔

برما کی آزادی، یعنی 1948ء کے بعد بھی برما کے حکمران طبقات کی جانب سے بدھ مت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے رویے کو برقرار رکھا گیا، حتیٰ کہ 1962ء میں برما کے صدر بننے والے فوجی حکمران نی ون، جو سوشلزم کے دعوے دار تھے، ان کے دور میں بھی بدھ مت کا سیاسی استعمال جاری رہا، بلکہ نی ون ہی کے دور میں’’1982ء شہریت کا قانون‘‘جاری کیا گیا جو آج تک روہنگیوں کے لئے ایک درد سر بنا ہوا ہے، کیونکہ شہریت کے اس کالے قانون نے سرے سے روہنگیا افرادکو برما کا شہری تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیا۔ یوں کاروبار، نوکریوں، ووٹ کے حق، حتیٰ کہ وہ عدالتوں سے انصاف کے حصول سے بھی محروم ہوگئے۔ برما کے 1982ء کے شہریت کے اس قانون کی دنیا بھر میں شدید مذمت کی جاتی ہے، مگر برما کے حکمران اس کالے قانون کو اس لئے ختم نہیں کرتے کہ اس سے ان کو انتہا پسند بھکشوؤں کی سیاسی مخالفت مول لینا پڑ ے گی۔

روہنگیوں کے مسئلے پر جہاں تک عالمی ردعمل کا تعلق ہے، تو اقوام متحدہ اور امریکہ کا رویہ زبانی کلامی مذمت کا ہی ہے، حالانکہ اگر امریکہ چاہتا تو روہنگیوں کی صورت حال پر برما کی حکومت پرٹھوس دباؤ ڈال سکتا تھا۔ اس صورت حال میں خطے کے ممالک، جیسے بنگلہ دیش اور بھارت کا کردار انتہائی قابل مذمت ہے۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ نے تو پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ روہنگیوں کی کوئی مدد نہیں کرسکتیں۔ بھارتی وزیر اعظم مودی نے تو اس کشیدہ صورت حال میں برما کا دورہ کرکے وہاں کی حکومت کے مظالم کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا۔ جہاں تک مسلمان ممالک یا او آئی سی کا تعلق ہے تو توقع کے عین مطابق یہ ممالک کوئی ٹھوس کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں، تاہم یہاں پر ترکی کی حکومت کا کر دار بہت زیادہ مثبت رہا۔ ترکی کے صدر طیب اردوان نے روہنگیا کے مسئلے کو اقوام متحدہ میں بھرپور طریقے سے اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے روہنگیا پر مظالم کے خلاف احتجاج سامنے آیا ہے، مگر اس ضمن میں اب بھی سفارتی اور اخلاقی سطح پر بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔

مزید : کالم


loading...