بے نظیر بھٹو سے مریم نواز کا موازنہ واقعی نہیں بنتا

بے نظیر بھٹو سے مریم نواز کا موازنہ واقعی نہیں بنتا

  



مَیں سوچ رہا ہوں چودھری نثار علی خان کو آج یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ مریم نواز کا شمار سیاسی رہنماؤں میں نہیں، بچوں میں ہوتا ہے۔ وہ سیاستدان ہرگز نہیں ہیں، ان کی اصل شناخت یہ ہے کہ وہ نواز شریف کی بیٹی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مریم نواز کا بے نظیر بھٹو سے ہرگز موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ بے نظیر نے ایک طویل سیاسی جدوجہد کے بعد خود کو منوایا، جبکہ مریم نواز نے تو ابھی سیاست میں قدم بھی نہیں رکھا۔ چودھری نثار علی خان ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔سردوگرم چشیدہ ہیں، انہوں نے نازک ادوار میں بھی اہم سیاسی کردار ادا کیا ہے، مگر اب وہ ایک ایسی صورت حال کا شکار ہیں جس میں انہیں کوئی فیصلہ کرنے میں خاصی مشکل پیش آرہی ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) چھوڑی نہیں، تاہم عملاً اس سے الگ ہوگئے ہیں۔ ان کے مسلم لیگی وزراء اور دیگر لیڈروں کے ساتھ تعلقات بھی خراب ہیں اور نواز شریف کے ساتھ مراسم بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں، ان کا غالباً خیال یہ تھا کہ جب نااہلی کی صورت میں مستقبل کا سیاسی نقشہ ترتیب پائے گا تو اس میں ان کا کلیدی کردار ہوگا۔ دویاتو وزیر اعظم بنیں گے یا پھر مسلم لیگ(ن) کے صدر۔۔۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف بھی ان کے حامی تھے اور ہیں، مگر نواز شریف ان کے حوالے سے شدید تحفظات کا شکار تھے، کیونکہ چودھری نثار علی خان نے ہمیشہ پارٹی کے اندر اپنی برتری منوانے کی کوشش جاری رکھی اور خود یہ کہتے رہے کہ مَیں کابینہ میں بولنے والا واحد وزیر ہوں۔

چودھری نثار علی خان شاید نواز شریف سے اسی قسم کا فیصلہ چاہتے تھے، جو انہوں نے اپنی جلاوطنی کے دوران جاوید ہاشمی کی بجائے، چودھری نثار علی خان کو قائد حزب اختلاف بناکر کیا تھا، حالانکہ اس دور ابتلا میں جاوید ہاشمی پارٹی کو سنبھالا دیتے رہے تھے۔ نواز شریف اس موقع پر جب ان کی نااہلی ہو چکی ہے اور نیب ریفرنسز کے ذریعے ان کے خلاف مزید گھیراتنگ کیا جارہا ہے، کوئی ایسا رسک نہیں لینا چاہتے جو ان کے پیچھے سے سیڑھی کھینچ لینے کا باعث بن جائے۔۔۔ یوں بھی پاکستان میں وراثتی سیاست سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ نواز شریف چاہتے ہیں کہ ان کی سیاسی وراثت جاری رہے۔ وہ اس میں شہباز شریف اور ان کے بچوں کو بھی شامل نہیں کرنا چاہتے۔ چودھری نثار علی خان کو کیسے کرسکتے ہیں؟ انہوں نے حلقہ 120 سے ٹکٹ اپنی بیمار اہلیہ کو دیا اور ساری سیاسی مہم بھی مریم نواز کو سونپ دی۔ وہ یہ مہم بڑی کامیابی سے چلارہی ہیں اور اپنے حامیوں کے جذبوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے جب نواز شریف وزیر اعظم تھے تو یہ بات بھی سبھی کو معلوم تھی کہ حکومت چلانے میں بھی مریم نواز کا بڑا عمل دخل ہے۔ جب نواز شریف اپنے دل کا آپریشن کروانے لندن گئے تھے تو ان کی غیر موجودگی میں مریم نواز ہی حکومت کر رہی تھیں۔ وہ روزانہ وزیراعظم ہاؤس میں اجلاس بلاتیں اور فیصلے صادر کرتیں۔حیرت ہے کہ اُس وقت چودھری نثار علی خان نے کوئی اعتراض نہیں کیا،کوئی آواز نہیں اٹھائی۔

یہی مرم نواز جسے آج وہ بچی کہہ رہے ہیں، پوری حکومت کا بار سنبھالے ہوئے تھی۔سارے وزراء بھی انہی سے رہنمائی لیتے تھے اور سیکرٹری صاحبان کا قبلہ بھی وہی تھیں۔اس سے تو یہی لگتا ہے کہ چوھری نثار علی خان کو بطور سیاسی جانشین مریم کا انتخاب قبول نہیں،حالانکہ جب نواز شریف نااہل نہیں تھے،وزیراعظم اور پارٹی کے سربراہ تھے،تو تب بھی سبھی کو معلوم تھا کہ نواز شریف مریم نواز کو اپنا سیاسی جانشین بنا چکے ہیں۔ اس وقت چودھری نثار علی بالکل خاموش رہے،لیکن آج وہ بول رہے ہیں اور انہیں مریم نواز شریف میں سیاست سے نابلد ایک بچی نظر آ رہی ہے۔۔۔ تاہم چودھری نثار علی خان کی یہ بات درست ہے کہ سیاست دان بننے کے لئے مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ وہ صحیح کہتے ہیں کہ مریم نواز کا بے نظیر بھٹو سے دور دور تک کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔بے نظیر جب1986ء میں جلا وطنی کے بعد پاکستان واپس آئیں تو لاہور میں ان کا تاریخی استقبال کیا گیا۔ یہ بات خود اُن کی سیاسی بصیرت کو ظاہر کرتی تھی کہ انہوں نے واپسی کے لئے کراچی یا لاڑکانہ کی بجائے لاہور کا انتخاب کیا۔اُس وقت وہ غیر شادی شدہ اور 30برس کی ایک لڑکی تھیں۔۔۔ اورمرحلہ درپیش تھا آمریت کے مقابلے اور جمہوریت کی بحالی کا۔ اُس سے پہلے وہ اپنے والد کے حالات کو بڑے قریب سے دیکھ چکی تھیں،اُن پر قتل کے مقدمے میں قدم قدم ساتھ رہیں، پھر جب پھانسی دینے کا موقع آیا تو آخری ملاقات انہوں نے ہی کی،جس کے بعد جلاوطنی کا ایک طویل دور شروع ہوا۔ جب واپس آئیں تو پارٹی کو زندہ کرنے کا مرحلہ درپیش تھا۔اُن کی والدہ نصرت بھٹو نے ایک اچھا فیصلہ یہ کیا کہ اُن کی شادی کر دی، جس سے اُن کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ پھر الیکشن مہم چلا کر وہ 1988ء میں ملک کی وزیراعظم بن گئیں،بعد کے حالات سب کو معلوم ہیں کہ آصف علی زرداری کی گرفتاری، دوبارہ جلاوطنی، پھر واپسی اور آصف علی زرداری کی رہائی کے لئے لمبی قانونی لڑائی۔

بعدازاں مشرف دور میں پھر جلا وطنی اور ایک عرصے بعد واپسی اور اس کے بعد شہادت۔ یہ سب مراحل ان کی سیاست کے رنگوں کو ظاہر کرتے ہیں۔اس تناظر میں مریم نواز کا اُن سے کوئی موازنہ نہیں ہو سکتا۔ وہ آج بھی حلقہ120 کی انتخابی مہم مکمل طورپر سرکاری پروٹوکول سے چلا رہی ہیں۔وہ اب تک ثابت نہیں کر سکیں کہ اُن میں سیاسی ویژن موجود ہے۔اُن کی سوچ کا زاویہ آج بھی صرف اس نکتے کے گرد گھوم رہا ہے کہ نواز شریف کو غلط نکالا گیا ہے۔وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو عوام سے رد کرانا چاہتی ہیں،حالانکہ اندھا بھی جانتا ہے کہ یہ گمراہی کا راستہ ہے۔ ابھی تو وہ غیر اعلانیہ پارٹی کو سنبھالے ہوئے ہیں، لیکن اگر انہیں باقاعدہ پارٹی کی صدر بنادیا جاتا ہے تو کیا چودھری نثار علی خان کی طرح اور بہت سے پارٹی لیڈر ان کی کمان کو تسلیم کرلیں گے؟۔۔۔خصوصاً اس صورت میں جب انتخابات کے اعلان کے بعد اسمبلیاں بھی ٹوٹ جائیں گی اور حکومت کی سپورٹ بھی نہیں رہے گی۔ اس حوالے سے جوچیز سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے، وہ شریف خاندان کا اتحاد ہے۔ اگر وراثتی سیاست کی وجہ سے شریف خاندان میں دراڑ پڑجاتی ہے اور شہباز شریف اپنے بیٹے حمزہ شہباز کو شریف خاندان کا سیاسی جانشین بنانے کا علم بلند کردیتے ہیں تو پھر مریم نواز کے لئے مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ اب بھی عملاً صورت حال یہ ہے کہ حلقہ 120میں صرف مریم نواز انتخابی مہم چلارہی ہیں۔ اس طرح تو وہ سیاسی تنہائی کی طرف جارہی ہیں۔

ایسے میں چودھری نثار علی خان کا یہ بیان کہ مریم نواز سیاست سے نابلد ہیں اور ان کی پہچان صرف نواز شریف کی بیٹی ہونا ہے، ایک طرح سے مریم نواز پر عدم اعتماد کے مترادف ہے۔ شریف خاندان کے لئے ایک اور مشکل مرحلہ نیب ریفرنسوں سے کم از کم مریم نواز کو بچانا ہے، جبکہ جو ریفرنس بنائے گئے ہیں، ان میں مریم کا نام بھی بطور ملزم شامل ہے۔ اب اگر فرض کیا، انہیں سزا ہو جاتی ہے تو وہ بھی اپنے والد کی طرح انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نااہل ہو جائیں گی۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری دونوں ہی ایک کشتی کے سوار ہیں، لیکن دونوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی آزادانہ سیاست کا ابھی کوئی ٹیسٹ نہیں ہوا۔ مریم نواز اپنے والد کی سیاست کے تابع ہیں اور بلاول اپنے والد آصف علی زرداری کی چھترچھاؤں تلے اپنی پہچان کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ بے نظیر بھٹو اس لئے بہت جلد بڑی سیاستدان بن کر ابھریں کہ اُن کے پاس صرف اپنے والد کی سیاسی وراثت تھی، مگر فیصلے انہوں نے خود کرنے تھے۔ انہیں مریم نواز یا بلاول بھٹو زرداری کی طرح یہ خوف نہیں تھا کہ ابو کیا کہیں گے۔شاید اسی صورت حال کو پیشِ نظررکھ کر چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ مریم سیاستدان نہیں، بلکہ صرف نواز شریف کی بیٹی ہیں۔

مزید : کالم


loading...