نئی بین الاقوامی منڈیاں تلاش کرنے کے لئے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے، کاشف اشفاق

نئی بین الاقوامی منڈیاں تلاش کرنے کے لئے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ...

  



لاہور ( کامر س رپورٹر) پاکستان فرنیچر کونسل (پی ایف سی) کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ پاکستان میں تیار ہونیوالے عالمی معیار کے فرنیچر کو دنیا بھر میں فروغ دینے اور اس کی برآمدات میں اضافہ کیلئے نئی بین الاقوامی منڈیاں تلاش کرنے کے لئے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ روزپی ایف سی ہیڈکوارٹر میں سندھ سے تعلق رکھنے والے فرنیچر برآمد کنندگان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں کاشف اشفاق نے سندھ کے فرنیچر برآمد کنندگان کی تعریف کی۔ جنہوں نے فرنیچر کی برآمد کے حجم کو بڑھانے کے لئے اپنا اہم اور بھر پورکردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے فرنیچرکی برآمد کا حجم انتہائی کم تھا مگر اس ضمن میںآغاز کر دیا گیا ہے اور جارحانہ مارکیٹنگ کی حکمت عملی کے ساتھ مختصر مدت میں برآمدات کا حجم دوگنا کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایف سی نے کراچی ایکسپو سنٹر میں 3 روزہ میگا آٹھویں انٹیریئرز پاکستان نمائش کامیابی سے منعقد کی۔ کراچی اور سندھ سے تعلق رکھنے والی بڑی تعداد میں فرنیچر کمپنیوں نے اس شاندار تقریب میں حصہ لیا اور ان کی مصنوعات کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ایف سی کی نوویں 3 روزہ میگا "انٹیرئرز پاکستان" نمائش دسمبر میں ایکسپو سینٹر لاہور میں منعقد ہو گی جس سے مقامی فرنیچر کے کاروبار کو ملک بھر میں اور ملک سے باہر بڑھانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے پاکستانی فرنیچر کے برآمدکند گان کو اس نمائش میں حصہ لینے اور اپنی مصنوعات کی نمائش کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ نمائش بڑی فرنیچر کمپنیوں اور انٹیریئر ڈیکوریٹرز کیلئے ایک نادر موقع ہے کہ وہ اس میں اپنی مصنوعات کی نمائش کریں۔ انہوں نے کہا کہ مواقع بہت زیادہ اور پاکستانی سرحدوں سے باہر کی مارکیٹ ہماری مقامی مارکیٹ سے بہت بڑی ہے۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ مقامی کاریگروں، لکڑی کا کام کرنے والے اور دستکاری کے مختلف قسم کے اور روایتی ماہرین کی تیار کردہ مصنوعات میں برآمدات کی بہت بڑی صلاحیت ہے جو نہ صرف عمومی فرنیچر مارکیٹ میں بلکہ منفرد اور مہنگی فرنیچر مارکیٹ میں بھی اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کو بین الاقوامی فرنیچر نمائشوں میں شرکت کیلئے فرنیچر کے برآمد کنندگان کی مدد کرنا چاہئے۔ فرنیچر کی کل برآمدات میں تقریبا 55 فیصد حصہ صرف اٹلی، فرانس، امریکہ کو برآمدات کا ہے، پاکستانی خارجہ مشنز کو نئے مواقع تلاش کرنے اور ان ممالک میں تجارتی میلوں پر توجہ مرکوز رکھنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایف سی نے آئندہ سال 2018 کیلئے ایکسپورٹ سٹریٹجی تیار کر لی ہے، اگر مہارت، کاریگری، خواتین کی ترقی کے منصوبوں اور ہائی ٹیک مشینری کے لئے تربیتی مراکز فراہم کیے جائیں تو یہ سیکٹر رواں سال کے آخر تک 850 ملین ڈالر کا برآمدی ہدف حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹمبر بورڈ کی ری سٹرکچرنگ کی جائے، شیشم کی لکڑی کی غیر قانونی برآمد کو روکنے اور اس کی کاشت کو بحال کرنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔ میاں کاشف نے کہا کہ پاکستان میں تیار ہونے والے فرنیچر کا 95 فی صد لکڑی سے بنایا جاتا ہے۔ ملک میں 600 سے زائد فرنیچر کی مینوفیکچررز ورکشاپیں ہیں جس کے مین مراکز چنوٹ، گجرات، پشاور، لاہور اور کراچی ہیں جہاں برآمدی معیار کا فرنیچر تیار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان سے فرنیچر مصنوعات کی برآمدات کے مستقبل کے بارے میں بہت پر امید ہیں، فرنیچر میں دنیا کی مجموعی تجارت کا تخمینہ 23.2 بلین ڈالر ہے، جس میں 77 فیصد لکڑی اور 17 فیصد دھاتی فرنیچر کا حصہ ہے، اگر پاکستان میں اس شعبے کو باقائدہ صنعت کی شکل دی جائے تو وہ عالمی فرنیچر مارکیٹ میں حصہ لینے کے قابل ہو جائے گا کیونکہ اس شعبے میں وسیع صلاحیت موجود ہے۔ قبل ازیں سیکرٹری پی ایف سی حامد محمود نے 8 ویں ایکسپو اور لاہور میں آئندہ 9 ویں ایکسپو کے لئے انتظامات کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی۔

مزید : کامرس


loading...