قومی زبان تحریک کے زیر اہتمام کل پاکستان نفاذ اردو کانفرنس کا اہتمام

قومی زبان تحریک کے زیر اہتمام کل پاکستان نفاذ اردو کانفرنس کا اہتمام

  



لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پاکستان قومی زبان تحریک کے زیر اہتمام الحمرا ہال میں کل پاکستان نفاذ اردو کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔جس میں پاکستان میں اردو کے نفاذ اور ترویج کیلئے عملی طور پر اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔کانفرنس میں ممتاز دانشوروں اوریا مقبول جان ،ایثار رانا ،راجو جمیل ،عزیز ظفر آزاد ،شمشاد احمد خان،عطا محمد خان، عزیز ظفر آزاد نے خطاب کیا۔پاکستان قومی زبان تحریک کے صدر عزیز ظفر آزاد نے کہا کہ زبان کسی بھی قوم کی ماں ہوتی ہے۔ہمیں آگے بڑھنا ہو گا اور اردو کے نفاذ کے لئے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔اس ملک میں نفاذ اردو تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔انہوں نے کہا کہ بہت دکھ کی بات ہے کہ پرائیویٹ سکولوں اور جامعات میں اردو بولنے پر پابندی عائد ہے ۔کیا یہ ملک انگریزوں کے لئے بنا ہے ہم نئی نسل کو کیا بنانا چاہ رہے ہیں ۔ہمار ی حکمران اشرافیہ احساس کمتری کا شکار ہے ان کے اذہان سے ابھی تک انگریزوں کی غلامی نہیں نکلی ۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمراء کیپٹن عطا محمد نے کہا کہ اردو زبان ایک لشکری زبان ہے۔ہمیں اردو کے نفاذ کے حوالے سے بتد ریج آگے بڑھنا ہو گا ۔اوریا مقبول جان نے کہا کہ اسٹنٹ کمشنر سے لے کر وزیراعظم تک اپنے اجلاسوں میں تو اردو بولتے ہیں لیکن اس کی کارروائی انگریزی میں ٹائپ کرتے ہیں یہ منافقت اچھی بات نہیں ہے ۔پوری بیوروکریسی کی تاریخ میں چند لوگ ایسے تھے جو انگریزی کے حق میں تھے۔ ہمیں اردو زبان کے نفاذ کے لئے مل جل کر آگے بڑھنا ہو گا اور انگریزوں کی طرف سے ہم پر مسلط کی گئی انگریزی زبان کو اپنے اذہان سے نکالنا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ اردو وہ زبان ہے جس میں علامہ اقبال نے ہمیں خودی کا درس دیا سوائے چند کرپٹ اشرافیہ کے پیدا کرنے کے علاوہ انگلش میڈیم تعلیمی اداروں نے اس قوم کو کچھ نہیں دیا ۔آج اگر مقابلے کا امتحان اردو میں لیا جائے تو غریب کا بچہ بھی سول سروس میں آسکے گا لیکن ہماری کرپٹ اشرافیہ ایسا نہیں چاہتی ۔گروپ ایڈیٹر روزنامہ پاکستان ایثار رانا نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم اس ملک کے اندر انصاف قائم نہیں کریں گے اس وقت تک آپ اس ملک میں اردو زبان کا نفاذ نہیں کرسکتے ۔بڑی خوبصورتی سے اس ملک میں بونوں کو ہم پر لاگو کرنے کے لئے نظام بنایا گیا۔ہماری بد قسمتی ہے کہ اس ملک میں پانچ قسم کے نظام تعلیم رائج ہیں ۔ایک نظام تعلیم بیورو کریٹ پیدا کر رہا ہے تو دوسرا نظام تعلیم کلرک پیدا کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سب اپنی اپنی ذات میں ڈکٹیٹر ہیں ۔ہمار ے ملک کے حکمران بیرونی دوروں میں انگریزی زبان میں بات کرتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ قوموں کے حکمران جب دوسرے ممالک میں جاتے ہیں تو وہ اپنی مادری زبان بات کرتے ہیں ۔اردو واحد ایک ایسی زبان ہے جو کہ اس خطے میں سب سے زیاد بولی جاتی ہے ۔اردو کو کوئی طاقت نہ دبا سکی ہے اور نہ دبا سکے گی ۔ پاکستا ن قومی ت زبان تحریک شعبہ خواتین کی صدر فاطمہ قمر نے کہا کہ پاکستان میں انگریزی زبان کی جبری بالا دستی قومی مقاصد کے حصول مین سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی یکجہتی اور قومی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے اردو کا سرکاری ،عدالتی اور تعلیمی نفاذ بہت ضروری ہے۔ جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ ہمیں اردو کے نفاذ کے لئے باتوں سے نکل کر عملی طور اقدامات کرنا ہوں گے ۔ہمیں وہ اردو رائج کرنا ہے جو سب کی سمجھ میں آ سکے۔کانفرنس میں سید محمود احمد خان (پڑپوتے سر سید احمد خان ) جماعت اسلامی شعبہ خواتین کی صدر سمیعہ راحیل قاضی ، اداکار حسیب پاشا ، شاعرہ فاطمہ غزل صائمہ الیاس ،سینئر صحافی اقبال بخاری ،زاہد حسین ، پروفیسر سلیم ہاشمی ، دانشور راجو جمیل ، سیکرٹری انجمن ترقی اردو ڈاکٹر فاطمہ حسن سمیت شاعروں ادیبوں اوسول سوسائٹی کے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

مزید : صفحہ آخر