امریکہ اور فلسطین میں بھی روہنگیا مسلمانوں کے حق میں مظاہرے،میانمار سکیورٹی فورسز بھی مظالم میں ملوث ہیں: اقوام متحدہ، ریاستی طاقت کے بیجا تشدد کی نئی لہر پر تشویش ہے: او آئی سی

امریکہ اور فلسطین میں بھی روہنگیا مسلمانوں کے حق میں مظاہرے،میانمار سکیورٹی ...

  



واشنگٹن (این این آئی)میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی مبینہ نسل کشی کے خلاف دنیا بھر میں مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا، نیویارک میں اقوام متحدہ کی عمارت اور واشنگٹن میں برما کے سفارتخانے کے باہر جبکہ فلسطین بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے، جس میں مظاہرین نے نسل کشی بند کرنے اور اسے دہشت گردی قرار دینے کا مطالبہ کیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکہ میں میانمار کی حکومت کے خلاف ان مظاہروں کا اہتمام امریکی مسلمانوں کی مختلف تنظیموں نے کیا تھا۔واشنگٹن میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم 'کیئر انٹرنیشنل' کے ڈائریکٹر نہاد اعواد نے الزام عائد کیا کہ برما کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث ہے''۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ''عالمی ضمیر برما کو اس نسل کشی سے روکے۔فلسطین میں حماس کی اپیل پر غزہ کی پٹی اور دوسرے شہروں میں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانیوالے ظلم کے خلاف احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور جلسے جلوس منعقد کئے گئے۔ ریلیوں سے خطاب میں حماس اور دیگر فلسطینی قیادت نے روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر سے نجات دلانے کیلئے عالم اسلام کو متحرک اور فعال کردار ادا کرنے پر زور دیا۔

ینگونْ نیویارک( آن لائن ) میانمار میں تعینات اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ینگ ہی لی نے تصدیق کی ہے کہ پرتشدد واقعات میں ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔ میانمار میں تعینات اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ینگ ہی لی نے بتایا ہے کہ ہمیں میانمار کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم بشمول بچوں، خواتین اور بزرگوں پر حملوں کی مستقل اطلاعات موصول ہورہی ہیں اور اب تک عینی شاہدین کے بیانات سے پتہ چلا ہے کہ ریاست ریخائن میں ہلاک شدگان کی تعداد 1 ہزار سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔ینگ ہی لی نے میانمار کی نوبل امن انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی سے اپیل کی ہے کہ وہ تشدد کی روک تھام کیلئے فوری طور پر اقدامات کریں ورنہ ان پرتشدد واقعات کے رد عمل میں انتہا پسندی کا اضافہ ہوگا۔اقوامِ متحدہ نے مزیدہے کہ میانمار میں دو ہفتے قبل شروع ہونے والے تشدد کے بعد سے اب تک 2,70,000 روہنگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش میں پناہ لی ہے۔ خاتون ترجمان کا ان اعداد و شمار کو 'بہت خطرناک' قرار دیتے ہوئے کہاکہ میانمار میں صورتِ حال سے نمٹنے کیلئے فوری کارروائی کی ضرورت تھی۔

ریاض/دوحہ(این این آئی)او آئی سی نے روہنگیامسلمانوں پر مظالم کی مذمت کرتے ہوئے میانمارحکومت سے بے قصور روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کی ہر طرح کی خلاف ورزیاں ختم کرانے کے لئے فوری اور موثر اقدام کا مطالبہ کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم نے روہنگیا مسلمانوں کیخلاف غیر معمولی طاقت کے استعمال پر بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے جاری اعلامیہ میں کہا کہ روہنگیا اقلیت کیخلاف میانمار میں ریاستی طاقت کے بیجا تشدد کی نئی لہر پر تشویش ہے۔او آئی سی نے اقوام متحدہ کے دیگر ادارو ں کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کہا کہ ریخائن صوبے سے متعلق بین الاقوامی مشاورتی کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے۔دوسری جانب عالمی علماء کونسل نے روہنگیا میں ریاستی جبر کے شکار مظلوم مسلمانوں کی مدد ونصرت کو عالم اسلام پر فرض قرار دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل الشیخ علی محی الدین القرہ داغی نے کہا ہے کہ روہنگیا کے مسلمانوں کا مسئلہ محض مسلم ممالک کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے جسے عالمی سطح پر حل کرنے کیلئے پوری دنیا کو آگے آنا ہوگا۔ تاہم روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم بند کرانے کی پہلی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔علماء کونسل نے تمام مسلمان ملکوں کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ برما کے مظلوم مسلمانوں کو ظلم سے نجات دلانے کیلئے سفارتی اور سیاسی کوششیں تیز کریں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...