انصار الشریعہ کے سہولت کار پولیس اہلکار سمیت متعدد اہم کارکن گرفتار

انصار الشریعہ کے سہولت کار پولیس اہلکار سمیت متعدد اہم کارکن گرفتار

  



کراچی، کوئٹہ، ملتان(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) شہر قائدکراچی سمیت ملک بھر کے مختلف شہروں میں انصار الشریعہ کیخلاف قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارروائیاں جاری ہیں ، ناظم آباد سے تنظیم کو فنڈنگ کرنیوالے ملزم سمیت سہولت کاری میں ملوث پولیس اہلکار کو حراست میں لے لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانیوالی دہشت گرد تنظیم انصار الشریعہ کیخلاف قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا کریک ڈان جاری ہے ، جنہوں نے شہرکے علاقے ناظم آباد سے ا انصار الشریعہ کے مبینہ دہشتگرد اور ایک پولیس اہلکار کو گرفتار کرلیا ہے،مبینہ دہشتگرد ماربل کا کاروبار کرتا ہے جس پر تنظیم کیلئے فنڈنگ جبکہ حراست میں لیے گئے پولیس اہلکار پر سہولت کاری کا شبہ ہے ۔ اس سے قبل ملتان سے انصار الشریعہ کے مفرور دہشتگرد طلحہ انصاری کو گرفتار کیا گیا ، طلحہ انصاری پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہے جو عبد ا لکریم سروش کا قریبی ساتھی اور ٹارگٹ کلنگ ٹیم کا شوٹر تھا ،اسی طرح کوئٹہ سے انصار الشریعہ کے اہم کارندوں بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کے پروفیسر مشتاق اور حیدرآباد میں مدرسے کے معلم مفتی حبیب اللہ کو گرفتار کیاگیا جبکہ جامعہ کراچی کی رہائشی کالونی سے دانش اورتنظیم کے سربراہ شہریار عرف عبداللہ ہاشمی کو کنیز فاطمہ سوسائٹی سے گرفتار کیاگیا ،جامعہ کراچی اپلائیڈ فزکس سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنیوالاعبداللہ ہاشمی ہی ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی ، پلاننگ اور ریکی کرتا تھا۔ تنظیم میں دوسرا نمبر حسان کا تھا جو پولیس پر ہونیوالے تمام حملوں میں ملوث رہا۔ تیسرے نمبر پر عبدالکریم سروش تھا، روفی روز پیٹل میں پولیس مقابلے کے دوران فرار ہونیوالا سروش فنڈ جمع کرنے ، ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں اور اسلحہ رکھنے کا ذمہ دار تھا ۔

مزید : صفحہ آخر