انسداد منشیات فورس ملزموں کی سہولت کار ہے، سویلین تحقیقاتی افسر ایمانداری نہیں ہوتے؟ سپریم کورٹ

انسداد منشیات فورس ملزموں کی سہولت کار ہے، سویلین تحقیقاتی افسر ایمانداری ...

  



اسلام آباد (آن لائن ) سپریم کورٹ نے منشیا ت کے مقدمہ کی سماعت کے دوران انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے این ایف ملزمان کو عدالت سے بری ہونے کیلئے سہولت فراہم کرتا ہے ،ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں دشمن نوجوان نسل کو نشے کاعادی بناکرتباہ کررہاہے ، دہشت گردوں کو60فیصد سے زیادہ فنڈنگ منشیات کی آمدن سے ہوتی ہے ،اے این ایف نے اپنے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے اس معاملے پرکیاایکشن لیا ، اے این ایف میں تحقیقات کاتجربہ رکھنے والے سویلین کوبھرتی کیاجاناچاہیے اورکیاسویلین تحقیقاتی افسر ایماندار نہیں ہوتے، یہ ریمارکس جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کے دوران دیئے ۔کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میجر جنرل کو منشیات کے مقدے میں عدالت آنا چاہیے ، ملزم کی بریت پر وہ کہیں گے عدالت نے ملزم کو چھوڑ دیا ۔ عدالت نے کہا کہ میڈیاپررپورٹس آنے کے بعد اے این ایف نے تعلیمی اداروں میں منشیات کی فروخت پرایکشن لیا،کیوں نہ خبردینے والے صحافی کوڈی جی اے این ایف بنادیاجائے ۔ جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ اے این ایف منشیات لے جانے والے کوپکڑتی ہے جہاں پہنچائی جاتی وہاں ہاتھ نہیں ڈالتے۔ بعد ازاں عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزم وقار اعظم کو عدم شواہد کی بنا پر بری کردیا ۔ملزم سے16نومبر2014 کوراولپنڈی سے 3کلوچرس برآمد ہوئی تھی۔

مزید : صفحہ آخر