پنجاب بھر میں نہروں کے کنارے لگے درخت لاوارث ہو گئے

پنجاب بھر میں نہروں کے کنارے لگے درخت لاوارث ہو گئے

  



لاہور(عدیل شجاع)صوبہ بھر میں پھیلے 29 ہزار کلو میٹر لمبے نہری نظام کے کنارے لگے لاکھوں ماحول دوست درختوں کا کوئی والی وارث نہ رہا، 1996 میں صوبہ بھر میں نہر کنارے لگے درختوں کو محکمہ جنگلات کے سپرد کر دیا گیا تھا، محکمہ آبپاشی پنجاب کی صوبہ میں کم وبیش 400 سب ڈویژنز میں نہروں کے اطراف کی ہزاروں کلومیٹر کی اراضی مفاد عامہ کے لیے مختلف محکموں کے زیر استعمال ہے، ہر سال نہری نظام کی ڈی سلٹنگ کے لیے یہی رائٹ آف وے استعمال کیا جاتا ہے ،ہر تین سال بعد نہری نظام کی بحالی اور ڈویلپمنٹ کے کاموں میں بھی یہی اراضی ہمارے کام آتی ہے، رائٹ آف وے کا کوئی کرایہ وصول نہیں کرتے کیونکہ اس سے کافی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق صوبہ بھر میں بچھائے گئے 29 ہزار کلو میٹر طویل نہری نظام سے جہاں 21 ملین ایکڑ اراضی کو سیراب کیا جاتا ہے۔ وہیں اس طویل نہری نظام کے دونوں اطراف میں رائٹ آف وے کے ضمن میں زمین 30 فٹ سے لیکر نہر کے پاٹ کے مطابق 200 فٹ تک بدلتی رہتی ہے اور اس ہزاروں کلومیٹر لمبی اراضی کو محکمہ آبپاشی پنجاب کی طرف سے مفاد عامہ کے لیے مختلف محکموں کے زیر استعمال دیا گیا ہے جس میں شہری علاقوں میں پکی سڑکیں اور دیہی علاقوں میں کچی سڑکیں شامل ہیں۔ جس کا اریگیشن پنجاب کی طرف سے کوئی کرایہ وصول نہیں کیا جاتا تاہم یہ قیمتی اراضی محکمہ آبپاشی پنجاب کی ہی ملکیت ہے۔ دوسری جانب اس طویل 29 ہزار کلو میٹر کی لمبائی پر پھیلے نہری نظام میں نہروں کے کنارے لگے لاکھوں کی تعداد میں قیمتی درخت اور ان کی دیکھ بھال کا ذمہ1996 سے محکمہ جنگلات کو دے دیا گیا ہے جبکہ صرف لاہور شہر سے گزرنے والی نہر پر لگے درختوں کی دیکھ بھال پی ایچ اے کی ذمہ داری ہے جبکہ اس کے علاوہ پورے صوبہ کے درختوں کا انتظام 1996 سے محکمہ جنگلات ہی سنبھال رہا ہے۔ مگر محکمانہ عدم دلچسپی سے لاہور بی آر بی کنال سمیت اس پورے 29 ہزار کلو میٹرطویل پٹی پر لگے لاکھوں قیمتی درخت اور پودے ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔جس سے ناصرف کروڑوں روپے کے ضیاع کا احتمال ہے بلکہ اس پورے علاقہ کے موسم پر بھی اس کے منفی اثرات پیدا ہونے کے خدشات منڈلانے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے لاہور کنال کے کنارے پر لگے ان درختوں کی مناسب دیکھ بھال کے لیے نہ ہی کوئی بیلدار مقرر کیے گیے ہیں اور نہ ہی ان ہزاروں قیمتی درختوں کو موسمی بیماریوں سے بچانے کے لیے کوئی جراثیم کش ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ مقامی آبادی کی جانب سے ان کی غیر قانونی کٹائی کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔اس حوالے سے ترجمان محکمہ آبپاشی پنجاب کاکہنا تھا کہ لاہور کنال سمیت پورے صوبہ میں نہر کنارے لگے درخت 1996 سے محکمہ جنگلات کے سپرد ہیں جس میں سے صرف لاہور کینال پر لگے درختوں کی ذمہ داری پی ایچ اے کے سپرد ہے جبکہ آبپاشی پنجاب کی جانب سے ایک سمری ان درختوں کو اپنی تحویل میں لینے کے لیے بنا لی گئی ہے جو اب اختتامی مراحل میں ہے اور چند معاملات طے ہونے باقی ہیں جیسے ہی یہ معامات طے پا گئے تو لاہور کینال سمیت صوبہ بھر کے نہری کنارے لگے درخت محکمہ آبپاشی کی تحویل میں آجائیں گے اور ممکنہ طور پر جز وقتی ان درختوں کی حفاظت و نگہداشت پر معمور عملہ بھی ہمارے محکمہ کی تحویل میں آ جائے گا۔اور اس کے بعد ہم ان انسان اور ماحول دوست قیمتی درختوں کی بقاء اور بہتری کے لیے جدید سائنسی طریقے بھی اختیار کریں گے اور ان کی غیر قانونی کٹائی کے سلسلہ کی بھی روک تھام یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مستقبل قریب میں اس سمری اور تجاویزکے منظور ہونے کی قومی امید ہے۔جبکہ نہری نظام کے دونوں اطراف کی اراضی بابت بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ مختلف جگہوں پر نہر کے پاٹ کی نسبت سے 30فٹ سے لیکر 200 فٹ تک بدلتی رہتی ہے اور ہم نے اس اراضی کو مفاد عامہ کے لیے پورے صوبہ میں ضلعی حکومتوں کے سپرد کر رکھی ہے مگر اس کا کوئی کرایہ وصول نہیں کیا جاتا کیونکہ ہمیں ہر سال نہری نظام کی ڈی سلٹنگ اور ہر تین برس بعد نہری نظام کی بحالی اور ڈویلپمنٹ کے کاموں کے سلسلے میں اسی زمین کو استعمال کرنا پڑتا ہے اگر ہم اس اراضی کا کرایہ وصول کرنا شروع کر دیں تو اس سے ہمیں اپنے انتظامی اور ترقیاتی کاموں کے سلسلہ میں کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...