پانی پینے کے قابل نہ دودھ ، گھے خالص، بچوں کو کیا کھلائیں ؟ مرغی کا گوشت تک ملاوٹ زدہ ہے : سینیٹ قائمہ

پانی پینے کے قابل نہ دودھ ، گھے خالص، بچوں کو کیا کھلائیں ؟ مرغی کا گوشت تک ...

  



اسلام آباد(صباح نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے مرغی کے گوشت، پانی اور دودھ کے معیار پر شدیدتشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر لگانے کی بھی سفارش کر دی ،جبکہ اجلاس کے دوران پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے)کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ پو لٹر ی فارمز میں مرغیوں کا وزن بڑھانے کیلئے انجیکشنز اور اینٹی بائیوٹک کا استعمال کیا جاتا ہے۔ سینیٹر عثمان سیف اللہ خان کی سربراہی میں گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی سائنس ٹیکنالوجی نے عوام کو شفاف پینے کے پانی ،ملاوٹ سے پاک اشیاء خورد نوش و دودھ کی فراہمی کیلئے چاروں چیف سیکرٹریز کو آئندہ اجلاس میں طلب کر نے کے علاوہ پی ایس کیو سی اے اور پی سی آر ڈبلیو آر کو کارکردگی موثر بنانے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت بھی کی ۔ قائمہ کمیٹی نے پی سی آر ڈبلیو آر کا بجٹ بڑھانے کیلئے بھی حکومت سے سفارش کر دی تاکہ شفاف پانی کے حوالے سے ادارہ اپنی تحقیق میں اضافہ کر سکے ۔ اجلاس میں پیک دودھ ، ٹی وائٹنر اور پوڈر دودھ کے معیار کے علاوہ عوام کو شفاف پانی کی فراہمی کیلئے وزارت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں قومی ادارہ برائے اوشنو گرافی کے بورڈ آف گورنر کیلئے سینیٹر مرتضیٰ وہاب کی نامزدگی کی منظوری بھی دی گئی ۔ایڈیشنل سیکرٹری سائنس ٹیکنالوجی محمد اشرف نے بتایا کہ بورڈ آف گورنر کے ممبران کی تعداد 20 ہے دونوں ایوانوں سے ایک ایک ممبر لیا جاتا ہے ۔ پہلے سعید غنی کوممبر کے طور نامزد کیا گیا تھا مگر نوٹیفکیشن نہیں ہو سکا تھا ۔ نوٹیفکیشن وزیراعظم کی منظوری سے ہوتا ہے ۔ وزارت سائنس ٹیکنالوجی نے 14ء میں سمری بھیجی تھی قائمہ کمیٹی نے نوٹیفکیشن کی تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے تفصیلات طلب کر لیں ۔ ڈی جی پی ایس کیو سی اے خالد صدیق نے کمیٹی کو ادارے کی کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا 109 اشیاء میں سے کھانے کے حوالے 38 اشیاء ادارے کی فہرست میں شامل ہیں ،ملک میں25 برانڈ زکے دودھ ہیں،اس حوالے سے پچھلے سال سے قانون سازی کی گئی ہے ۔ 21 کمپنیوں کو لائسنس جاری ہوئے دو کمپنیوں کے انڈر پراسس ہیں اور دو کمپنیوں کے لائسنس کے حوالے سے کیسز ہیں۔ ٹی وائٹنر کے معیار بنا دیئے ہیں یہ کام مارچ میں مکمل ہوا تھا ۔ جس پر رکن کمیٹی میاں محمد عتیق شیخ نے کہاکمیٹی نے واضح ہدایت کی تھی کہ جب بھی معیار ترتیب دیئے جائیں کمیٹی کو اعتماد میں لیا جائے ۔ مگر ادارے کی ملی بھگت سے معیار مقرر کرتے وقت پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔ ٹی وائٹنر جانوروں کیلئے بھی مضر صحت ہے جو انسانوں کو پلایا جارہا ہے ۔ رکن کمیٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقیوم نے کہا ٹی وائٹنر بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کریں ناقص اشیاء کی فراہمی کی وجہ سے جگر گردے اور معدے کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہاہے ۔ پولٹری کی خوراک میں مضر صحت اجزا شامل ہیں جو دیگر ممالک میں بین ہیں ۔ چیئرمین کمیٹی عثمان سیف اللہ خان نے کہا دریائے سندھ کیساتھ پنجاب اور سندھ کے رہنے والے پانچ کروڑ عوام مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں ۔چیئرمین پی سی آر ڈبلیو آر محمد اشرف نے کمیٹی کو بتایا پولٹری کی خوارک کے حوالے سے پنجاب حکومت کیساتھ 12کیسز ہے ۔پولٹری کی خوراک کو چیک کرنا ہمارے دائرہ کار میں نہیں ، پولٹری کی خوراک میں اینٹی بائیوٹک کثیر تعداد میں استعمال ہوتی ہے تاکہ پولٹری جلد سے جلد تیار ہو سکے ۔ 2002 سے پینے کے پانی کی مانیٹرنگ کا عمل شروع ہوا اور ملک بھر سے لئے گئے 80 فیصدنمونے مضر صحت پائے گئے ، دیہی علاقوں میں مضر صحت پانی بہت زیادہ ہے ۔ بلوچستان زیارت کا 100 فیصد پانی خراب ہے ۔ تین صوبوں میں پانی کے حوالے پالیسی اختیار کر لی ہے ۔ سندھ نے ابھی پالیسی ترتیب نہیں دی ۔ سینیٹر سردار فتح محمد حسنی نے کہا بلوچستان کے علاقہ مچھ اورنوکنڈی میں پانی پینے سے لوگوں کی آنکھیں اور کان مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر باہر نکل آتے ہیں اور کئی لوگوں کی آنکھیں سٹرک پر گر گئی ہیں ۔ چیئرمین پی سی آر ڈبلیو آر نے کہا کہ کوئٹہ میں پانی کی شدید قلت ہونے والی ہے جس کی وجہ سے کوئٹہ سے زراعت ختم کی جارہی ہے ۔ پارلیمنٹ ہاؤس اور لاجز کے چھ فلٹریشن پلانٹس میں سے تین کا پانی صحیح نہیں ہے ۔ پی سی آر ڈبلیو آر کے ملک میں 24 دفاتر ہیں بجٹ ناکافی ہے ، جس پر کمیٹی نے حکومت سے ادارے کا بجٹ بڑھانے کی سفارش کی ۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...