حلقہ بندیوں کیلئے مردم شماری کے عبوری نتائج کے استعمال کا فیصلہ

حلقہ بندیوں کیلئے مردم شماری کے عبوری نتائج کے استعمال کا فیصلہ

  



اسلام آباد(این این آئی) بین الصوبائی رابطہ کمیٹی (آئی پی سی سی) نے وفاقی حکومت کی پیش کش پر باضابطہ رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو الیکشن بل 2017 کے تحت نئی انتخابی حلقہ بندیوں کیلئے مردم شماری کے عبوری اعداد و شمار کا استعمال کرنے کی اجازت دیدی۔نجی ٹی وی کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ لاء ڈویژن وفاقی حکومت کی ہدایت پر آئین کے آرٹیکل 51(5) میں ترمیم کے حوالے سے بِل ڈرافٹ کرچکا ہے۔بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کے وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے کمیٹی اجلاس کی صدارت کی جس میں چاروں صوبوں کے سینئر حکام اور نمائندگان شریک تھے۔واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 51(5) کے تحت چاروں صوبوں، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) اور وفاقی دارالحکومت کیلئے مردم شماری کے حتمی نتائج کے مطابق نشستیں مختص کی جاتی ہیں جبکہ یہ منصوبہ بندی کے لیے بھی ضروری ہے۔پاکستان ادارہ برائے شماریات کے مطابق مردم شماری کی حتمی رپورٹ اپریل 2018 تک مکمل ہوگی تاہم الیکشن کمیشن پہلے ہی یہ واضح کرچکا ہے کہ حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہونے میں 7 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی لاء ڈویژن نے دو اجلاس منعقد کیے تاکہ ای سی پی کو حلقہ بندیوں کیلئے عبوری اعداد و شمار کے استعمال کی اجازت کیلئے قانون میں ترمیم کیلئے تیار ہونے والے ڈرافٹ پر غور کیا جاسکے۔خیال رہے کہ حکومت نے 25 اگست کو ملک میں ہونے والی چھٹی مردم شماری کے عبوری نتائج جاری کیے تھے جن میں واضح ڈیموگرافک تبدیلیاں سامنے آئی تھی۔ان تبدیلیوں کے باعث قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کی از سر نو تعیناتی کی ضرورت کو محسوس کیا گیا۔رواں سال ہونے والی مردم شماری کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق 1998 میں ہونے والی گذشتہ مردم شماری کی نسبت کْل آبادی میں صوبوں کے حصے میں تبدیلیاں سامنے آئیں۔2017 میں کْل آبادی میں بلوچستان کا حصہ 1998 کے 4.96 فیصد کے بجائے 5.94 فیصد ہوگیا جبکہ 19 سالوں میں خیبر پختونخوا کا حصہ 13.41 فیصد سے بڑھ کر 14.69 فیصد ہوگیا کْل آبادی میں سے فاٹا کے حصے میں بھی کچھ اضافہ رجسٹر کیا گیا جو 1998 میں 2.40 تھا اور اب 2.41 فیصد ہوگیا ٗسندھ کا حصہ 23 فیصد سے بڑھ کر 23.05 فیصد جبکہ 19 سالوں میں اسلام آباد کا حصہ 0.61 فیصد سے بڑھ کر 0.97 فیصد تک جا پہنچا ہے۔پنجاب وہ واحد صوبہ ہے جس کا کْل آبادی میں موجود حصہ 55.95 سے کم ہو کر 52.95 فیصد ہوگیا۔ذرائع کے مطابق، اگر ان تبدیلیوں کی بنیاد پر نشستوں کی تعیناتی کی جاتی ہے تو ای سی پی کو الیکشن بل 2017 کے چیپٹر 3 کے مطابق نئی انتخابی حلقہ بندیاں کرنی ہوں گی۔

مردم شماری

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...