آزادحکومت کی تعلیم دشمنی کیخلاف 11ستمبرکو جلسہ بلوچ میں ہوگا،لطیف اکبر

آزادحکومت کی تعلیم دشمنی کیخلاف 11ستمبرکو جلسہ بلوچ میں ہوگا،لطیف اکبر

  



مظفرآباد( بیورورپورٹ )پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت آزادکشمیر نے تعلیمی پیکج بحالی کے حوالہ سے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف 14ستمبرکو قانون ساز اسمبلی میں ایڈوانچر کرنیکی کوشش کی تو پھر انکا حشر بھی ان کے قائد نواز شریف جیسا ہوگا۔اور ہر جگہ سارا ٹبر چور ہے ۔تعلیم دشمن مردہ باد کے نعرے لگیں گے ۔یہ مت سمجھیں کے عدالتی فیصلوں کو اس طرح مذاق بنانے دیا جائے گا۔اب فیصلہ عوامی عدالت میں بھی لیں گے اور حکومت کی تعلیم دشمنی کے خلاف پہلا جلسہ 11ستمبرکو بلوچ میں ہوگا۔چیف سیکرٹری بیوروکریسی کو زندگی میں پہلی مرتبہ کہہ رہا ہوں کہ وہ کسی منفی عمل کا حصہ نہ بنیں ، پیپلز پارٹی نے اپنے دورے حکومت میں بیروزگاری کو ختم کرنے کے لئے تعلیمی انقلاب برپا کیا پانچ یونیورسٹیز تین میڈیکل کالج چھے سو سے زائد تعلیمی ادارے قائم کیے موجودہ حکومت تعلیم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالتی فیصلوں کی دھجیاں اڑا رہی ہے ہم نے اپنے دور حکومت میں اپنے وسائل سے تعلیمی پیکج دیا حکومت سپریم کورٹ فیصلے کے مغاہر نیا تماشا کرنے جا رہی ہے اگر حکومت نے اسمبلی اجلاس میں غیر آئینی اقدام کرنے کی کوشش کی تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے حکومت بھی اپنے نااہل وزیر اعظم نواز شریف کی طرح عدالتی فیصلوں کا احترام نہیں کر رہی ہے ہم سپریم کورٹ کے شکرگزار ہیں جنہوں نے غریب عوام کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا ،اگر حکومت نے قانون سازی کرنے کی کوشش کی تو خراب حالات کی زمہ داری حکومت پر ہو گی گیارہ ستمبر حکومتی ناقص پالیسیوں کے خلاف بلوچ میں جلسہ کرینگے حکومت کے خلاف تعلیم دشمن مردہ باد کا نعرہ لے کر عوام کے پاس جائیں گے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے فیصلے میں پر عملدارمد کروایں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سابق وزراء محمد حنیف اعوان ،سید بازل علی نقوی ،سردار مبارک حیدر،شوکت جاوید میر،سید مجاز شاہ ،سید شجاعت علی کاظمی ،بشارت کیانی ،پرویز مغل ،شگفتہ نورین کاظمی ،شیخ اظہر،چوہدری مراد اور دیگر کے ہمراہ ایوان صحافت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے لوئر سے اپر تک تعلیمی ادارے بنائے ۔جبکہ ن لیگ نے ان اداروں کے خلاف رٹس دائر کیں اور انہیں ناکامی ہوئی ۔پی پی نے پسماندہ اضلاع نیلم،لیپہ ،فاروڈ کہوٹہ سمیت ہر جگہ ادارے اپ گریڈ کیے ۔موجودہ حکومت نے پیکج ختم کیا ۔عدالت نے بحال کیا ۔حکومت نے توہین عدالت کی ۔سیکرٹریز ضمانت پر باہر آئے ۔حکومت نے بدنیتی کرتے ہوئے پیکج کی آسامیوں کیلئے پیسے نہیں رکھے ۔اب حکومت ایک مرتبہ پھر پیکج پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کو سبوتاژ کرنے جا رہی ہے اور یہ حکمران اپنے قائد کی راہ پر چل پڑے ہیں ۔یہ بھی نااہل ہوں گے ہم توہین عدالت کی درخواست واپس نہیں لیں گے یہ لوگوں کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں ہم ایسا نہیں کرنے دینگے ۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے لوگ تعلیمی پیکج کے خلاف کسی بھی قانون سازی کو تسلیم نہیں کرینگے ۔اگر ایسی قانون سازی ہوئی تو اس کی ساری ذمہ داری چیف سیکرٹری آفس اور متعلقہ احکام پر ہوگی ۔ہم تعلیم دشمنوں کا قبر تک پیچھا کرینگے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...