حکومت برما میں ہونیوالے مظالم پر آوازبلند کرئے،مقررین

حکومت برما میں ہونیوالے مظالم پر آوازبلند کرئے،مقررین

  



حسن ابدال(تحصیل رپورٹر)حکومت غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے برما میں ہونے والے مظالم پر اپنی آواز بلند کرے۔سفارتی تعلقات کو فوری طور پر ختم کرتے ہوئے سفیر کو واپس بھجوایا جائے۔پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف ظلم کی داستانیں لکھی جا رہی ہیں مگر امت مسلمہ کے حکمرانوں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ترکی آج دنیا میں ایک مثال بن چکا ہے جو مسلمانوں کے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف عملی اقدامات کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار حسن ابدال میں برما میں ہونے والے مظالم کے خلاف نکالی گئی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔ ریلی بزم محبان مصطفیﷺ پاکستان کے زیر اھتمام نکالی گئی جس میں تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کی نمائندہ شخصیات اور شہریوں نے شرکت کی۔ریلی خواجہ نگر چوک سے شروع ہو کر مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی اڈا لاریاں پر جلسہ کی شکل اختیار کر گئی جہاں تمام جماعتوں کے قائدین نے خطاب کیا۔ریلی کے شرکاء نے کتبہ اٹھا رکھے تھے جبکہ اس موقع پر برما حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی جاتی رہی۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین جن میں امیر جماعت اسلامی اٹک اقبال خان۔سابق چیئرمین کفائت علی اعوان۔پی ٹی آئی کے الطاف حسین طافو۔محمد بشیر ۔ابو محمد فرحان الہٰی سمیت دیگر نمایاں شخصیات بھی شامل تھیں نے کہا کہ آج پوری دنیا میں مسلمانوں پر زندگی تنگ کی جا رہی ہے مگر امت مسلمہ کے حکمران ان مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو مضبوط بناتے ہوئے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر برما سے اپنے سفارتی تعلقات کو ختم کرتے ہوئے سفیر کو ملک سے نکال دے ۔مقررین نے کہا کہ مسلمانوں کا ماضی کبھی بھی اتنا کمزور نہیں رہا کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے قتل عام پر خاموش رہیں لیکن آج ہمارے حکمرانوں میں جرات نہیں رہی اور ان میں بیرونی دنیا کو للکارنے کی ہمت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ترکی ایک مثال بن چکا ہے جس نے برما کے مسلمانوں کے لیے نہ صرف آواز بلند کی بلکہ ان کی عملی مدد کے لیے بھی آگے بڑھا ہے ۔ہمارے حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ ان جیسی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھیں اور برما کے مسلمان بھائیوں کا قتل عام بند کروانے میں عملی کردار ادا کرے۔بعدازا ں ریلی کے شرکاء پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔اس موقع پر پولیس کی جانب سے سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...