بٹ خیلہ ، واپڈا لائنن کے قتل کیخلاف مظاہروں میں شدت

بٹ خیلہ ، واپڈا لائنن کے قتل کیخلاف مظاہروں میں شدت

  



بٹ خیلہ (بیورورپورٹ )واپڈا ملازم کے المناک قتل کے خلاف مظاہروں میں شدت آگیا، ملاکنڈ سمیت پورے صوبے میں پیر کے دن تمام واپڈا دفاتر بند، جلسے جلوس اور سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہروں کااعلان کردیاگیا۔پشاور ہسپتال کے جن سرکاری ڈاکٹروں نے مقتول کو علاج کی بجائے گھر کو رخصت کیا ان کو شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ، ڈویژن درگئی میں فاتحہ خوانی اور ایکسئن دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دن بھر جاری رہا، تمام دفاتر میں تالہ بند اور مکمل کام چھوڑ ہڑتال کیاگیا، صوبائی حکومت کی ناکامی پرمرکزی حکومت سے واپڈا ملازمین کو تحفظ فراہم کرنے کامطالبہ۔تفصیلات کے مطابق واپڈاپیسکو ڈویژ ن درگئی کے تمام سب ڈویژنوں میں لائین مین خائستہ رحمان کے المناک اور بے رحمانہ قتل کے خلاف مکمل تالہ بند ہڑتا ل کیاگیا۔واپدا کے سینکڑوں ملازمین نے ایکسئن درگئی کے دفتر کے سامنے احتجاجی کیمپ لگاکر دن بھر دھرنا دیا،مقتول کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔ اس موقع پر ڈویژنل چیئرمین گل زمین خان،محمد طارق، شاہ حسین خان، جاوید خان،گل زمین گلے،ملک نورزاد خان، ہاشم خان، رفیع اللہ خان، فاتح رحمان، نعیم خان،امجد علی، وہاب گل خان،گل شیرین خان، شیر محمد خان اور دیگر نے مقتول خائستہ رحمان کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ واپڈا ملازمین کاکام بجلی میں خرابی کودور کرنا اور حکومت کی طرف سے دیا جانے والا بجلی عوام کو پہنچانا ذمہ داری ہے ۔ سسٹم کی کمزوری، لوڈ شیڈنگ اور اوور لوڈنگ ہمارے بس میں نہیں۔ سٹیل ملوں کو چند دنوں کے اندر فیڈر بچھائے جاتے ہیں جبکہ عوام کیلئے منظور شدہ فیڈروں پر کام کا نہ ہونا متعلقہ سیاسی لوگوں کی ناکامی ہے۔انہوں نے مقتول خائستہ رحمان کے قاتل کے خلاف دہشت گردی دفعات کے تحت خصوصی عدالت میں مقدمہ چلانے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت ملاکنڈ میں واپڈا ملازمین کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوگئے ہیں کیونکہ اس سے واپڈاکے دفاتر کو جلاؤ گھیراؤ کے تحت کروڑوں روپے کانقصان پہنچایاگیاکئی واپدا ملازمین کو زخمی کیاگیا لیکن حکومت نے خاموشی اختیار کرلی اور اب لائین میں کو بھی قتل کیاگیا۔انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی مرکزی حکومت سے مطالبہ کیاکہ ہمیں تحفظ فراہم کیاجائے بصورت دیگر واپڈا ملازمین اپنے تحفظ کو یقینی بنانے تک غیر معینہ مدت تک دھرنا دینے پر مجبور ہوجائیں گے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...