زندگی میں کامیابی کا دارو مدار تعلیم پر منحصر ہے‘ اے سی مردان

زندگی میں کامیابی کا دارو مدار تعلیم پر منحصر ہے‘ اے سی مردان

  



پشاور(سٹاف رپورٹر) اسٹنٹ کمشنر مردان محمد عمران خان نے کہا ہے کہ کامیابی تمام تر دار ومدار تعلیم پرمنحصرہے جن قوموں نے ترقی کے منازل طے کی ہے تو اس کی اصل وجہ تعلیم ہے والد ین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرکے معاشرے کے ایک کارآمد شہری بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے غیر سرکاری تنظیم الف اعلان اور زمونگ جذبہ ویلفےئر سوسائٹی مردان کے زیر اہتمام خواندگی کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ واک سے خطاب کرتے ہوئے کیا واک کالج چوک سے شروع ہوکر مردان پریس کلب پر اختتام پذیر ہوا۔واک میں سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے مرد وخواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی اس موقع پر الف اعلان کے آر سی او سجاد احمد،زمونگ جذبہ ویلفےئر سوسائٹی کے چےئر مین محمد پرویز اور لیبر ایجوکیشن کے حسن حساس نے بھی خطاب کیا۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواندگی کی تعریف پاکستان میں کسی بھی زبان میں سادہ خط پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کے حامل افراد کو خواندہ کہتے ہیں خواندگی کے حوالے سے ریاست پاکستان کی آئینی ذمہ داریاں اور حکومتی عزم آرٹیکل 37 (ب) اور (ج)حکومت کم سے کم ممکنہ مدت کے اندر ناخواندگی کا خاتمہ کرے گی اور مفت اور لازمی ثانوی تعلیم مہیا کرے گی۔ فنی اور پیشہ وارانہ تعلیم کو عام طور پر ممکن الحصول اور اعلی تعلیم کو میرٹ کی بنیاد پر سب کے لیے مساوی طور پر قابلِ دسترس بنائے گی آرٹیکل 25 الف ریاست پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مذکورہ طریقہ کار پر جیسا کہ قانون کے ذریعے مقرر کیا جائے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی۔نیشنل پلان آف ایکشن ۔ 2013 تا 2018وفاقی وزارتِ تعلیم نے ملک میں تعلیم کی صورتِ حال کوبہتر بنانے کے لیے 2013 میں پانچ سالہ نیشنل پلان آف ایکشن شائع کیا۔ اس پلان کے مطابق حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ 2 سال کے اندر شرحِ خواندگی میں 50 فیصد بہتری لائی جائے گی۔ .3 2013 کے انتخابی منشور میں سیاسی جماعتوں کے وعدے پاکستان مسلم لیگ نواز صوبوں کے ساتھ مشاورت سے ملکی سطح پر 80 فیصد شرح خواندگی کو یقینی بنایا جائے گا پاکستان تحریکِ انصاف پاکستان میں شرحِ خواندگی بڑھانے کے لیے مالی اور انتظامی اقدامات کرے گی پاکستان پپیلز پارٹی شرحِ خواندگی کو 54 فیصد سے بڑھا کر 85 فیصد کیا جائے گا۔متحدہ قومی موومنٹ ملک میں شرح خواندگی اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے تعلقہ اور تحصیل کی سطح پر کمیونٹی مینیجمنٹ بورڈ کے ذریعے انتظامی اقدامات اٹھائے جائیں گے جماعتِ اسلامی پانچ سال کے عرصے میں 100 فیصد شرحِ خواندگی کو یقینی بنایا جائے گا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...