میڈیا ہاؤسز حملہ کیس ،فاروق ستار اور عامر خان کی ضمانتوں میں توثیق

میڈیا ہاؤسز حملہ کیس ،فاروق ستار اور عامر خان کی ضمانتوں میں توثیق

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان مخالف نعروں اور میڈیا ہاؤس حملے کے مقدمات میں ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار اور سینئر ڈپٹی کنوینئر عامر خان کی عبوری ضمانتوں میں توثیق کردی ہے۔ جمعہ کو کراچی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے روبرو پاکستان مخالف نعروں، میڈیا ہاؤسز پر حملہ اشتعال انگیز تقریر اور دہشتگردی سے متعلق مقدمات کی سماعت ہوئی۔ عدالت کے روبرو ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار اور سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان سمیت دیگر رہنما اور کارکنان پیش ہوئے۔ عدالت نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار اور اور سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان کی عبوری ضمانتوں کی توثیق کردی۔ عدالت نے دو مقدمات میں رہنماؤں کی ضمانت کی توثیق کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے فیصلہ سنانے کے بعد مقدمات کی سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کردی۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ22 اگست 2016 کے واقعات آپ کے سامنے ہیں۔ مجھ سمیت سیکڑوں نامعلوم افراد کے خلاف ایف ائی آر درج کی گئی تھیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ آج میری اور عامر خان کی ضمانتوں کی توثیق ہو گئی ہے۔ عدالتیں خوش اسلوبی کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کیس کی سماعت آگے بڑھے گی تو ہمارے موقف کی بھی حمایت ہوگی۔ فاروق ستار نے کہا کہ جس دن یہ واقعہ ہوا تھا اسی دن ہم نے ایو کیو ایم لندن سے اظہار لاتعلقی کردیا تھا۔ فاروق ستار نے کہا کہ برما کے حالات پر ہم نے سخت موقف اور پیغام بھیجا ہے۔ ہم نے عالمی ادارے سلامتی کونسل سب سے کہا ہے کہ وہ مداخلت کر کے وہاں کے حالات پر قابو پائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سینیٹ قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی میں برما کے حوالے سے قراد داد پیش کی ہیں۔ ہمیں برما کے ساتھ سفارتی تعلقات پر بھی نظر ثانی کرنا چاہیے۔ روہینگیا میں مسلمانوں پر اور سندھ میں مہاجروں کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے ،ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ فاروق ستار نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیں دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے تاکہ ہمارے ساتھ کچھ برا ہو سکے اور پیپلز پارٹی والوں کے لئے میدان صاف ہو سکے۔ آئی جی سندھ اچھے افسر ہیں جن پر کرپشن کے کوئی چارجز نہیں، جو حکومت سندھ کے فیصلوں کو نہیں مانتا پوری سندھ حکومت اسے ہٹانے کے لئے لگ گئی ہے۔ یہ سلاسل ہٹ دھرمی ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...